Ruling regarding Islaamic Anasheed (Songs/Anthems) – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

اسلامی اناشید (ترانوں/گیتوں) کا شرعی حکم   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الاجوبۃ المفیدۃ عن الاسئلۃ المناھج الجدیدۃ (جدید مناہج سے متعلق فتاوی) سوال 2

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: سمر کیمپوں میں ڈرامے، اناشید (گیت/ ترانے) کا انعقاد کیا جاتا ہے، آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

 

جواب: ان سمرکیمپوں کے ذمہ داران  پر واجب ہے کہ وہ ان میں ایسی اشیاء کو روکیں جو بے فائدہ ہیں،  یا جس میں طالبعلموں کے لئےنقصان ہو، بلکہ وہ انہیں قرآن وسنت، احادیث وفقہ اور عربی لغت کی تعلیم دیں تو یہ اس کا بہترین متبادل ہوگا  اور اس میں مشغولیت  (ان کے وقت کو)  دوسری (بے فائدہ) چیزوں  سے بے نیاز کردے گی۔ اسی طرح انہیں ایسے علوم کی تعلیم دیں جن کی انہیں دنیاوی اعتبار سے ضرورت ہے جیسے خطاطی، حساب اور دوسری مفید مہارتیں۔ جہاں تک سوال ہے ان چیزوں کا جنہیں وہ تفریحات یا انٹرٹینمنٹ کا نام دیتے ہیں تو ایسی چیزیں پروگراموں میں شامل کرنا درست نہیں؛ کیونکہ یہ وقت کے ایک حصے کو بے کار گنوانا ہے، بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس فائدے کے لئے وہ آئے ہیں وہ ان (فضول سرگرمیوں)  میں مشغول ہوکر اس (اصل فائدے) کو بھی بھلا دیں۔ انہیں (فضول اور نقصان دہ کاموں)میں سے: ڈرامے ،نظمیں وترانےاور طالبعلموں کو ایسے ڈراموں اور گانوں کی تربیت دینا جو مختلف سٹلائیٹ چینلز پر نشر (ٹیلی کاسٹ) ہوتے ہیں کیونکہ یہ محض لہوولعب ہیں([1]

 


[1]شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ اپنی کتاب "الخطب المنبریۃ" (3/184-185) (ط 1411ھ)  میں فرماتے ہیں: (جس چیز پر تنبیہ ضروری ہےوہ دین دار نوجوانوں کے یہاں ایسی کیسٹوں کابہت عام ہونا ہے جن پر اناشید ریکارڈ ہوتے ہیں، جو کے اجتماعی آوازوں (گروپ یا کورس) میں گائی جاتی ہیں جنہیں یہ "أناشيد إسلامية " (اسلامی ترانوں یا نظموں) کا نام دیتے ہیں یہ گانوں کی ہی ایک قسم ہے، اور کبھی یہ فتنہ انگیز  آوازوں  پر بھی مبنی ہوتی ہے جو کیسٹ سینٹروں میں قرآن کریم کی تلاوتوں اور دینی تقاریر کے ساتھ بکتی ہیں۔

ان ترانوں کو اسلامی ترانوں کا نام دینا غلطی پر مبنی ہے؛ کیونکہ اسلام نے ہمارے لئے ان ترانوں کو مشروع نہیں کیا، بلکہ اس نے ہمارے لئے ذکر اللہ،  تلاوت قرآن اور علم نافع حاصل کرنے وغیرہ کو مشروع کیا ہے۔

جہاں تک یہ اناشیدو ترانوں کا تعلق ہےتو یہ بدعتی دینِ صوفیہ کی پیداوار ہے، جنہوں نے اپنے دین کو لہو ولعب بنارکھا ہے، اور ان ترانوں کو دینی بنانا نصاری سے مشابہت ہے، جنہوں نے اجتماعی ترانوں اور نغمات گانے باجوں کو ہی اپنا دین بنالیا ہے۔

