Is ascribing to Salafiyyah consider as Hizbiyyah? – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

کیا سلفی کہلانا بھی حزبیت وفرقہ پرستی ہے؟   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: الاجوبۃ المفیدۃ عن الاسئلۃ المناھج الجدیدۃ، سوال13۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: کیا سلفی کہلانے والا بھی حزبی (فرقہ وگروہ پرست) تصور کیا جائے گا؟

جواب: اگر سلفی کہلانا برمبنی حقیقت ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر یہ محض دعوی ہو؛ تو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ سلفی کہلائے جبکہ (فی الحقیقت) وہ منہج سلف پر نہیں۔

مثلاًاشاعرہ (یا ماتریدیہ) کہتے ہیں کہ ہم اہل سنت والجماعت ہیں مگر یہ درست نہیں؛ کیونکہ جس چیز پر وہ قائم ہیں وہ منہج اہل سنت والجماعت نہیں، اسی طرح معتزلہ اپنے آپ کو موحدین کہلاتے ہیں۔

وَكُلٌّ يَدَّعِي وَصْلًا لِلَيْلَى                                  وَلَيْلَى لَا تُقِرُّ لَهُمْ بذاكا

جس کا یہ گمان ہے کہ وہ مذہب اہل سنت والجماعت پر ہے تو اسے چاہیے کہ طریقۂ اہل سنت والجماعت کی اتباع کرے اور اس کے مخالفین کو ترک کردے، لیکن اگر محض اس کا ارادہ ’’الضب والنون‘‘ (چھپکلی اور وہیل مچھلی) کو یکجا کرنا ہو (جیسا کہ بطور کہاوت کہا جاتا ہے)، یعنی صحرا اور سمندر کے جانداروں کو آپس میں یکجا کرنا ہو؛  یہ ناممکن ہے، یا پھر آگ اور پانی کو اپنی ہتھیلی میں یکجا کرنا ہو؛ (اسی طرح) اہل سنت والجماعت اپنے مخالفین جیسے خوراج، معتزلہ اور حزبیوں کے ساتھ مجتمع نہیں ہوسکتے ہیں، جو انہیں ’’المسلم المعاصر‘‘ (دور حاضر کے مسلمان)کہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان اہل عصر (زمانہ) کی گمراہیوں کو منہج سلف کے ساتھ جمع کردیں، پس(یہ جاننا چاہیے کہ) ’’لا يصلح آخر هذه الأمة إلا ما أصلح أولها‘‘ (اس امت کے آخر کی اصلاح نہیں ہوسکتی مگر اسی چیز سے جس سے اس کے اول کی اصلاح ہوئی تھی)۔

حاصل کلام یہی ہے کہ ان معاملات میں تمیزکرنا اور وضاحت لازم ہے([1]


[1] شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنے فتاوی (4/149) میں فرماتے ہیں جس کی عبارت یہ ہے:

’’لا عيب على من أظهر مذهب السلف وانتسب إليه واعتزى إليه، بل يجب قبول ذلك منه بالاتفاق؛ فإن مذهب السلف لا يكون إلا حقًا‘‘ (اس شخص پر کوئی عیب نہیں جو مذہب سلف کو ظاہر کرتا ہے اور اس کی جانب انتساب کرتا ہے، بلکہ اس بات پر اتفاق ہے کہ اس سے اس بات کو قبول کرنا واجب ہے ؛ کیونکہ مذہب سلف سوائے حق کے اور کچھ نہیں)۔

میں یہ کہتا ہوں کہ اےقاری بھائی  شیخ الاسلام کے اس کلام پر غور کرو جو آج سے آٹھ صدیاں پرانا ہے، مگر ایسا لگتا ہے گویا کہ وہ  دورحاضر کے کچھ ایسے لوگوں پر رد کررہے ہیں جو علم کی جانب منسوب ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ کہتے ہیں کہ: ’’من أوجب على أحد الناس – أوجبه وجوبًا – أن يكون : إخوانيًا، أو سلفيًا، أو تبليغيًا، أو سروريًا؛ فإنه يُستتاب، فإن تاب وإلا قُتِل!!‘‘ (جو لوگوں پر یہ لازم قرار دے، واجبی طور پر،  کہ وہ اخوانی، سلفی، تبلیغی، سروری بنے، تو اس سے توبہ کروائی جائے، پس اگر وہ توبہ کرلے تو بہتر ورنہ اسے قتل کردیا جائے) یہ بات اس کیسٹ میں کہی جو نوجوانوں کے یہاں بعنوان : ’’فِرَّ من الحزبية فرارك من الأسد‘‘ (حزبیت سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو)عام ہے(جس داعی کے بارے میں بات کی جارہی ہے وہ عائض القرنی ہے جس کے بارے میں کچھ وضاحت آگے آرہی ہے)۔

