Introduction of Emaan – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

تعارفِ ایمان

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: دروس من القرآن الکریم۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

ایمان کی تعریف

عربی لغت میں ایمان کا معنی ہے تصدیق کرنا یعنی کسی غائب شیء کے متعلق خبر کی تصدیق کرنا جس کے ساتھ خبردینے والے پر مکمل اعتماد ہو اس طور پر کہ تصدیق کرنے والا خبردینے والے کی خبر کے متعلق مکمل امان میں ہو(کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہا دھوکہ نہیں دے رہا)۔

جبکہ شرعی اعتبار سے ایمان کی تعریف یہ ہے:

’’القول باللسان، والتصدیق بالقلب، والعمل بالجوارح، یزید بالطاعۃ وینقص بالمعصیۃ‘‘

(ایمان نام ہے زبان سے اقرار، دل سے تصدیق، اعضاء وجوراح سے عمل کرنے کا جو نیکی کرنے سے بڑھتا ہے اور گناہ کرنے سے کم ہوتا ہے)۔

 یہ سب باتیں اس میں شامل ہیں ناکہ لغوی معنی کی طرح محض تصدیق کرنا۔

جولوگ یہ کہتے ہیں کہ ایمان محض تصدیق کرنے کا نام ہے وہ مرجئہ ہیں۔ اور یہ لوگ صریح غلطی پر ہیں۔ ایمان ان سب مندرجہ بالا امور کے مجموعے کا نام ہے اور اس کی یہ شرعی تعریف دلائل سے اخذ کی گئی ہیں۔ یہ محض اصطلاحی یا فکری تعریف نہیں بلکہ یہ دلائل قرآن وسنت سے ماخوذ ہیں ان کے تتبع واستقراء (غوروفکر) سے حاصل شدہ ہے۔

زبان کے قول کا معنی ہے کہ انسان اپنی زبان سے  لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی شہادت دے۔  اس کا تلفظ ادا کرے اور اعلان کرے۔اور اس میں تمام قولی عبادات بھی شامل ہیں جیسے تسبیح وتہلیل، تلاوت قرآن وذکر الہی یہ سب زبان کے قول میں داخل ہیں اور یہ سب ایمان ہیں۔

اسی طرح سے ایمان دل سے اعتقاد کا نام ہے ۔ یعنی محض زبان سے تلفظ کافی نہیں۔ اگر کوئی محض زبان سے اقرار کرتا ہے جبکہ دل میں اس کا اعتقاد نہیں رکھتا تو یہ منافقین کا ایمان ہے، جو کہ زبانوں سے وہ باتیں کہتے تھے جس کا دل میں اعقتاد نہیں رکھتے تھے۔ بالکل اسی طرح سے وہ شخص بھی جو دل میں تو تصدیق کرتا ہومگر زبان سے اقرار نہ کرے تو وہ مومن نہیں۔ کیونکہ مشرکین وکفار اپنے دل میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی صداقت کا یقین رکھتے تھے لیکن مختلف اغراض میں سے کسی غرض کی خاطر اپنی زبان سے اقرار نہیں کیا، یا تو اپنے دین کی حمیت میں جیسا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے کفار قریش سے مطالبہ کیا کہ وہ لا الہ الا اللہ کا زبان سے اقرار کریں تو انہوں  نے کہا:

﴿ اَجَعَلَ الْاٰلِـهَةَ اِلٰــهًا وَّاحِدًا   ښ اِنَّ ھٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ (ص: 5)

(کیا اس نے سب معبودات کا ایک ہی معبود بنادیا!یہ تو بڑی عجیب بات ہے)

پس انہوں نے لا الہ الا اللہ کی گواہی دینے سے انکار محض اپنے دین کی حمیت اور اوثان وبتوں کی عبادت کے سبب سے کیا۔

فرقہ مرجئہ کے نزدیک ایمان کی تعریف

لہذا دلی تصدیق زبان سے اقرار کے بغیر کافی نہیں۔ اور نہ ہی ایمان کہلاسکتی ہے۔ یہ مرجئہ کے نزدیک ہی ایمان ہوسکتا،اور مرجئہ ایک فرقہ ہے جس نے اہل سنت والجماعت کی مخالفت کی ہے، جس کی وجہ سے اس کے قول کا کوئی اعتبار بھی نہیں۔

پھر جو شخص زبان سے اقرار کرے اور دل سے بھی تصدیق کرے مگر اپنے اعضاء وجوارح سے عمل نہ کرے تو وہ بھی مومن نہیں سوائے مرجئہ کے نزدیک۔ کیونکہ بعض مرجئہ جیسے مرجئۃ الفقہاء کہتے ہیں ایمان کی تعریف یہ ہے کہ زبان کا قول اور دل کی تصدیق۔ جوارح سے عمل کرنے کو وہ ایمان کی تعریف میں داخل نہیں کرتے۔

مرجئہ کی اقسام

مرجئہ کے چار فرقے ہیں:

1- ایک فرقے کا یہ کہنا ہے کہ ایمان فقط زبان سے اقرار کا نام ہے اور یہ کرامیہ کہلاتے ہیں۔

2- دوسرے فرقے کا کہنا ہے کہ ایمان محض دل کی تصدیق کا نام ہے اگرچہ زبان سے اقرار نہ کیا جائے۔ اور یہ اشاعرہ کا قول ہے۔

3- تیسرے فرقے کا یہ کہنا ہے کہ ایمان محض دل کی معرفت کا نام ہے اگرچہ تصدیق بھی نہ ہو۔ اگر وہ دل سے جانتا ہے مگر تصدیق نہیں بھی کرتا تو وہ مومن ہے اور یہ جہمیہ کا قول ہے۔ جو کہ مرجئہ کا سب سے بدترین فرقہ ہے۔