ان ترانوں سے خبردار کرنا،  ان کی خرید وفروخت اور انہیں عام کرنےسے روکنا واجب ہے۔ اس کے علاوہ یہ ترانے اندھے جذبات اور مسلمان کے درمیان ناچاقی کے ذریعہ فتنوں کو ابھارنے کا سبب بنتے ہیں۔

جو ان ترانوں کو رواج دیتے ہیں اس بات سے دلیل پکڑ سکتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے اشعار پڑھے جاتے تھے جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنتے تھے اور اس کا اقرار کرتے تھے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ: جو اشعار  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے گنگنائے جاتے تھے وہ اجتماعی آوازوں (کورس) اور گانے کی طرز پر نہیں ہوتے تھے، اور انہیں اناشید اسلامیہ (اسلامی ترانے) بھی نہیں کہا جاتا تھا، بلکہ وہ تو اشعار عربیہ (عربی اشعار) تھے، جو حکمت، امثال، شجاعت وسخاوت کا وصف بیان کرتے تھے۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  انہیں انفرادی طور پر گنگناتے تھے وہ بھی ان معانی کی پیش نظر جو بیان ہوئے، اور اسی طرح بعض اشعار تھکاوٹ والے عمل جیسے تعمیر یا رات کے سفر میں گنگنایا کرتے تھے، جو ایسے خاص موقعوں پر اس قسم کی اشعار گنگنانے کے مباح ہونے کی دلیل ہے، نہ کہ اسے دعوت وتربیت کے سلسلےمیں بطور ایک مستقل فن بنا لیا جائے جیسا کہ ہماری موجودہ حالت ہے، کہ وہ طالبعلموں کو ایسی اناشید (نظموں/ترانوں/نغموں) کی تلقین کرتے ہیں، اور ان کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ "أناشيد إسلامية" (اسلامی ترانے) ہیں، یا پھر "أناشيد دينية " (دینی نظمیں) ہیں۔

یہ دین میں بدعت ہے، یہ تو بدعتی صوفیوں کے دین میں سے ہے؛ کیونکہ یہی لوگ اس بارے میں مشہور ہیں کہ انہوں نے ان گانوں ترانوں کو اپنا دین بنالیاہے۔

پس واجب ہے کہ اس قسم کی دسیسہ کاریوں پر تنبیہ کی جائے، اور ان کیسٹوں کی خریدوفروخت سے روکا جائے، کیونکہ برائی اور شر تھوڑے سے شروع ہوتا ہے، پھر اگر اس کے وقوع پذیر ہونے پر اس کے ازالے میں جلدی نہیں کی جاتی تو وہ ترقی پاتا ہے اور بڑھتا جاتا ہے)۔

 

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ  سے ان اناشید کے متعلق پوچھا گیا، یہ سوال وجواب بعینہ مندرجہ ذیل ہے:

سوال: کیا مردوں کے لئے اسلامی اناشید گانااور کیا ان اناشید کے ساتھ دف کا استعمال کرنا نیز عیدین اور شادی بیاہ کے علاوہ انہیں گانا جائز ہیں؟

جواب: اسلامی اناشید ایک بدعتی اناشید ہیں اور صوفیوں نے جو بدعت ایجاد کی اس کے مشابہ ہے۔  اسی لئے اس سے اعراض کرکے قرآن وسنت کے وعظ ونصیحت کی جانب جانا چاہیے، الا یہ کہ جنگ کا موقع ہو یا جہاد فی سبیل اللہ میں ان (ترانوں) کے ذریعہ پیش قدمی کی ترغیب دلائی جائے تو یہ اچھی بات ہے۔ اور اگر ان (ناجائز اناشید) کے ساتھ دف کا بھی استعمال ہو تو وہ راہ صواب سے اور بھی دور ہوجاتی ہیں۔

(شیخ رحمہ اللہ کی کتاب: "فتاوی الشیخ محمد العثیمین رحمہ اللہ سےنقل کیا گیا، جمع کردہ: اشرف عبدالمقصود:1/134-135)، طبع الثانیہ1412ھ،  دار عالم الکتب۔ (الحارثی)