Praising the Khawarij shows imperfection in understanding the Islaam – Shaykh Saaleh bin Abdul Azeez Aal-Shaykh

خوارج کی تعریف کرنا اسلام کے فہم میں خلل کی علامت ہے

فضیلۃ الشیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ

(وزیر وزارت مذہبی امورواوقاف ورکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: یہ اقتباس جریدہ “الریاض” تاریخ 2001/11/8 کے ایک انٹرویو سے لیا گیا ہے۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


اسلام کے فہم میں انحراف پر بات کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ:

 اس کے بہت سے اسباب ہیں، لیکن جو اہم ہے وہ یہ کہ جو معلمین جامعہ کی تعلیمی سطح سے پہلے (کلاسوں میں) مقرر ہوتے ہیں ان کے انتخاب کے بارے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے، میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں جو کہتے ہیں کہ سلیبس میں خرابی ہے، (بلکہ میرے خیال میں) اصل خرابی معلمین کی ہےانہیں مختصر ساسلیبس دے دیا جاتا ہے، جوایسا سلیبس ہوتا ہے کہ جسے اگر ہمیں دیا جائے اور ہم اس کی شرح کریں مثلاً متوسطہ میں مقررعقیدہ کاسلیبس لے لیں،عین ممکن ہے کہ ہم اسے ایک ہی دن میں اول تا آخر پڑھ جائیں کیونکہ یہ سارا کا سارا محض بیس یا تیس صفحات پر مشتمل ہے۔

اب ایک معلم (ٹیچر) اگر اسی سلیبس کو پورا ایک سال پڑھائے یا پھر روزانہ ایک گھنٹہ پڑھائے تو تصور کریں کہ کیا شرح کرتا ہوگا۔ (لیکن اس کے باوجود حال یہ ہے کہ) بعض معلمین تو معانی تک صحیح نہیں بتاتے، جس کا مشاہدہ میں نے خود اپنے بچوں میں کیا کہ وہ آئے اور مجھے سننا نے لگے کہ (والد صاحب) اس لفظ  کا معنی یہ ہے اور اس کا معنی وہ ہے، اس لفظ کا مفہوم یہ ہے اور اس لفظ کی تطبیق اس شکل میں ہوتی ہے وغیرہ، حالانکہ وہ صحیح بات کے خلاف تھا (جو وہ بیان کررہے تھے)۔یہاں تک کہ عقیدہ وتوحید کےمسائل میں بھی میں نے غلط شکل میں تطبیق کرتے دیکھا، اور یہ وہی دینی سلیبس ہے جو آپ  سب پڑھ چکے ہیں۔۔۔

پھر کیا وجہ ہے کہ یہ دینی انحراف اور غلو آج سے تیس سال پہلے نہ تھا جو یہ آخری پندرہ سالوں میں واقع ہوا ہے؟ان آخری پندرہ سالوں میں نوجوانوں میں جو (غلط) جوش وجذبہ ابھرا ہے اس کا علاج بےحد ضروری ہے۔

جن میں سے اہم سبب معلم ہے، اسی لئے میں یہ کہتا ہوں کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ایک معلم شرعی ودینی موضوعات پر صحیح طور پر تربیت یافتہ ہو، ہر کوئی جو کلیہ شریعہ یا کلیہ اسلامیہ سے فارغ ہو اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ معلم بنے([1])۔

معلم کو سب سے پہلے تو مکمل تیاری کی ضرورت ہے دوسری ایک مفصل کتاب معلم کی ہونی چاہیے جس سے وہ باہر نہ جائے، اور اگر وہ اس کتابِ معلم سے باہر نکلے تو اس کا محاسبہ کیا جائےکیونکہ دینی مسائل میں کتابِ معلم کا تو وجود ہی نہیں ہے، یہاں کتاب الفقہ، کتاب التوحید، کتاب التفسیر موجود ہیں لیکن شرح کہاں ہے، اور کون کررہا ہے، آپ کو وہ بہت سے مدارس کی لسٹ بتادیں گے۔ یہاں تک کہ فی زمانہ کبھی آپ بعض مدرسین کو اسامہ بن لادن([2]) کی تعریف کرتے سنیں گےاور یہ فہم اسلام میں واضح خلل ہے۔


[1] مزید پڑھیں ہمارے ویب سائٹ پر مضمون ’’ کیا جامعہ سے فارغ ہونا کسی کے عالم ہونے کی دلیل ہے ؟‘‘  – شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[2] شیخ احمد النجمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جو اس کی تعریف کرتا ہے تو یہ دلیل ہے کہ وہ اسی جیسا خارجی ہے ‘‘  ۔ مقالہ ’’ کیا اسامہ بن لادن ہی مہدی منتظر ہے؟ ‘‘  ۔(توحید خالص ڈاٹ کام)

khawarij_ki_tareef_fehm_islaam_khalal