Low number of attendees at the Duroos of 'Ulamaa – Shaykh Muhammad bin Umar Bazmool

علماء کے دروس میں کم لوگوں کی حاضری     

فضیلۃ الشیخ محمد بن عمر بازمول حفظہ اللہ

(سنئیر پروفیسر جامعہ ام القری ومدرس مسجد الحرام، مکہ مکرمہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: بازمول ڈاٹ کام۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

مجھے بعض طلبہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے ان کے بعد از فجر درس کے متعلق کہا گیا جو کہ طائف میں واقع ان کی مسجد میں ہوتا تھا کہ : یا شیخ اگر آپ فجر کے بعد کچھ آرام کرلیں تو بہتر ہے اور اس کے علاوہ دیگر دروس پر اکتفاء کریں کیونکہ فجر والے درس میں بہت کم لوگ حاضر ہوتےہیں۔ شیخ رحمہ اللہ نے پوچھا: کتنے لوگ آتے ہیں؟ کہا: سات سے زیادہ نہیں۔ آپ نے فرمایا: ان میں خیر وبرکت ہے ان شاء اللہ ہم درس جاری رکھیں گے۔

حالانکہ اگر آپ اس قوم (ہمارے مخالفین) کو دیکھیں تو وہ اپنے دروس وتقاریر میں کثرتِ حاضرین کا ہم پر دھونس جماتے ہیں۔۔۔

مجھے الجزائر سے ایک بھائی نے بتایا کہ فلاں شخص اس نے داعیانِ فتنہ میں سے ایک کا نام لیا اگر اس کاکوئی علمی درس ہوتا ہے تو کوئی حاضر نہيں ہوتا سوائے چند لوگوں کے۔۔۔اور اگر اس کا درس سیاسی مسائل اور حکومت مخالفت محاذ آرائی سے متعلق ہوتا ہے تو لوگوں کی کثیر تعداد آتی ہے۔۔۔میں نے اس سے کہا: یہ بات بالکل ویسی ہی ہے جیسا کہ ایک شخص کے متعلق مجھے کسی نے بتایا تھا  کہ جدہ میں جب اس کا درس عقیدے کی شرح پرہوتا تھا تو حاضرین بہت قلیل ہوتے تھے اور یہ درس عصر کے بعد ہوا کرتا تھا جبکہ اسی کا درس مغرب کے بعد حالات حاضرہ اور حکومت مخالف محاذ آرائی پر ہوتا تو مسجد کھچا کھچ بھر جاتی۔۔۔

فلا حول و لا قوة إلا بالله۔۔۔اب حاضرین کی کثرت علم کے لیے نہيں دیگر اغراض کے لیے ہوکر رہ گئی ہے۔۔۔اور یہ زیادہ حاضرین جمع کرنے کا حربہ اب ولولہ انگیزی اور تحریکی قسم کے جذبات ابھارنا بن چکا ہے ناکہ قواعد علم وایمان کا لوگوں کے دلوں میں راسخ کرنا۔