میں کہتا ہوں سبحان اللہ!، اس نے کیسے اپنے آپ کو اس بات کی اجازت دی کہ سلفی منہجِ حق کو ان مناہج وفرقہ ہائے ضالہ، باطلہ اور بدعتیوں کے ساتھ لاکھڑا کیا؟ ہمارا اس شخص سے جو بلاد توحید میں رہتا ہے، جس کا ماسٹرز میں حدیث کے موضوع پر رسالہ بھی ہے اور حال ہی میں ڈاکٹریٹ بھی مکمل کیا ہے سوال ہے : کہ اگر کوئی سلفی بھی نہ بنے تو پھر کیا بنے؟!!

علامہ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو سلفی یا اثری کہلاتا ہے، کیا یہ اپنے نفس کا تزکیہ دینا ہے؟

پس آپ رحمہ اللہ نے یہ جواب ارشاد فرمایا: ’’إذا كان صادقًا أنه أثري أو أنه سلفي لا بأس، مثل ما كان السلف يقول : فلان سلفي، فلان أثري، تزكية لا بد منها، تزكية واجبة‘‘ (من محاضرة مسجلة بعنوان : “حق المسلم”،  في 16/1/1413ھ بالطائف) (اگر وہ واقعی سچا ہے کہ وہ سلفی یا اثری ہے تو کوئی حرج نہیں، جیسا کہ سلف کہا کرتے تھے: فلان سلفی، فلان اثری، یہ تزکیہ تو ضروری اور واجب ہے)۔

اور شیخ بکر ابو زید رحمہ اللہ  فرماتے ہیں: ’’اگر کہا جائے کہ سلف یا سلفی لوگ یا سلفی مسلک پر چلنے والے، تو یہ نسبت سلف صالحین کی طرف ہے یعنی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور جنہوں نے بھلائی میں ان کی پیروی کی برخلاف ان کے جو اپنی اہواءوخواہش نفس  کی طرف مائل ہوگئے۔۔اور جو منہج نبوت پر ثابت قدم ہوئے انہوں نے اپنے سلف صالحین کی جانب نسبت کی تو انہیں سلف یا سلفیون کہا جانے لگا اور ان کی جانب نسبت سلفی ہوئی۔  پس لفظ سلف سے مراد سلف صالحین ہیں اور یہ لفظ جب مطلقاً استعمال کیا جائے گا تو اس سے مراد ہر وہ شخص جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقے کی پیروی کرے خواہ وہ ہمارے اس زمانے میں ہی کیوں نہ ہو، یہی اہل علم کا کہنا ہے۔ اس نسبت کی کوئی بھی تعریف وتفصیل کتاب وسنت سے باہر نہیں، اور یہ نسبت ایک لحظہ کے لئے بھی اولین مسلمانوں سے الگ نہیں ہوئی بلکہ یہ تو انہی کی طرف سے ہے اور انہی کی جانب منسوب ہے ۔  البتہ جو ان کی مخالفت کرے چاہے اسماً ہو یا رسماً، تو اس کا ان سے کوئی تعلق نہیں خواہ وہ ان  کا ہم عصر ہو اور ان کے درمیان ہی کیوں نہ رہتا ہو‘‘۔ (“حكم الإنتماء إلى الفرق والأحزاب والجماعات الإسلامية” ص 46  ط. الثانية)۔

اور آپ رحمہ اللہ نے اپنی  مشہور ومایہ ناز کتاب ’’حِلية طالب العلم‘‘ ص 8 میں یہ عنوان قائم فرمایا: ’’كن سلفيَّاً على الجادّة‘‘ (صحیح اور حقیقی سلفی بن جاؤ)۔

