What is "Fiqh-ul-Waqa'e" – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

فقہ الواقع   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الاجوبۃ المفیدۃ عن الاسئلۃ المناھج الجدیدۃ س 3۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: ہم اس بات کی وضاحت چاہتے ہیں کہ فقہ الواقع سے کیا مراد ہے؛ کیونکہ اس لفظ کا (آجکل) اطلاق کیا جاتا ہے مگر اس سے لغوی معنی مراد لیا جاتا ہے ناکہ شرعی ؟

جواب: کہاوت ہے کہ:  واضح چیز کی توضیح کرنا بہت مشکل ہے، جو فقہ مطلوب ہے اور جس کی ترغیب دی گئی ہے وہ کتاب وسنت کا فقہ ہے، یہ ہے مطلوبہ فقہ، جبکہ لغوی فقہ مباحات میں سے ہے، جو لوگوں سے امر مطلوب نہیں، کہ لغت میں تفقہ حاصل کرو: کلمے کے معنی، مشتقات اور حروف کو جاننا وغیرہ اسے فقہ اللغہ کہا جاتا ہے۔ مثلاً: کتاب ’’فقہ اللغۃ للثعالبي‘‘ وغیرہ۔ جو لغت کی تعلیم حاصل کرے اس کے لئے یہ امور مکملات میں سے ہیں۔

البتہ فقہ کا جب مطلقاً ذکر ہوگا جیسا کہ اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے:

﴿لِيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ﴾ (التوبہ:  122)

(تاکہ وہ دین کا فقہ (سمجھ بوجھ) حاصل کریں)

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان:

’’مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ‘‘([1])

(اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی فقہ عطاء فرمادیتا ہے)۔

اور اللہ تعالی کا یہ فرمان:

﴿فَمَالِ هٰٓؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا﴾  (النساء: 78)

(انہیں کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات سمجھنے کے بھی قریب نہیں)

﴿وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَفْقَهُوْنَ﴾ (المنافقون: 7)

(لیکن یہ منافق بے سمجھ ہیں)

اور اس قسم کی دیگر آیات۔ ان سے مراد: ’’الفقه في الدين بمعرفة الأحكام الشرعية‘‘  (شرعی احکام کی معرفت کے ذریعہ دین کی سمجھ وفہم)، یہ ہے اصل مطلوب، اور یہ ہی ہے جس کا اہتمام کرنا اور اس کی تعلیم حاصل کرنا مسلمانوں پر واجب ہے([2])۔

لیکن درحقیقت ان لوگوں کے نزدیک فقہ الواقع سے مقصود فقہ اللغۃ نہیں ہوتا، بلکہ ان کے نزدیک اس سے مراد  سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہونا اور سیاسی ولولہ انگیزی ہے، اور اپنے (قیمتی) اوقات اور قوت غوروفکر کو (محض) اسی جانب پھیر دینا ہے۔

اور جہاں تک بات ہے فقہ الاحکام کی تو یہ (لوگ) اس فقہ سے اور اس میں مشغول ہونے سے نفرت دلانے کو بطور تحقیر اسے فقہ الجزئیات (جزوی باتوں کی فقہ) اور فقہ حیض ونفاس کا نام دیتے ہیں([3]

 


[1] البخاري: (71)، مسلم: ( 1037).

 

[2] تفصیل کے لیے ہماری ترجمہ کردہ کتاب ’’فقہ الاکبرکیا ہے؟‘‘ از شیخ صالح الفوزان ﷾ پڑھیں۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[3] یہاں سے معلوم ہوا کہ مطلوبہ فقہ کی اقسام ہیں:

1- فقہ بمعنی فہم کتاب وسنت اور ان سے احکام کا استنباط۔

2- لغت عربی کا فقہ، جو کہ کتاب وسنت کی لغت ہے جیسے نحو، صرف، بلاغہ، اشتقاق اور دلالت۔

3- حالاتِ حاضرہ اور درپیش حوادث کا فقہ، تاکہ ان پر شرعی حکم کی صحیح تطبیق کی جائے۔

لیکن جسے یہ لوگ ’’فقہ الواقع‘‘  کا نام دیتے ہیں، اس سے ان کی مراد لوگوں کو سیاسی امور میں مگن رکھ کر حکام پر تنقیدکرنا، فتنے کی آگ بھڑکانا اور دنگا فساد کرکے امن وامان کومتزلزل کرنا ہوتا ہے۔ اس نام کو محض لوگوں کی دھوکہ دہی کے لئے چسپاں کیا گیا ہے۔ یہ ان اصحابِ فقہ الواقع کی جانب سے کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ان کے سلف اور امام سید قطب بھی اپنی تفسیر ’’في ظلال القرآن‘‘ (4/2006) سورۂ یوسف میں اللہ تعالی کے اس فرمان: ﴿اجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الأَرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ﴾ کے تحت اس آیت پر کلام کرنے کے بعد ’’فقہ الواقع‘‘ بیان کرتےہوئےرقمطراز ہیں: ’’فقہ الاسلامی مسلم معاشرے میں پروان چڑھ چکی تھی، اور وہ اسلامی زندگی کی فی الواقع حاجات کا سامنا کرنے کے لئے اسی معاشرے کی تحریک سے نشاۃ پذیر ہوئی،۔۔ بلاشبہ ’’فقہ الحرکۃ‘‘ (فقہ تحریک) اور ’’فقہ الاوراق‘‘ (اوراق یا فقہی کتابوں میں موجود فقہ) میں اساسی اختلاف ہے، ۔۔ ’’فقہ الحرکۃ‘‘ اپنے اعتبار سے اس ’’الواقع‘‘ (پیش آمدہ صورتحال) کو لیتی ہے جس میں وہ نصوص نازل ہوئے تھے، اور احکامات بنے تھے۔۔۔‘‘۔  (الحارثی)