4- چوتھے فرقے کا یہ کہنا ہے ایمان زبان سے اقرار اور دل سے اعتقاد کا نام ہے۔ اور یہ گمراہی میں سب سے ہلکے ترین مرجئہ کا فرقہ ہے۔ اسی لئے انہیں مرجئۃ الفقہاءکہا جاتا ہے۔

اہل سنت والجماعت کے نزدیک ایمان کی تعریف

جبکہ جمہور اہل سنت والجماعت کہتے ہیں کہ مندرجہ ذیل حقائق کا ایمان میں ہونا ضروری ہے:

زبان کا قول، دل کا اعتقاد، جوارح سے عمل، نیکی سے بڑھنا اور بدی سے کم ہونا۔پس جب بھی کوئی شخص نیکی وفرمانبرداری کا کام کرتا ہے تو اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے، اور جب کبھی بھی کوئی معصیت وگناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے ایمان میں نقص پیدا ہوتا ہے۔ لہذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے ایمان میں اضافہ ہو تو اطاعت گزاری کو لازم پکڑو جیسے اللہ تعالی کا ذکر ایمان میں ا‌ضافہ کرتا ہے اسی طرح سے قرآن کریم کو سننا ایمان میں اضافے کا سبب ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ﴾ (الانفال: 2)

(بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں جب اللہ تعالٰی کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ تعالٰی کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کر دیتی ہیں، اور وہ اپنے رب ہی پر توکل کرتے ہیں)

اور فرمایا:

﴿ وَيَزِيْدُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اهْتَدَوْا هُدًى﴾ (مریم: 76)

(اور ہدایت یافتہ لوگوں کو اللہ تعالٰی ہدایت میں بڑھاتا ہے)

اور،

﴿ وَيَزْدَادَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِيْمَانًا﴾ (المدثر: 31)

(اور تاکہ ایماندار ایمان میں اور بڑھ جائیں)

یہ آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ایمان نیکیوں سے بڑھتا اور برائیوں سے گھٹتا ہے۔ جب کبھی بھی کوئی شخص اپنے رب کی نافرمانی کرتا رہتا ہے اس کے ایمان میں نقص واقع ہوتارہتا  ہے یہاں تک کہ اس کا ایمان انتہائی ضعیف وکمزور ہوجاتا ہے کہ وہ ایک رائی کے دانے برابر یا اس سے بھی کم تک پہنچ جاتا ہے۔ اور مزید اس میں کمی وکمزوری آتی رہتی ہے یہاں تک کہ وہ کفر سے قریب تر ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿ھُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَىِٕذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِيْمَانِ ﴾ (آل عمران: 167)

(وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر کے بہت نزدیک تھے)

چناچہ معاصی ایمان کے نقص کا سبب ہیں۔ اب جو کوئی بھی اپنے ایمان میں نقص وکمی سے ڈرتا ہے تو اسے چاہیے کہ معاصی سے اجتناب کرے۔ ورنہ وہ یہ جان لے کہ یہ سب کی سب ایمان کے کھاتے ہی میں ڈالی جاتی ہیں۔ جب بھی معصیت کروگے تمہارا ایمان اس کی وجہ سے کم ہوتا رہے گا یہاں تک کہ اس میں سے بہت ہی قلیل مقدار باقی رہ جائے گی۔ بلکہ یہ بھی عین ممکن ہے کہ وبالکل ہی ختم ہوجائے۔ کیونکہ بعض ایسی معاصی ونافرمانیاں بھی ہیں جو ایمان کو بالکل ہی ختم کردیتی ہے کہ اس کے مرتکب کے ساتھ ایمان نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی، جیسےاللہ تعالی کے ساتھ کفروشرک کرنااور نماز ترک کرناان سے ایمان بالکلیہ زائل ہوجاتا ہے۔ یہ ہے اہل سنت والجماعت کے نزدیک ایمان کی تعریف۔

ارکانِ ایمان

ایمان کے بھی ارکان ہیں یعنی اس کے ستون ہیں کہ جن پر وہ قائم ہے اور ان کے بغیر وہ قائم رہ ہی نہیں سکتا۔ جب یہ ارکان وستون موجود ہوں گے تو ایمان بھی قائم رہے گا۔ اور ان ارکان کا ذکر نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے اپنی مشہور حدیث جبرئیل  علیہ الصلاۃ والسلام   میں فرمایا کہ جب جبرئیل  علیہ الصلاۃ والسلام  نے آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے ایمان کی بابت سوال کیا تو فرمایا:

’’أَخْبِرْنِي عَنِ الإِيمَانِ، فَقَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ‘‘([1])

(مجھے ایمان کے متعلق خبردیں: تو فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم ایمان لاؤ اللہ تعالی پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، یوم آخرت پر، اور تقدیر کے اچھا برا ہونے پر)

یہ ہیں چھ ارکان ایمان۔


[1] مسلم: الایمان 8، ترمذی: الایمان 2610، نسائی: الایمان وشرائعہ 4990، ابوداود: السنۃ 4695، ابن ماجہ: المقدمۃ 63، احمد 1/52۔ اسے مسلم نے عمر رضی اللہ عنہ  سے روایت کیا: کتاب الایمان، باب 1، رقم 8، 1/101۔ اور یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت سے متفق علیہ بھی ہے: بخاری، کتاب الایمان باب 37، رقم 50، 1/152، اور مسلم، کتاب الایمان، باب1، رقم 9اور 10، 1/115۔

taruf_e_emaan