Is criticizing the ruler upon pulpits from the Manhaj of Salaf? – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah bin Baaz

کیا برسر ِمنبر حکومت پر تنقید کرنا سلف کا منہج ہے؟

حکام کو نصیحت کے بارے میں سلفی منہج کیا ہے؟

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن بازرحمہ اللہ   المتوفی سن 1420ھ

(سابق مفتئ اعظم، سعودی عرب)

مصدر: المعلوم من واجب العلاقة بين الحاكم والمحكوم س 10۔

ترجمہ: طارق علی بروہی

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: کیا برسرِمنبر حکومت پر تنقید کرنا سلف صالحین کا منہج ہے؟ اور حکمران کو نصیحت کرنے کے بارے میں سلف صالحین کا کیا منہج ہے؟

 

جواب: حکمرانوں کے عیوب کی تشہیر کرنا اور انہیں برسرِمنبر بیان کرنا سلف صالحین کا منہج نہیں کیونکہ اس کی وجہ سے ہنگامہ آرائی ہوگی اور معروف کام میں بھی حکام کی نہ سنی جائے گی اور نہ اطاعت کی جائے گی، اور لوگوں کو ایسے کام میں مگن کرنے کا باعث ہوگی جو انہیں نقصان دے گا فائدہ نہيں۔

 

لیکن جو طریقہ حکمران کو نصیحت کرنے کا سلف میں رائج تھا وہ خفیہ طور پر آپس میں تھا یا خط لکھ کر یا ایسے علماء سے رابطے کے ذریعے جن کی پہنچ حاکم تک ہو تاکہ وہ اسے خیر کی جانب متوجہ کرسکیں۔ اور یہاں منکر کا انکارفاعل کا ذکر کیے بغیر کرنا چاہیے چناچہ زنا کا شراب نوشی کا سودخوری کا انکار کریں اس میں ملوث ہونے والے کا نام لیے بغیر۔ پس یہی کافی ہوگا کہ اس برائی کا انکار کریں اور اس  سے ڈرائیں اس کے مرتکب کا ذکر کیے بغیر چاہے حاکم ہو یا اس کے علاوہ کوئی بھی۔

 

جب عہد عثمانی میں فتنہ برپا ہوا تھا تو بعض لوگوں نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کہا کہ: کیا آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بات نہیں کرتے؟ تو انہوں نے جواب دیا:

’’أَتَرَوْنَ أَنِّي لَا أُكَلِّمُهُ إِلَّا أُسْمِعُكُمْ، وَاللَّهِ لَقَدْ كَلَّمْتُهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ، مَا دُونَ أَنْ أَفْتَتِحَ أَمْرًا لَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ فَتَحَهُ‘‘([1])

(کیا ضروری ہے کہ میں جو بات ان سے کروں تو تمہیں بھی سناؤ؟ اللہ کی قسم میں نے ان سے بات کی ہے جو میرے اور ان کے درمیان تھی بس، تاکہ میں کہیں ایسی بات کا سبب نہ بن جاؤ کہ جس کی ابتداء کرنے والا میں نہیں بننا چاہتا)۔

 

اور جب خوارج نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں شر کا دروازہ کھولا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر عوام کے سامنے انکار کرنا شروع کردیا تو پھر ایسے فتنے، قتال اور فساد کا اتمام ہوا جس کے آثار سے آج تک لوگ متاثر ہیں۔ یہاں تک کہ سیدنا علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین فتنہ برپا ہوگیا یہی  قتل عثمان رضی اللہ عنہ بھی اس کے اسباب میں سے تھا۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بہت بڑی تعداد اسی علانیہ انکار کے سبب سے شہید ہوئی۔ اور علانیہ حکومت کے عیوب بیان کرنا یہاں تک کہ لوگ اپنے حاکم کے خلاف غیض وغضب سے بھر جائیں اور پھر قتال شروع ہوجائے۔ اللہ تعالی سے ہی عافیت کا سوال ہے۔ (شیخ کا کلام ختم ہوا)

 

آخر میں ہم آپ کے سامنے سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کریں گے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے:

’’مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْصَحَ لِذِي سُلْطَانٍ فَلا يُبْدِهِ عَلانِيَةً، وَلَكِنْ يَأْخُذُ بِيَدِهِ فَيَخْلُوا بِهِ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْهُ فَذَاكَ، وَإِلا كَانَ قَدْ أَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ‘‘([2])

(جو کوئی حاکم وقت کو نصیحت کرنا چاہتا ہو تو اسے علانیہ نہ کرے بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر تنہائی میں لے جاکر نصیحت کرے۔ اگر وہ اس سے قبول کرلیتا ہے تو ٹھیک، ورنہ اس کے ذمے جو تھا اس نے ادا کردیا ہے)۔

 


[1] صحیح بخاری 3267، صحیح مسلم 2992 اور احمد وغیرہ میں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی اس الفاظ والی حدیث میں آیا ہے ’’يجاء بالرجل يوم القيامة فيلقى في النار…‘‘۔

 

[2] کتاب السنۃ لابن ابی عاصم صححہ الالبانی 1096اس کے علاوہ مسند احمد اور ابن عساکر میں بھی ہے۔