Are the Saudi 'Ulamaa pressurize by government? – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

کیا سعودی علماء پر حکومتی دباؤ ہوتا ہے کہ وہ ان کے خلاف کلام نہیں کرسکتے   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الاجابات المھمۃ فی المشاکل المدلھمۃ، سوال 10۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: سماحۃ الشیخ آپ اوراس مملکت میں  آپ کے ساتھی علماء الحمدللہ سلفی ہیں اور اور حکمرانوں کونصیحت کرنے کا آپ کاطریقۂ کار شرعی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایاہے (یہی بات ظاہر ہے اور ہم اللہ تعالی کے سامنے تو کسی کا تزکیہ بیان کرنے سےقاصر ہیں)۔ لیکن بعض ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو آپ لوگوں کی اس طور پر عیب جوئی کرتے ہیں کہ آپ حکومت پر شرعی مخالفت کرنے کے باوجود علانیہ نکیر نہیں کرتے اور بعض دوسرے لوگ آپ کی خاطریہ عذر بیان کرتے ہیں کہ آپ پر حکومت کی طرف سے دباؤ ہوتا ہے اس لیے آپ ان پر تنقید نہیں کرسکتے۔ لہذا اس بارے میں کوئی توجیہ ووضاحت فرمائیں؟

جواب: بلاشبہ حکمران بھی دیگر انسانوں کی مانند بشر ہیں جو کہ غلطیوں سے پاک ومعصوم نہیں۔ اور ان کو نصیحت کرنا واجب ہے۔  لیکن مجالس ومنابر پر ان کا مؤاخذہ کرنا حرام غیبت شمار ہوگا اور یہ ایک ایسا منکر فعل ہوگاجو خود ان حکمرانوں کے منکر افعال سےبڑھ کرہوگاکیونکہ یہ غیبت ہے۔ اور امت کا کلمہ منتشرکرکےاس میں فتنہ وفساد کابیج بونے کا سبب ہے۔ساتھ ہی دعوت کی پیش رفت پر بھی منفی اثر مرتب کرنے کا سبب ہے۔ پس ان تک نصیحت پہنچانا واجب تو ہے مگر محفوظ ومامون طریقوں سے ناکہ تشہیر واشاعت کے ذریعہ۔

اور جہاں تک معاملہ ہے اس مملکت کے علماء کرام پر طعن وتشنیع کرنے کا ، کہ وہ نصیحت نہیں کرتےیا ان پر حکومتی دباؤ ہے وغیرہ تو یہ ایسے اتہامات ہیں کہ جن کے ذریعہ علماء کرام  اور نوجوانوں اورمعاشرے میں خلیج پیدا کرنا مقصود ہے  تاکہ فسادیوں کوشروفساد کے بیج بونے کا موقع مل سکے۔ کیونکہ اگر علماء کرام کے بارے میں سوء ظن اور عدم اعتماد پیدا ہوگیا تو مغرض لوگوں کو اپنا زہر سرایت کرنے کی فرصت مل جائے گی ۔ اور مجھے یقین ہے کہ یہ افکار باہر سے غیرملکی عناصر اس ملک میں درآمد کرکے یہ دسیسہ کاری کررہے ہیں۔ پس مسلمانوں کو اس سے خبردار رہنا واجب ہے۔