How can the ilm of Jarh wat Ta'deel draw oneself near to Allaah? – Shaykh Rabee' bin Hadee Al-Madkhalee

علم جرح وتعدیل کے ذریعے کس طرح سے اللہ تعالی کی عبادت کو بجا لایا جاتا ہے؟

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سا‏ئٹ سحاب السلفیۃ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: سائل کہتا ہے  اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے۔ ہم علم جرح وتعدیل جو کہ اشرف العلوم ہے کے ذریعے کس طرح سے اللہ تعالی کی عبادت بجالاتے ہیں؟

 

جواب: اگر آپ اس علم، ورع، زہداور اخلاص لوجہ اللہ کے مرتبے تک پہنچ جائیں گے تو عنقریب جان لیں گے کہ کیسے اس کے ذریعے تقرب الہی حاصل ہوتا ہے، اور آپ اس کے ذریعے دین کا دفاع وحفاظت کرتے ہیں۔ پس علم جرح وتعدیل ایک عظیم علم ہے ۔ جس میں دست کمال محض بعض مخصوص افراد ہی رکھتے ہيں۔ یہاں تک کہ کبار حفاظ حدیث تک کو علماء کرام نے علماء جرح وتعدیل میں شمار نہیں فرمایا۔ اور میں آپ کو یہ کہتا ہوں کہ میں علماء جرح وتعدیل میں سے نہیں۔ اور میں اپنے بھائیوں کو اس غلو کو ترک کرنے کی نصیحت کرتا ہوں (بار ک اللہ فیکم)۔ میں تو بس ایک ناقد ہوں ناقد۔ جس نے بعض معین افراد کی ان کی اخطاء پر تنقید کی ہے تو لوگوں نے اسے بڑھا چڑھا دیا ہے (بار ک اللہ فیکم)۔ پس میں اللہ تعالی کے حضور اس غلو سے بری ہوں۔ نہ کہو کہ شیخ ربیع جرح وتعدیل کے امام ہیں کبھی نہيں۔ میں اللہ تعالی کو گواہ کرتا ہوں کہ میں اس کلام کو ناپسند کرتا ہوں۔ اے بھائیوں اس قسم کی مبالغہ آرائیاں چھوڑ دو۔ اللہ کی قسم! ایک زمانے سے میری یہ فطرت رہی ہے کہ مجھے ا س قسم کی باتیں ناپسند ہیں۔ اور جب میں لوگوں کے اس قول کو  دیکھتا ہوں کہ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ امام الآئمہ  ہیں، اللہ کی قسم وہ واقعی ایک امام تھے، لیکن امام الآئمہ کا لقب جو انہیں دیا جاتا ہے تو میں اللہ کی قسم اسےبھاری سمجھتا ہوں۔ اور یہ القاب مسلمانوں میں داخل ہوگئے حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھو کیا تھے: عمر نے فرمایا، عثمان نے فرمایا، علی نے فرمایا ، فلاں نے فرمایا حالانکہ ہم تو ان کے جوتوں تک نہیں پہنچتے(بارک اللہ فیکم)!! ان بھاری بھرکم القاب کے ذریعے لوگوں کو مرعوب کرنا چھوڑ دو۔ جس کے پاس علم ہے اور وہ منہج سلف کو جانتا ہے بس (دلیل کے ساتھ) نقد کرے بات ختم۔ علماء جرح وتعدیل نے ہمارے لیے کذاب ، متروک، سیء الحفظ اور آخر تک لوگوں کے حالات بیان فرمادیے ہيں۔ اسی طرح سے ثقات وحفاظ آخر تک سب کے بارے میں بتادیا ہے۔ ہم تو بس ناقدین کی حیثیت رکھتے ہيں۔ میں ایک کمزور سا ناقد ہوں جس نے کچھ ایسی اخطاء پر تنقید کی ہے جس پر دوسرے خاموش تھے یا اس سے غافل تھے۔ ان چیزوں کو چھوڑ دو (بارک اللہ فیکم)۔

 

