Ruling regarding poetic verses which negate the Aqeedah of Taqdeer (PreDestination) – Various 'Ulamaa

ایسے اشعار کا حکم جن میں عقیدۂ تقدیر کا انکار پایا جاتا ہے؟   

مختلف علماء کرام

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ  سے سوال ہوا: شاعر ابو القاسم الشابی کے اس شعر کا کیا حکم ہے:

’’إذا الشّعْبُ يَوْمَاً أرَادَ الْحَيَـاةَ ** فَلا بُدَّ أنْ يَسْتَجِيبَ القَـدَر‘‘

(اگر عوام اپنی حیات کے لیے اٹھ کھڑے ہوں     تو تقدیر بھی ان کی ماننے پر مجبور ہوجاتی)([1])

جواب: یہ تو بعینہ کفر ہے! جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ لوگ علم سے دور ہیں، جانتے ہی نہیں کہ اللہ تعالی کے تعلق سے کیا بولنا جائز ہے اور کیا نہیں۔ اور کیا غیراللہ کے تعلق سے بولنا جائز نہیں۔ یہ غفلت میں سے ہے۔ انہی اسباب کے سبب اس شاعر نے یہ بات کردی۔ اور بعض عربی ریڈیوز نے اسے قومی عربی ترانہ بنادیا! چناچہ شاعر کہتا ہے کہ:

’’إذا الشّعْبُ يَوْمَاً أرَادَ الْحَيَـاةَ ** فَلا بُدَّ أنْ يَسْتَجِيبَ القَـدَر‘‘

یعنی تقدیر عوام کی مشیئت کے تحت ہے! جبکہ یہ اللہ تعالی کے اس فرمان کے بالکل برعکس ہے کہ فرمایا:

﴿وَمَا تَشَاءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ (التکویر: 29)

(اور تمہاری چاہت نہیں چلتی وہی ہوتا ہے جو اللہ تعالی چاہے، جو سب جہانوں کا رب ہے)

اے اللہ ہمیں ہدایت پانے والوں کے ساتھ ہدایت دے۔ اورہمارے دل ٹیڑھے نہ کر، اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا ءفرما، بے شک توہی بے حد عطا ءکرنے والا ہے۔

(مجلة الأصالة  العدد: 17, صفحة: 71)

 

شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ سے پوچھا گیا شاعر کے اس قول کا کیا حکم ہے:

’’إذا الشّعْبُ يَوْمَاً أرَادَ الْحَيَـاةَ ** فَلا بُدَّ أنْ يَسْتَجِيبَ القَـدَر‘‘؟

جواب: یہ فضول کلام ہے! ’’فَلا بُدَّ أنْ يَسْتَجِيبَ القَـدَر‘‘ یعنی انسان تقدیر پر فرض کرتا ہے کہ وہ اس کی بات ماننے پر مجبور ہو!؟  جبکہ اس کےبرعکس تقدیر (اللہ تعالی کی طرف سے )انسان پر فرض قرار دیتی ہے۔ شاعر کا یہ کلام ،اللہ ہی اس کے عقیدے کو بہتر جانتا ہے، یا پھر وہ جاہل ہے جانتا نہیں، بہرحال یہ ایک شاعر ہی کا کلام ہے۔ جبکہ اللہ تعالی شاعروں کے بارے میں فرماتا ہے:

﴿وَالشُّعَرَاۗءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ، اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِيْ كُلِّ وَادٍ يَّهِيْمُوْنَ﴾ (الشعراء: 224)

(اور شعراء، ان کے پیچھے تو گمراہ لوگ ہی لگتے ہیں، کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں)

 اور اہل بلاغہ شعر کے بارے میں کہتے ہیں: ان میں سے بہترین وہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ جھوٹا ہوتا ہے!

یہ شاعرانہ کلام جو اوپر بیان ہوا باطل ہے بلاشبہ۔ یہ مبالغہ ہے اور شر ہے۔ یہ الشابی یا نامعلوم الشابی یا الشامی کی طرف منسوب ہے جو الجزائر سے تعلق رکھنے والا معاصر شعراء میں سے ہے۔ بعض لوگ، بعض صحافی، غلط قسم کی عبارات لکھ جاتے ہیں: ہائے تقدیر کا ظلم! اس پر تقدیر نے ستم ڈھایا! تقدیر کا مذاق! یہ تمام باتیں باطل ہیں جو کفر تک لے جاتی ہیں العیاذ باللہ۔ کیا تقدیر مذاق کرتی ہے، ظلم کرتی ہے؟!۔

 

شیخ فوزان حفظہ اللہ ہی دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: تقدیر سب باتوں سے اوپر اور غالب ہوتی ہے۔ ان دنوں ایک شعر زبان زد عام ہے جو اسلامی ممالک میں سے کسی شاعر نے کہا ہے جو یہ ہے کہ:

