Salaf and making Dua' for the rulers – Shaykh Abdus Salaam bin Burjus

سلف صالحین اور حکمرانوں کے لئے دعاء کرنے کی تاکید فرمانا

فضیلۃ الشیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم  رحمہ اللہ  المتوفی سن 1425ھ

( سابق مساعد استاد المعھد العالي للقضاء، الریاض)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: معاملۃ الحکام فی ضوء الکتاب والسنۃ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اس کی مثال جو امام الحسن بن علی البربہاری  رحمہ اللہ کا قول کتاب "شرح السنۃ" میں آیا ہے کہ فرمایا:

 ’’إذا رأيت الرجل يدعوا على سلطان: فاعلم أنه صاحب هوى. و إذا سمعت الرجل يدعو للسلطان بالصلاح فاعلم أنه صاحب سنة – إن شاء الله تعالى‘‘

 (اگر تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ حکمران کے خلاف بددعاء کررہا ہے تو جان لو کہ یہ شخص صاحب ہویٰ (خواہش پرست/بدعتی)ہے، اور اگر تم کسی شخص کو دیکھو کہ حکمران کے لئے اصلاح کی دعاء کررہا ہے تو جان لو یہ یہ شخص صاحب سنت (سنی/سلفی)ہے)۔

امام فضیل بن عیاض  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’لو كان لي دعوة ما جعلتها إلا في السلطان فأمرنا أن ندعو لهم بالصلاح، ولم نؤمر أن ندعو عليهم – وإن جاروا وظلموا -، لأن جورهم وظلمهم على أنفسهم وعلى المسلمين، وصلاحهم لانفسهم وللمسلمین‘‘([1])

(اگر میری کسی مقبول دعاء کی ضمانت ہوتی   تو اسے میں صرف حکمران کے لئے ہی خاص کردیتا۔ پس ہمیں ان کے بارے میں اصلاح کی دعاء کرنے کا حکم دیا گیا ہے ناکہ ان کے خلاف بددعاء کرنے کا اگرچہ وہ ظلم وجور کریں۔ کیونکہ ان کا ظلم وجور ان کے اپنے نفس پر ہے اور مسلمانوں پر، اسی طرح سے ان کی اصلاح اپنے لئے بھی ہے اور مسلمانوں کے لئے بھی فائدہ مند ہے)۔

 


[1] طبقات الحنابلۃ: 2/36، اور فضیل بن عیاض کا مقولہ ابو نعیم نے الحلیۃ 8/91-92 اور فضیلۃ العادلین من الولاۃ: ص171-172 میں بیان فرمایا،  اس بارے میں کتاب  معاملۃ الحکام میں پوری فصل  موجود ہے۔