The deception of religious political parties regarding Tawheed – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

دینی سیاسی جماعتوں کی توحید کے تعلق سے دھوکہ بازی

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی رحمہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: التوحید اولا ً

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

۔۔۔آج ہم سوچتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے توحید کے ان واضح دلائل بیان کرنے کا فائدہ کیا ہے؟ آج یہ برے اور فتنہ پرور داعیان آتے ہیں اور اس توحید اور اس کے دلائل کو بالکل ملیا میٹ کردیتے ہيں، اللہ تعالی کی قسم! بالکل لوگوں کی نظر میں انہیں صفحۂ ہستی سے مٹا دیتے ہیں، ان کی نظر میں توحید سے تفرقہ ہوتا ہے، وہ اپنی زبان حال بلکہ کبھی زبان مقال سے بھی یہ کہتے ہیں کہ: اگر ہم توحید کی طرف دعوت دیں اور اسے اپنا منہج بنائیں گے تو کون ہمارے پاس آئے گا؟ ہم حکومت کی کرسی پر جلد ازجلد پہنچنا چاہتے ہیں، اگر ہم یہی توحید توحید کہتے رہے تو لوگ ہم سے دوربھاگ جائیں گے، اور ہم کبھی بھی اس مرتبے پر نہیں پہنچ پائیں گے۔ ہم لوگوں کو جمع کرنا چاہتے ہیں، ایک رافضی بھی ہمارا بھائی ہے، اسی طرح نصرانی، بدعتی قبرپرست بھی ہمارا بھائی ہے، یہ سب ہمارے بھائی ہیں تاکہ ہم جلد از جلد اپنے مقصد کو حاصل کرسکیں،(چلیں بالفرض)ٹھیک ہے مان لیا آپ جلدازجلد اپنے مقصد(اتحاد امت اورتخت حکومت وغیرہ) تک پہنچ گئے، اب اس کے بعدکیاکارنامہ انجام دیا آپ نے؟ وحدت ادیان اور وحدت ادیان کی کانفرنسیں وغیرہ آپ کی نظر میں یہی کافی ہے! جب اس قسم کی دعوت رکھنے والی جماعتوں میں سے کوئی جماعت کرسی حاصل کرلیتی ہے؛ تو جس چیز کا بھرم لوگوں پررکھا کرتی تھی اس سے پیٹھ پھیر دیتی ہیں، یعنی یہ آپ کو شریعت نہیں دیں گے، اور نہ ہی عقیدہ، بلکہ گرجاگھر(چرچ) اور مزارات تعمیرکرواتے ہیں، اور وحدت ادیان کی کانفرنسیں منعقد کرواتے ہیں۔ یہ مذہبی سیاسی لوگ پوری دنیا سے لوگوں کو جمع کرتے ہیں اور ان وحدت ادیان کی کانفرنسوں میں شریک ہوتے ہیں۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دعوتیں وتحریکیں اپنی اساس سے ہی فاسد ہیں اوران کے تمام تر مقاصد واہداف برے ہیں۔ جب یہ اس چیز تک پہنچ جاتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں تو ان بلند بانگ اسلامی نعروں اور سلوگن سے پیٹھ پھیر دیتے ہیں جس کا وہ شب وروز ڈھنڈورا پیٹا کرتے تھے۔