إذا الشعب يومًا أراد الحياة ***** فلا بد أن يستجيب القدر

اس بارے میں مجھ سے بہت سوالات کیے گئے ہیں۔

 

اس پر غوروفکر کرکے یہ جواب دیتا ہوں کہ:

1- اگر شعر سے مراد یہ ہے کہ عوام کا ارادہ اللہ تعالی کی تقدیر پر غالب آجاتا ہے تو یہ ایک شاعر کی بڑ ہے  ، جائز نہیں کہ کوئی مسلمان ایسا کلام منہ سے نکالے، یہ ایک شاعر کی سنگین غلطی ہے جسے دہرایا  نہ جائے۔ اور شاعروں کا اس قسم کی بڑ مارنا اور لاابالی باتیں کرنا معروف ہے فرمان الہی ہے:

﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ، اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِيْ كُلِّ وَادٍ يَّهِيْمُوْنَ، وَاَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَ، اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّانْتَــصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا  ۭ وَسَـيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ﴾ (الشعراء: 224-227)

(اور شعراء، ان کے پیچھے تو گمراہ لوگ ہی لگتے ہیں، کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں، اور یہ کہ وہ کہتے ہیں جو کرتے نہیں، مگر وہ (شعراءان جیسے نہیں) جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور اللہ کو بہت یاد کیا اور مظلومیت کے بعد انتقام لیا، اور عنقریب وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا، جان لیں گے کہ وہ لوٹنے کی کون سی جگہ لوٹ کر جائیں گے)

2- اور اگر شاعر کا مقصد یہ ہے کہ عوام اپنے مطلوب کو حاصل نہیں کرسکتی الا یہ کہ اللہ تعالی نے ان کے لیے اس کا حصول مقدر کردیا ہو تو یہ معنی صحیح ہے، ایک اور شاعر نے ایسا کہا کہ:

ما كل ما يتمنى المرء يدركه ***** تأتي الرياح بما لا تشتهي السفن

3- اور اگر شاعر کا یہ مقصد ہو کہ اگر عوام کچھ چاہتی ہے تو لازم ہے کہ اس کے حصول کے لیے وہ شرعی اسباب کو اختیار کرے۔ تو پھر یہ امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اس قول کے باب میں سے ہے کہ جب وہ ایسے شہر میں جانے سے رک گئے جہاں وباء پھیل چکی تھی، تو ان سے کہا گیا:

’’أَتَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ‘‘([2])

(کیا آپ اللہ تعالی کی تقدیر سے فرار اختیار کررہے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں اللہ کی ایک تقدیر سے فرار اختیار کرکے دوسری تقدیر کی طرف جارہے ہیں)۔

یعنی ہم وہ بچاؤ کے اسباب وحفاظتی تدابیر استعمال کررہے ہیں جن کے اختیار کرنے کا خود اللہ تعالی نے حکم دیا ہے اور یہ بھی اللہ تعالی کی تقدیر سے ہی ہیں۔ کیونکہ اس کائنات میں کچھ بھی نہیں ہوسکتا مگر وہی جو اللہ تعالی چاہے۔ پس یہ امر مشروع ہے اور اللہ تعالی نے ہمیں اپنی اطاعت کا حکم دیا ہے تاکہ اس کے عقاب وعذاب سے بچ سکیں جو اس نے اپنی نافرمانی کرنے والوں کے لیے مقدر کیے ہوئے ہیں۔ بہرحال یہ ایک مجمل سا شعر ہے جائز نہیں کہ اسے پڑھا جائے یہاں تک کہ اس کا صحیح طور پر معنی سمجھا نہ جائے اور لوگوں پر اسے واضح نہ کیا جائے۔

والله الموفق والهادي إلى سواء السبيل وصلى الله وسلم على نبينا محمد وآله وصحبه.

 

كتبه:صالح بن فوزان الفوزان

عضو هيئة كبار العلماء

2 / 4 / 1432 هـ

(شیخ صالح الفوزان کی آفیشل ویب سائٹ سے)

 


[1] اس قسم کے اشعار اردو زبان میں بھی پائے جاتے ہیں جیسے: (نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں)، (تقدیر کے پابند ہيں نباتات وجمادات مومن تو فقط حکم الہی کا ہے پابند)، (کی محمد سے وفا تو ہم تیرے ہیں، یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں) اور (خود ہی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے یہ پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے)   وغیرہ۔  (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

 

 

[2] صحیح بخاری  باب مَا يُذْكَرُ فِي الطَّاعُونِ اور صحیح مسلم 2221 میں پورا واقعہ موجود ہے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)