Dangers of Taking Ruqya (Exorcism) as a Profession – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

رقیہ (دم جھاڑ) کوباقاعدہ کام وپیشہ بنالینے کا خطرہ   

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الفتاوى1/ 62 – 63۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

مدینہ میں جو پہلے دم جھاڑ کرنے والے تھے وہ ہمارے ہم جماعت تھے۔ اور وہ بہت اچھے سلفی تھے۔ اور مسجد نبوی میں پڑھایا کرتے تھے۔ اللہ کی قسم مدینہ میں ان کا بہت اثر تھا صوفی نوجوانوں میں ، دوسروں سے زیادہ ان سے متاثر تھے، لیکن پھر کیا، شیطان ان کے پاس آیا! اللہ کی قسم انہوں نے اس میں قدم رکھنے سے پہلے مجھ سے مشورہ کیا تھا کیونکہ وہ میرے ہم جماعت ودوست تھے مجھ سے مشورہ کیا اور کہا: یا شیخ ربیع! میں نے فلاں کو رقیہ سکھایا، اب وہ رقیہ کرتا ہے اور پیسے بھی لیتا ہے کبھی تو چودہ ہزار ریال تک لے لیتا ہے!!

 

 میں نے کہا: میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں اس باب میں داخل نہ ہونا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ لوگ ورنہ عاملوں اور جادوگروں کے پاس جایا کریں گے۔ میں نے کہا: آپ اس کے مسؤول نہیں۔ اور میں نے کہا: آپ جادوگروں اور عاملوں پر کوئی دسترس نہیں رکھتے؟ کہا: ہاں۔ میں نے کہا: آپ وہ کریں جو داعیان الی اللہ کرتے ہیں۔ شیخ عبداللہ القرعاوی رحمہ اللہ کو دیکھ لیں وہ جب ہمارے علاقے میں آئے تو بہت سے لوگ اتنے مریض تھے کہ صاحب فراش ہوچکے تھے، اٹھنے تک کی سکت نہ تھی۔ کس وجہ سے؟ جنات کی وجہ سے، اور روح قبض کرنے کے دعویدار حال ودھمال ڈالنے والے لوگوں وغیرہ کی وجہ سے۔ وہ گھر سے نکلتے تھے تو رات کے وقت درختوں پر سے اور راستوں میں جنات چڑھ جاتے تھے۔ ان پر شیاطین کا تسلط تھا ان جاہلوں کے پاس توحید نہ تھی۔ پس آپ آئے اور توحید کو نشر کیا کوئی دم جھاڑ وغیرہ نہ کیا اور یہ تمام باتيں ختم ہوگئیں۔ جب توحید و علم کا  پرچار ہوا تو یہ تمام باتیں ختم ہوگئیں۔  جب توحید وعلم عام ہوتا ہے تو اس قسم کی اشیاء چلے جاتی ہیں اور زائل ہوجاتی ہیں۔ اور جب بھی جہالت کا دور دورہ ہوتا ہےتو جادوگر، کاہن اور شیاطین وغیرہ کی کثرت ہوجاتی ہے۔ اور ایسی حالت میں جادوگروں، کاہنوں اور شیاطین میں باہم تعاون ہوتا ہے۔

 

پس میں نے اسے نصیحت کی کہ وہ کام کرو جو مصلحین کرتے ہیں یعنی توحید کی دعوت اور شرک وخرافات کے خلاف جنگ  جس کے نتیجے میں شیاطین خود انہیں چھوڑ کر بھاگ جائیں گیں پھر شیاطین یا جادو وغیرہ سے بچنے کے لیے کسی دم جھاڑہ کرنے والے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ لیکن وہ نہ مانا اور اس دم جھاڑ کے کام میں لگ گیا! پھر اس کے بعد کیا ہوا۔ لوگ اس کی طرف کھنچتے چلے آئے کوئی ریاض میں ہے تو کوئی تبوک میں اور کوئی جدہ میں۔ چناچہ اس نے اخبار میں لکھا کہ شیطان انسان میں داخل نہیں ہوسکتا!! حالانکہ جب وہ لوگوں پر دم کیا کرتا تھا تو سختی کے ساتھ اس انسان کی پٹائی کرتا تھا! اور (جن سے مخاطب ہوکر) کہتا تھا: نکلو اس میں سے اے اللہ کے دشمن نکلو! یعنی وہ اس بات کا اعتراف کیا کرتاتھا کہ شیطان انسان کے اندر داخل ہوسکتا ہے!! پھر جب اس کی طرف لپکنے والے لوگوں کی کثرت ہوگئی تو کہنے لگا: شیطان انسان کے اندر داخل ہوہی نہیں سکتے!! یہ سب کھلواڑ وحیلے بازی کے سوا کچھ نہیں۔