Is it recommended for a beginner student to read the refutations of sects? – Shaykh Abdus Salaam bin Burjus Aal-Abdul Kareem

کیا ابتدائی طالبعلم کو اہل بدعت کے ردود پر لکھی گئی کتب پڑھنے میں منہمک ہونا چاہیے؟   

فضیلۃ الشیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم رحمہ اللہ المتوفی سن 1425ھ

( سابق مساعد استاد المعھد العالي للقضاء، الریاض)

ترجمہ: سید عبدالحلیم

مصدر: سنت اور بدعت اور امت پر ان کے اثرات سے ماخوذ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

آٹھواں سوال: بعض طالبعلم یہ کہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ تم بدعتوں اور اہل بدعت پر رد کرنے والی کتابوں کے پڑھنے میں ایسے مصروف ہو جاؤ کہ پھر تم شرعی علم کے حاصل کرنے سے ہی غافل ہو جاؤ، تو اس بارے میں آپ کیا خیال ہے؟

 

جواب:   سب سے پہلے مرحلےپر تو شرعی طالبعلم کو چاہیئے کہ وہ  بنیادی اور اہم کتابوں کو پڑھے تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور احادیث سے واقف ہوجائے ۔ پھر اگر وہ اہل سنت کے عقیدے سے اچھی طرح واقف ہوگیا اور صحیح عقیدہ اس کے دل میں اچھی طرح راسخ ہوگیا، تب اس کے لیے ان کتابوں کا دیکھنا اور پڑھنا مناسب ہوگا جن میں کہ مخالفین کی غلط فہمیوں کا جواب دیا گیا ہو، یا ان کی علمی خامیوں اور کمزوریوں کو واضح کیا گیا ہوں۔ مگر یہ کہ کوئی ابتدائی طالب علم شروع میں ہی ان کتابوں کا مطالعہ کرنا شرع کر دے جن میں کہ غلط فہمیوں کا جواب دیا گیا ہو تو ایسا کرنا اہل علم کا راستہ اور طریقہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باطل فرقوں اور گمراہ لوگوں کے رد اور جواب میں لکھی گئی کتابوں کی بنیاد پر اہل علم عقیدے کے معاملات میں اپنے علم کی بنیادوں کو قائم نہیں کرتے۔ کیوں کہ باطل اور گمراہ فرقوں اور اشخاص کے جواب میں لکھی گئی کتابوں کا انداز ہی وہ انداز نہیں ہوتا جو کہ علم کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

 

تو میری شرعی علم حاصل کرنے والے تمام بھائیوں کے لیے نصیحت یہی ہے کہ وہ علم کو حاصل کرنے کے آغاز میں ان کتابوں پر پوری اور زیادہ توجہ دیں جو کہ بنیادی اور اہم ترین نوعیت کی ہیں اور صحیح عقیدے اور احادیث کی بنیادی کتابوں پر توجہ دیں اور صحیح عقیدے کے دلائل کا مطالعہ کریں اور خاص طور پر شیخ محمد بن عبدالوہاب کی کتاب التوحید اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہما اللہ کی کتاب العقیدۃ الواسطیۃ کو پڑھنے اور سمجھنے پر خصوصی توجہ دیں۔

 

تو اگر اس نے مذکورہ کتابوں کو پڑھ لیا اور اہل حق کے عقیدے اور ان کے دلائل سے آگاہ اور واقف ہوگیا تو پھر اس کے لیے بہتر اور مناسب ہوگا کہ وہ آہستہ آہستہ ان کتابوں کے پڑھنے کی طرف منتقل ہو جائے کہ جو باطل نظریات اور گمراہ کن عقائد و افکار رکھنے والے گروہوں اور اشخاص کی پیدا کردہ غلط فہمیوں (شبہات) کے جواب اور توڑ میں لکھی گئی ہوں۔

 

اور غلط فہمیوں اور غلط عقائد کے جواب اور رد میں لکھی گئی کتابوں میں بھی ان کتابوں پر زیادہ توجہ دے جو کہ ان غلط فہمیوں کے جواب میں لکھی گئی ہوں جو کہ اس کے اپنے علاقے یا ملک میں پائی جاتی ہوں۔

 

اور میری گفتگو کا مطلب یہ نہیں ہے کہ باطل فرقوں اور غلط نظریات کے خلاف لکھی گئی کتابوں کے پڑھنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے یا وہ بے وقعت ہے۔ نہیں،  بلکہ ان کے پڑھنے کا فائدہ تو بہت ہے اور اہلِ علم کے لیے ان کا پڑھنا ضروری ہے اور باطل گروہوں اور فرقوں کے خلاف لکھی گئی کتابیں بلا شبہ علمی جہاد کا حصہ ہیں اور دین اسلام کے تحفظ اور دفاع کا بہترین ذریعہ ہیں ۔مگر ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کتابوں کی اہمیت الگ چیز ہے اور جو نئے اورابتدائی طالبعلم ہیں تو ان کا طالب علمی کے ابتدائی دور اور پہلے مرحلے میں ہی ان کتابوں کے پڑھنے میں مصروف ہو جانا الگ چیز ہے۔

 

وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