یعنی جس کے پاس علم ہو اور وہ منہج سلف کو جانتا ہے اور اپنے سامنے واضح بدعت دیکھتا ہے تو اسے لوجہ اللہ بیان کرے، لوجہ اللہ نصیحت کرے اس دین کی حمایت کی خاطر۔ بدعتی آکر دین کی صورت بگاڑنا چاہتا ہے اپنی بدعت کے ذریعے ، بلاعلم اللہ تعالی کے بارے میں کلام کرتا ہے اور دین کے نام پر اپنی گمراہی کو نشر کرتا ہے خواہ اس کی غلطی عقیدے میں ہو، یاعبادت میں، یا منہج، سیاست، اقتصاد یا کسی بھی چیز میں برابر ہے کہ اسے دلائل کےساتھ رد کیا جائے۔

 

آج سلفیت کے منظرعام  پر غلو سرایت کرتا جارہا ہے ایسی ایسی مبالغہ آرائی وبھاری بھرکم القابات جو نشر کیے جاتے ہیں یہاں تک کہ بعض کا معاملہ غلو میں روافض و صوفیہ تک پہنچ جاتا ہے۔ اور ہم اللہ تعالی کے حضور اس غلو سےبرأت کا اظہار کرتے ہیں۔ وسطیت واعتدال کے تعلق سے منہج سلف کو اختیار کرواور ہر شخص کو اس کے مرتبے پر رکھو بنا کسی قسم کے غلو کے (بارک اللہ فیکم)۔ ہم طالبعلم کے درجے میں ہیں اور ہم نے بعض خطائوں پر تنقید کی ہے کیونکہ ہمارے پاس اس سے متعلق کچھ معرفت تھی۔ پس اے بھائیوں میں آپ کو وصیت کرتا ہوں کہ سلف صالحین کے طریقے پر چلیں تعلماً، اخلاقاً ودعوتاً، نہ تشدد ہو، نہ غلو ہو۔ دعوت میں حلم وبردباری،  رحمت واخلاق عالیہ ہوں تو اللہ کی قسم سلفی دعوت پھولے پھلے گی۔

 

آج سلفی دعوت اندر ہی اندر گھل رہی ہے اور سلفی نہیں بلکہ سلفیت کی طرف منسوب ہونے والے  جو بعض ظلماً اس منہج کی طرف منسوب ہوجاتے ہیں لوگوں کے سامنے اس دعوت کو اندر ہی اندر کھائے جارہےہیں اور اپنے اس طریقے سے وہ لوگوں کے سامنے اس سلفی دعوت کی صورت بگاڑ کر پیش کررہے ہیں۔ پس میں نصیحت کرتاہوں کہ اللہ تعالی کا تقویٰ اختیار کیا جائے اور علم نافع حاصل کیا جائے، عمل صالح کیاجائے اور لوگوں کو علم وحکمت کے ساتھ دعوت دی جائے۔

 

اے بھائیوں انٹرنیٹ ویب سائٹس اب قبیح صورت اختیار کرگئی ہیں اور سب  ان لوگوں کا مذاق اڑا رہے ہيں جو سلفی کہلاتے ہیں۔ ان سے تمسخر کرتے ہيں اور خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں (بارک اللہ فیکم)۔

 

جس نے آپ میں سے تفسیر پڑھی ہے اور اسے سمجھتا ہے تو وہ لوگوں کے لیے تفسیر پر مقالات پیش کرے۔ احکام، اخلاق اور عقائد سے متعلق آیات لوگوں میں نشر کرے بات ختم یہی دعوت ہے۔ جسے حدیث میں تمکن حاصل ہے (بارک اللہ فیکم) تو وہ معانی حدیث اور اس کے متضمن حلال وحرام واخلاق وغیرہ سے متعلق احکام نشر کرے۔ دنیا کو علم سے بھر دو۔ لوگوں کو اس علم کی حاجت ہے۔

 