اور میں یہ کہتا ہوں کہ یہ نسبت تو سیرت وتراجم (سوانح حیات) کی کتابوں میں چلتی آئی ہے، دیکھئے امام ذہبی رحمہ اللہ  محمد بن محمد بہرانی رحمہ اللہ کے حالات کے بارے لکھتے ہیں: ’’وكان ديِّناً خيِّراً سلفيِّاً‘‘ (معجم الشيوخ : 2/280)  (وہ بہت دین دار،  فیاض اور سلفی تھے)۔

اور احمد بن احمد بن نعمۃ المقدسی رحمہ اللہ کے حالات لکھتے ہوئے فرمایا: ’’وكان على عقيدة السلف‘‘ (معجم الشيوخ : 1/34) (اور وہ سلف کے عقیدے پر تھے)۔

پس سلف کی جانب نسبت لازمی ہے تاکہ سلفی برحق اور جو ان کے پیچھے چھپا ہوا ہے ظاہر ہوجائے، اور تاکہ یہ بات اس شخص پر مشتبہ نہ ہوجائے جو ان کی اقتداء کرنا چاہتا ہےاور ان کے نقش قدم کی پیروی کرنا چاہتا ہے۔ جب منحرف مذاہب ،گمراہ اورگمراہ گر جماعتوں کی کثرت ہو تو اہل حق سلف کے ساتھ اپنے انتساب کا اعلان کرتے ہیں تاکہ ان کے مخالفین سے برأت کا اظہار کرسکیں، اللہ تعالی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مومنوں سے فرماتا ہے:

﴿فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ﴾ (آل عمران : 64)

(اور اگر یہ منہ پھیریں تو کہہ دو گواہ رہنا کہ ہم تو بے شک مسلمان ہیں)

﴿وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَى اللّٰهِ وَعَمِلَ صَالِحًـا وَّقَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ﴾ (فصلت :33)

(اس شخص سے زیادہ کس کی بات اچھی ہوگی جو اللہ تعالی کی راہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور خود بھی نیک عمل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مسلمانوں میں سے ہوں)

﴿وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ (یوسف :108)

(اور میں مشرکوں میں سے نہیں)۔ (جمال بن فریحان الحارثی)

اس کے بعد (الحارثی ) عائض القرنی سے متعلق ایک وضاحت فرماتے ہیں: یہ کتاب مکمل کرنے کے بعد مجھے بعض اوراق موصول ہوئے جن میں عائض القرنی کی جانب سے کی گئی بعض غلطیوں پر رجوع تھا؛ تو میں نے رجوع کردہ باتوں میں سے اس لخزش کو بھی پایا؛ پس عدل وانصاف کا تقاضہ ہے کہ اس کے رجوع کرنے کو بھی ذکر کردیا جائے؛ مگر بعض تحفظات کو پھر بھی مدنظر رکھ کر جیسے بعض دوسری لخزشوں سے رجوع کرنا (جوباقی ہے) اور اس (موجودہ) رجوع میں بھی ایسا (مشکوک) اسلوب استعمال کرنا جنہیں مغالطات کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا؛ چناچہ وہ کہتا ہے: ’’چودھویں غلطی: میں نے اپنی کیسٹ بعنوان ’’فِرَّ من الحزبية فرارك من الأسد‘‘  میں کہا تھا کہ : ’’جو لوگوں پر یہ لازم قرار دے، واجبی طور پر،  کہ وہ اخوانی، سلفی، تبلیغی، سروری بنے، تو اس سے توبہ کروائی جائے، پس اگر وہ توبہ کرلے تو بہتر ورنہ اسے قتل کردیا جائے‘‘۔ یہ عبارت میری جانب سے خطاء تھی اور میں اس پر اللہ تعالی سے استغفار کرتا ہوں حالانکہ میری مراد اس سے صرف یہی تھی کہ جس نے ایسا کیا گویا کہ اس نے شریعت سازی کی مگر بہرحال یہ ایک غلطی ہی تھی، اور میں اس پر معذرت خواہ ہوں، اور یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ منہج سلف یہی صحیح مذہب ہے جس کی اتباع اور جس پر اکتفاء کرنا اور اس پر چلنا ہر انسان پر فرض ہے‘‘۔ (اوراق سے نقل ختم ہوئی)۔

