The meaning of Tawheed-ul-Uloohiyyah and it’s the Da'wah of all messengers – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

توحید الوہیت کا مطلب ، اور یہی رسولوں کی دعوت کا موضوع ہے   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: توحید خالص ڈاٹ کام

مصدر: عقيدة التوحيد وبيان ما يضادها من الشرك الأكبر والأصغر والتعطيل والبدع وغير ذلك۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الوہیت عبادت ہے اور توحید الوہیت یہ ہے کہ : بندوں کے وہ شرعی اعمال جن سے وہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنا چاہتے ہیں  وہ صرف اللہ تعالی ہی کے لیے ادا کیے جائیں ، مثلاً دعاء ، نذرونیاز،منت، قربانی ، امید ، خوف ، توکل ، رغبت ، خشیت ، انابت ، اورتوحید کی یہ ہی قسم اول تا آخر تمام رسولوں کا موضوع رہا ہے، ارشاد باری تعالی ہے :

﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ﴾ (النحل: 36)

 (ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو !) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو)

اور ارشاد باری تعالی ہے :

﴿وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ﴾  (الانبیاء: 25)

 (آپ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو)

اور ہر رسول اپنی قوم کو دعوت دینا توحیدِ الوہیت ہی سے شروع کرتے تھے ، جیسا کہ نوح ، ہود، صالح اور شعیب علیہم الصلاۃ والسلام نے فرمایا :

﴿يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ﴾ (الاعراف: 59)

 (اے میری قوم ! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود ہونے کے قابل نہیں)

﴿وَاِبْرٰهِيْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاتَّــقُوْهُ﴾ (العنکبوت: 16)

 (اور ابراہیم نے بھی اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تعالی کی عبادت کرو اور اس سے ڈرتے رہو ﴾

اور محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی یہی نازل کیا گیا :

﴿قُلْ اِنِّىْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ﴾ (الزمر: 11)

 (آپ کہہ دیجئے ! کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالی کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لیے عبادت کو خالص کرلوں)

اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :

’’أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ‘‘([1])

 ( مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں) ۔

لہذا ہر مکلف شخص پر سب سے پہلے یہ واجب ہوتا ہے کہ وہ : اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اس پر عمل کرے ، ارشاد باری تعالی ہے :

﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ﴾ (محمد: 19)

 (سو (اے نبی )اس بات کا علم حاصل کریں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِحقیقی نہیں ، اور اپنے گناہ کی بخشش  مانگا کریں)

اور جو کوئی بھی اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہے اسے سب سے پہلے : کلمۂ شہادت کا زبان سے تلفظ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے ، چناچہ اس سے واضح ہوگیا کہ : توحیدِ الوہیت ہی رسولوں کی دعوت کا مقصود ہے ، اور یہ توحیدِ الوہیت اس لیے کہلاتی ہے کیونکہ الوہیت اللہ تعالی کا ایسا وصف ہے جو اس کے نام (اللہ) پر دلالت کرتا ہے ، اللہ یعنی : الوہیت والا ، یعنی معبود ۔

اور اسے توحیدِ عبادت بھی کہا جاتا ہے ، اس اعتبار سے کہ عبودیت بندے کا وصف ہے ، کیونکہ اس پر واجب ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کی عبادت کرے ، اس لیے کہ وہ اپنے رب کا محتاج ہے اور اپنے رب پر انحصار کرنے والا ہے ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ " نے فرمایا : (یہ بات اچھی طرح جان لو کہ بندہ   اللہ تعالی کا ایسا محتاج ہے : کہ وہ اللہ تعالی کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے ، اس کی کوئی نظیر نہیں کہ اس پر قیاس کیا جائے ، لیکن کچھ اعتبارات سے مشابہت پائی جاتی ہے جیسا کہ جسم کو کھانے اور پینے کی ضرورت ہوتی ہے ، جبکہ ان کے درمیان بھی بہت فرق پایا جاتا ہے ۔ کیونکہ بندے کی حقیقت اس کا دل اور روح ہے ، اور اس کی درستگی اس کے الہٰ اللہ تعالی کے بغیر ممکن نہیں جس کے سوا کوئی معبودِحقیقی نہیں ، لہذا دنیا میں اللہ تعالی کے ذکر کے بغیر اطمینان حاصل نہیں ہوسکتا ، اور اگر بندہ کو کچھ لذت اور سرور اللہ تعالی کے(ذکر کے) بغیر حاصل بھی ہوجائے تو اسے دوام حاصل نہیں رہتا ، بلکہ وہ ایک قسم سے دوسری قسم کی طرف اور ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے ، لیکن الہٰ کی ضرورت اسے ہر حال میں اور ہر وقت رہتی ہے، وہ جہاں کہیں بھی  ہو وہ (اپنی رحمت، علم وقدرت کے اعتبار سے) اس کے ساتھ ہوتا ہے )۔ ([2])

اور توحید کی یہی قسم تمام رسولوں کی دعوت کا موضوع رہا ہے ، اس لیے کہ یہ وہ بنیاد ہے جس پر تمام اعمال کی عمارت تعمیر کی جاتی ہے ، اگر یہ نہ ہو تو تمام اعمال درست نہیں ہوتے ، اور اگر یہ نہ ہو تواس کا مخالف ضرور ہوتا ہے اور وہ ہے شرک ، ارشاد باری تعالی ہے :

﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ﴾ (النساء: 48)

 (یقیناً اللہ تعالی اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا)

اور ارشاد باری تعالی ہے :

﴿وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ﴾ (الانعام: 88)

(اور اگر  بالفرض یہ (انبیاء کرام) بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وہ سب اکارت ہوجاتے)

اور ارشاد باری تعالی ہے :

﴿لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ﴾  (الزمر: 65)

 (اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شرک کیا تو بلا شبہ آپ کا عمل ضائع ہوجائے گا اور بالیقین آپ زیاں کاروں میں سے ہوجائیں گے)

اور اس لیے بھی کیونکہ توحید کی یہ قسم بندے پر جو کچھ واجب ہے اس میں سے اولین حق ہے ، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے :

﴿وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا﴾ (النساء: 36)

 (اور اللہ تعالی  کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو)

﴿وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا﴾ (الاسراء: 23)

(اور تیرا رب صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا)

اور ارشاد باری تعالی ہے :

﴿قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْــــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا﴾ (الانعام: 151)

 (آپ  کہیں کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن  کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرمادیا ہے ، وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو)

 


[1] البخاري الایمان (25)، مسلم الایمان (22)۔

 

[2] مجموع الفتاوى : ( 1/ 24 ) .