Importance of teaching Qura'an in Masajid – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

تعلیم قرآن کریم کی اہمیت اور مساجد میں اس کا انتظام

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

ترجمہ: نعمان اسماعیل

مصدر: جادو ٹونہ کے فرد اور معاشرے پر خطرناک اثرات سے ماخوذ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ قرآن کریم کو حفظ کرنا اور اس کی تلاوت اور تدریس کا اہتمام کرنا مسلمانوں پر واجب ہے ، خاص طور سے والد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بیٹے ، بیٹی ، بیوی اور تمام وہ لوگ جن کا وہ سرپست ہے ، ان تمام لوگوں کو قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کا اہتمام کرے ، قرآن خیر ہے ، اس کی تعلیم حاصل کرنااور اس کی تعلیم کودوسروں کو دینا اور اس کی تلاوت کرنا سب دنیا وآخرت کی خیر ہے ، حدیث میں آیا ہے :

’’مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ‘‘([1])

(جس نے اﷲ کی کتاب کا ایک حرف بھی پڑھا تو اس کے نامہ اعمال میں نیکی لکھ دی جاتی ہے ، اور ایک نیکی کو دس گنا بڑھا کر لکھ دیا جاتا ہے ، میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ الۤم ایک حرف ہے ، بلکہ الف ایک حرف ہے ، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے)۔

 اور فرمایا:

’’خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ‘‘([2])

(تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں )۔

 لہٰذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ قرآن کریم کی تلاوت کرتا رہے ، اس کے معانی پر غور و تدبر کرتا رہے ، اور جتنا زیادہ وہ قرآن کو پڑھے گا یا دوسروں کو پڑھائے گا اتنا ہی زیادہ اس کے اجر میں اضافہ ہوگا ، قرآن سے جتنا قریب ہوگا اسے اتنا ہی فائدہ ہوگا ، اور جتنا دور ہوتا چلا جائے گا اتنا ہی اس کا دل سخت ہوتا چلا جائے گا ، اس کے معاملات میں مشکلات پیدا ہوں گی ، اس کے حالات خراب ہوجائیں گے ، قرآن خیر ہے اس لیے کہ وہ نور ہے ، اور نور سے دور ہونے کا مطلب ہے اندھیروں کی طرف جانا ، ہمیں ان اداروں کے ساتھ بھی تعاون کرنا چاہیے جو قرآن کریم کی تعلیم دیتے ہیں ، اس لیے کہ یہ نیکی اور پرہیزگاری پر تعاون ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى﴾ (سورۂ مائدہ: 5)

(نیکی اور اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو )۔

 


[1] صحیح ترمذی 2910۔

[2] صحیح بخاری 5027۔