اہل سنت والجماعت کے یہاں یہ بات معلوم ہے کہ ہر قسم کی غلطیوں سے رجوع لازم ہے نہ کہ صرف بعض سے، اور یہ بھی کہ اعتراف، قولِ صواب کا بیان اور رجوع کو وسائل نشر واعلان کے ذریعہ لکھنا چاہیے تاکہ ہر شخص اس سے باخبر ہوجائے ناکہ الگ تھلگ کچھ اوراق پر جسے بہت ہی کم لوگ جان پائیں؛ پس اے قاری بھائی ان مغالطات سے متنبہ رہیں !!۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’من – شرط – توبة الداعي إلى البدعة : أن يبين أن ما كان يدعـو إليه؛ بدعة وضلالة وأن الهدى في ضده‘‘۔ (عدة الصـابرين : 93) (اپنی بدعت کی جانب دعوت دینے والے بدعتی کی توبہ کی شرائط میں سے یہ بھی ہے: کہ وہ بیان کرے کہ جس چیز کی طرف وہ دعوت دیتا تھا وہ بدعت وگمراہی ہے اور ہدایت تو اس کی ضد میں ہے)۔

پھر ہم یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ: کیا یہ واحد غلطی اور اکلوتی لخزش ہے جو اس داعی (جس نے حال ہی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی) سے سرزد ہوئی؟ مندرجہ ذیل عبارات پڑھیں:

اپنی کتاب ’’المسك والعنبر..‘‘ (1/189) میں کہتے ہے: ’’ہم نے گزشتہ ہجری سال میں کیا کارنامے انجام دیئے؟ آپ کو چاہیے کہ آپ بھی میرے ساتھ تعجب کریں !! اگرتم تعجب کرو تو ان کے اس سلوک پر تعجب کروجو انہوں نے ہجرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ برتا!! کہاں یہ وہ صبح کے اخبارات؟ کہاں ہیں وہ اسکرین پر؟ کہاں ہیں وہ اخبارات جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زندہ کریں؟ ایسے ممالک جن کا سورج طلوع نہیں ہوا مگر انہی کی دعوت سے، مگر وہ انہیں زندہ نہیں کرتے؟ ایک کلمہ بھی نہیں (ان کے لئے)!! (اخبارات میں) کوئی چھوٹی سے پوسٹ بھی نہیں!! اور نہ کم از کم (اخبارات) کے کونے کھانچے میں ہی کچھ (چھاپا گیا)جو اس عظیم مصلح کو زندہ کرتا!!‘‘۔

(میں یہ کہتا ہوں) کیا یہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت نہیں اگرچہ اس جیسی نہیں، جسے تمام اخبارات، ریڈیو اور چینلز زندہ کرتے ہیں سوائے اس سلفی وسنی حکومت یعنی بلاد حرمین مملکت سعودی عرب کے (اللہ تعالی اہل اہواء اور بدعت سے اس کی حفاظت کرے) اور یہ داعی یوم ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منانے میں غلو کی مزید تاکید کرتے ہوئے کہتا ہے، (1/190): ’’ایسے لوگ کل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا عذر پیش کریں گے؟!!‘‘ یعنی جو لوگ یوم ہجرت کو کتابوں، اخبارات میں کلام کرکے، ریڈیو یا ٹیلی وژن پر زندہ نہیں کرتے۔

اور اس نے اپنے اس سابقہ کلام سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لئے مزید غلو اختیار کیا اور کہا: ’’پر جو سب سے پہلے آزادی دلانے والے، کائنات کو متعین کرنے والے انسان، ایسے شخص جن کے ذریعہ اللہ تعالی نے امت کی اصلاح فرمائی؛ ان کے بارے میں کوئی کلام اور کوئی سیرت نگاری نہیں‘‘۔

(میں یہ کہتا ہوں) یہ تو پکا صوفیوں کا کلام ہے۔ کس طرح یہ داعی امت پر تہمت لگاتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت نگاری نہیں کی، یہ تو ہمارے سلف صالحین پر تہمت ہے؛ کتنی ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت وشمائل پر مبنی کتابیں موجود ہیں، الا یہ کہ ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرز پر بیان کرنا مطلوب ہو، تو اس سے اللہ تعالی ہی ہمیں محفوظ وسلامت رکھے۔ مزید معرفت کے لئے دیکھیں جو اس نے دسویں وقفے کے بعد ص  245پر کہا۔ (الحارثی)

kiya_salafi_kehlana_bhi_hizbiyyat_hai