ان جھگڑوں اور شوروشغب نے سلفی منہج کے شفاف چہرے کو بگاڑ دیا ہے اور لوگوں کو اس سے متنفر کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ان جھگڑوں اور مجادلو ں کو چھوڑ دو چاہے انٹرنیٹ پر ہوں یا پھر کسی بھی میدان میں ہوں، اور کسی بھی ملک میں ہوں۔ لوگوں کے سامنے علم نافع پیش کرو۔ جدال میں نہ لوگوں کے ساتھ داخل ہو نہ اپنوں میں۔ آپ نے اس کتاب میں پڑھا کہ سلف مناظروں سے دور رہنے کو کہتے تھے۔ سوائے اس حالت میں کہ اشد ضرورت ہو مناظرہ نہ کرو، اور سوائے عالم کے کوئی مناظرہ نہ کرے جو اہل بدعت کو قلع قمع کرسکتا ہو۔ آپس میں باہمی خصومات میں داخل نہ ہو۔ اگر کسی سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو اسے اہل علم کی طرف پھیر دو خود کسی گھن چکروں اور افتراء پردازی میں داخل ہونے کی ضرورت نہيں۔ کیونکہ یہ سلفی دعوت کے ضیاع کا سبب بنتی ہے۔ اور ایسے بلیغ ضرر کا سبب بنتی ہے جس کی تاریخ میں نظیر نہيں۔

 

ان مجرمانہ وسائل میں مددگار یہ شیطانی انٹرنیٹ ہے جو ان مشاکل کو پھیلانے میں مساعدت کرتا ہے۔جس کے دماغ میں جو خناس ہوتا ہے اسے انٹرنیٹ پر ہی انڈیل دیتا ہے۔ ان چیزوں کو چھوڑ دو۔ علم کے ساتھ بات کرو جو تمہیں اور تمہاری دعوت کو شرف بخشے گا۔ جس کے پاس علم نہیں تو وہ لوگوں کے لیے کچھ نہ لکھے نہ انٹرنیٹ پر اور نہ اس کے علاوہ (بارک اللہ فیکم)۔

 

دلوں کے حقد وکینے سے بچو ورنہ اللہ کی قسم آپ اس دعوت کو جیتے جی مار دیں گے۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ میں سے کوئی اس بلاء (انٹرنیٹ وغیرہ مجادلوں، بے علم تحریروں) میں مشارکت نہ کرے۔ اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ آپ کو اور ہمیں سنت پر ثابت قدمی عطاء فرمائے۔

 

غور سے سنو میرے بھائیوں جس کے پاس علم ہے اور اسے اس پر دسترس حاصل ہے تو وہ انٹرنیٹ پر وہی کچھ لکھے جو لوگوں کے لیے نفع بخش ہو خواہ تفسیر ہو جبکہ اسے پورا وثوق حاصل ہو تو لکھے اس ضمن میں عقائد، اخلاق واحکام اور آخر تک سب بیان کرے (بارک اللہ فیکم)۔ اسی طرح سے تفسیر ایک بحر ہے بحر ، اللہ کی قسم ہم اس بحر میں سے چلو بھرتے ہیں ۔ جو بھی احادیث آپ کے پاس ہيں ان کی شرح کیجئے۔ اور اس بارے میں ماہر علماء کرام کی شروحات سے مدد لیں۔ پھر لوگوں کے لیے پیش کریں عقیدے میں، عبادت میں، اخلاق میں نرم، حکیمانہ اور بردباری بھرے اسلوب کے ساتھ، لوگوں کو نفع پہنچے گا۔  اللہ کی قسم آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ سلفیت  کیسے ترقی کرتی ہے، کیسے پروان چڑھتی ہے اور کیسے یہ دنیا اس کی روشنی سے جگمگا اٹھتی ہے۔

 

لیکن آج پوری سلفیت ان طریقوں کی وجہ سے ظلمت کا شکار ہے۔ میں آپ کو انٹرنیٹ اور مجالس وبیٹھکوں میں جدال وخصومات ترک کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ میں آپ کو اس کی نصیحت کرتا ہوں (بارک اللہ فیکم)۔ جس کے پاس علم ہے وہ علم کے ساتھ بات کرے، علم کے ساتھ لکھے، علم کے ساتھ دعوت دے، حجت وبرہان کے ساتھ دعوت دے۔ اختلافات سے بچو۔ اور فرقے کے جو اسباب ہیں انہیں اپنے مابین پنپنے نہ دو۔ اگر کسی انسان سے کوئی خطاء سرزد ہوجاتی ہے تو اسے علماء کرام پر پیش کرو ۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کا علاج کیسے کیا جاتا ہے جانتے ہیں۔

 

اللہ تعالی آپ کو برکت دے، راست باز رکھے، اور دلوں میں باہمی محبت ڈال دے اور برکت دے۔