توحید پرستوں ہوش کے ناخن لو

یہ مثالیں تو بالکل زندہ ہمارے سامنے موجود ہیں جنہیں آپ خود چھو سکتے ہیں، اللہ کی قسم! ہمارے یہاں فرزندان توحید ان باتوں کا رد وانکار نہیں کرتے، کیوں؟ کیونکہ ان کی ذہنیت تبدیل ہوچکی ہے، میں نے ایک حرف بھی ان کی جانب سےاس پوری صورتحال کے خلاف نہیں سنا ۔ بہت سے ممالک میں ایسے تماشےہمیشہ دوہرائے جاتے رہتے ہیں مگر ان دینی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہم کوئی حرف نکیر نہیں سنتے، اور جو اپنے دین میں یا میدان جہاد میں ان سیاسی مذہبی جماعتوں سے متاثر ہیں ان کا یہ حال ہوگیاہے کہ ان سیاسی دعوتوں کی کسی چیز کی مخالفت نہیں کرتے، خواہ یہ وحدت ادیان کی جانب دعوت دیں، یاخواہ گرجاگھر اور مزارت قائم کریں، خواہ یہ کریں خواہ وہ کریں وغیرہ۔ پس یہ ایک عبرت ہے اپنے دین کے بارے میں ہر صادق اور مخلص کے لئے کہ اگر وہ کسی قسم کے دھوکے کا شکار ہوجائے پھر بعد میں اس پر ظاہر کردیا جائے کہ جو تمہاری رہنمائی کررہا تھا وہ دراصل تمہیں ہلاکت کی جانب گمراہ کررہا تھا؛ تو وہ یقیناً اسے چھوڑ کر اسلام کے صحیح طریقے کو اپناتا ہے، لیکن اگر آپ اسے تالیاں بجاکر داددیں،اسے چھپائیں اور اس کا دفاع کریں تو یہ غلط بات ہے۔

پس یہ دعوتیں وتحریکیں انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی دعوتیں نہیں جویہ کہیں کہ: توحید سب سے پہلے، بلکہ کہتی ہیں کہ: سیاست سب سےپہلے، اقتصادومعاشیات سب سے پہلے، تصوف سب سے پہلے، خرافات وبدعات سب سے پہلے، جبکہ ان نعروں کی کوئی قدروقیمت نہیں، اور مسلمانوں کو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ اس کا  نتیجہ سوائے موت، ہلاکت اور پوری امت کے ضائع ہوجانے کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ لہذا دنیا وآخرت میں ایک اچھی اور سعادت مند زندگی سےبہرہ ور ہونا توحیداور کلمۂ توحید ’’لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ‘‘  پر متوقف ہے۔ اللہ تعالی ہمیں  دنیا وآخرت میں نصرت، عزت اور تکریم عطاء فرمائیں گے، لیکن اگر ہم انہی طریقوں پر ڈٹے رہے جو ان منحرف قبرپرست وبدعت پرست لوگوں نے ہمارے لئے مقرر کئے ہیں؛ تو پھر اللہ کی قسم! ہم اللہ تعالی کی جانب سے سوائے ذلت ورسوائی کے اور کسی چیز کے منتظر نہیں:

﴿ وَمَنْ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ  ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ﴾ (الحج: 18)

(جسے اللہ تعالی ہی ذلیل کردے تو اسے کوئی عزت دینے والا نہیں، اللہ تعالی جو چاہتا ہے کرتا ہے)

اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ مسلمانوں کے لئے ایسے سچے اور مخلص داعیان تیار فرمادے جو دعوت انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کا احترام کریں اور اس جانب دعوت دیں، اور اپنا تمام تر قیمتی سرمایۂ حیات اس کلمۂ توحید ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کو بلند کرنے میں لگا دیں تمام درجات پر عمل کرتے ہوئے جہاد وقتال کے درجے تک اس کے لئے کام کریں، اور اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ اس امت کے لئے ایسے داعیان تیار فرمادے جو منہج انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کا صحیح فہم رکھتے ہوں اور کلمۂ توحید ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کے صحیح معنی ومفہوم سے آگاہ ہوں تاکہ ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی مسلمانوں کو نفع پہنچائے، اور ان کی شان بلند فرمائے، اور انہیں ان کا کھویا ہوا وہ وقار واپس لوٹا دےجس کے ذریعہ اللہ تعالی نے انہیں عزت ومنزلت عطاء فرمائی تھی، اور انہیں بلندیاں عطاء فرماکر اس دنیا کا اور تمام امتوں کا سردار بنادیا تھا، اور وہ بہترین امت بنادیا تھا جو لوگوں کے لئے برپا کی گئی تھی۔ یہ سب کچھ حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کلمۂ توحید ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘  کو کماحقہ نہ اپنایا جائے، اور نیکی کا حکم دیا جائے اور برائی سے روکا جائے اور اللہ تعالی پر ایمان لایا جائے، اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں اور آپ کو انہی میں سے کردے، اور درودوسلام ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کی آل اور اصحاب پر۔

deeni_siyasi_jamats_tawheed_taluq_dhokabazi