The importance of obeying the rulers in Islaam – Shaykh Abdus Salaam bin Burjus Aal-Abdul Kareem

اسلام میں حکمرانوں کی اطاعت وفرمانبرداری کی اہمیت   

فضیلۃ الشیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم رحمہ اللہ المتوفی سن 1425ھ

( سابق مساعد استاد المعھد العالي للقضاء، الریاض)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: معاملۃ الحکام فی ضوء الکتاب والسنۃ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

بلاشبہ مسلمانوں کے حکمرانوں کی  السمع والطاعة (سننا اور اطاعت کرنا) سلفی عقیدہ کے اصولوں وبنیادوں میں سے ایک اصل وبنیاد ہے۔(عقیدے اہل سنت والجماعت، سلفیہ کے اصول وعقیدے کی) شاید ہی کوئی کتاب ایسی ہو کہ جس میں اسے شرح وبیان کے ساتھ دہرایا نہ گیا ہو۔جو اس کی اہمیت وعظیم مرتبت کی دلیل ہے۔ کیونکہ حکمرانوں کی سننا اور اطاعت کرنے میں دین ودنیا دونوں کے مصالح منتظم ہوتے ہیں۔اور قولاً یا فعلاً ان کے خلاف بغاوت کرنا دین ودنیا کے فساد کا سبب ہے۔

یہ بات دین اسلام کی بدیہات میں سے ہے کہ :

’’أنه لا دين إلا بجماعة، ولا جماعة إلا بإمامة، ولا إمامة إلا بسمع وطاعة‘‘([1])

(بے شک بغیر جماعت کے کوئی دین نہیں، اور بغیر امامت کے کوئی جماعت نہیں، اور بغیر سننے اور اطاعت کرنے کے کوئی امامت نہیں)۔

امام حسن البصری رحمہ اللہ حکمرانوں کے متعلق فرماتے ہیں:

’’هم يلون من أمورنا خمساً: الجمعة، والجماعة، والعيد، والثغور، والحدود. والله لا يستقيم الدين إلا بهم، وإن جاروا وظلموا والله لما يصلح الله بهم أكثر مما يفسدون، مع أن طاعتهم – والله – لغبطة وأن فرقتهم لكفر‘‘([2])

(یہ ہماری پانچ چیزوں کی قیادت کرتے ہیں جمعہ، جماعت اور عیدکی نماز، جہاد، حدود(کا نفاذ)۔ اللہ کی قسم! دین ان کے بغیر قائم نہیں ہوسکتا اگرچہ یہ ظلم وستم کریں، اللہ کی قسم! جتنا فساد یہ مچاتے بھی ہیں تو ان کےذریعہ اللہ تعالی جو اصلاحات کرتا ہے وہ اس فساد سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں۔ جبکہ ان کی اطاعت تو اللہ کی قسم سعادت مندی ہے اور ان سے اختلاف وتفرقہ کرنا کفر ہے)۔

امام ابو العالیہ رحمہ اللہ کےسامنے سلطان (حکمران) کا ذکر ہوا تو فرمایا:

’’ما يصلح الله بهم أكثر مما يفسدون‘‘([3])

(جتنا فساد یہ مچاتے بھی ہیں تو ان کےذریعہ اللہ تعالی جو اصلاحات کرتا ہے وہ اس فساد سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں)۔

سلف صالحین رضی اللہ عنہم اس معاملے کا ہمیشہ اہتمام فرماتے تھے  مگر خصوصاً جب فتنہ وفساد کا ظہور ہو تو اس پر مزید خصوصی توجہ دیتے تھے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس سے جہالت یا غفلت ملک وقوم میں کیسے عظیم فساد کا اور رشد وہدایت کی راہ سے ہٹانے کاپیش خیمہ بنتے ہیں۔

 


[1] اس جیسا کلام سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اخرجہ الدارمي (1/69) اور اس کے ہم معنی بات ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے بھی ’’تهذيب تاريخ دمشق‘‘ (7/67) میں وارد ہے۔

 

 

[2] آداب الحسن البصری لابن الجوزي: ص 121، اور دیکھیں جامع العلوم والحکم لابن رجب: 2/117 ط الرسالۃ، اور الجلیس الصالح والانیس الناصح لسبط ابن الجوزي: ص 207۔ امام حسن بصری کا یہ کہنا کہ کفر ہے سے مراد کفر دون کفر یعنی کفر اصغر ہے جس سے انسان دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا جیسے ناشکری کرنا۔

 

 

[3] ابن الجوزی کے نواسے نے ’’الجلیس الصالح والانیس الناصح‘‘  ص 207 میں ذکر فرمایا۔