Are these groups counted amongst AhlusSunnah wal Jama’ah? – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah bin Baaz

کیا یہ اہل سنت  والجماعت میں شامل ہیں!؟

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ المتوفی سن 1420ھ

(سابق مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: ماخوذ از ویب سائٹ سحاب السلفیہ 24 فروری 2009۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال: سائل بعض اسلامی جماعتوں کی بابت دریافت کرتا ہے جیسے تبلیغی جماعت اور  جماعت اخوان المسلمین،  اورپوچھتا ہے کہ آیا یہ جماعتیں اہل سنت  والجماعت میں شامل ہیں!؟

جواب: تبلیغی جماعت ہو یا جماعت اخوان المسلمین ان سب میں نقص موجود ہے، انہیں چاہیے کہ وہ اپنا محاسبہ کریں، حق پر استقامت کا مظاہرہ کریں۔ توحید الہی اور اس کے لئے اخلاص، اس پر ایمان اور اس کی شریعت کی اتباع کے متعلق  جس چیز کی طرف کتاب وسنت دلالت کرتے ہیں اسے نافذ کریں۔ اخوان المسلمین (اللہ تعالی انہیں توفیق دے) پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کریں، اپنے اندر شریعت کو نافذ کریں، دین الہی پر قولاً وعملاً وعقیدتا ًاستقامت اختیار کریں اور احکام الہی کی مخالفت سے خبردار کریں اگرچہ وہ کہیں بھی ہوں۔ تبلیغی جماعت کو بھی چاہیے کہ وہ ان باتوں سے خبردار کریں جن پر ان کے اسلاف تھے جیسے قبروں کی ناجائز تعظیم اور ان پر مزار تعمیر کرنا، یا پھر اسے مسجد بنادینا، یا انہیں پکارنا اور فریادیں کرنا، یہ سب منکرات ہیں، اور ان سے فریاد کرنا تو شرک اکبر ہے، ان پر لازم ہے کہ وہ اس سے خبردار کریں اور ڈرایں، ان کے یہاں دعوت الی اللہ کے بارے میں کافی نشاط وچستی ہے، اور ان میں سے بہت سوں کی وجہ سے اللہ تعالی لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے،لیکن ان کے اسلاف کا عقیدہ صحیح نہیں تھا، پس جو ان کے بعد آنے والے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اس سے پاک ہوجائیں، اور اس گندے عقیدے سے لوگوں کو ڈرائیں، اور توحید الہی پر ڈٹ جائیں اور استقامت کا مظاہرہ کریں تاکہ اللہ تعالی ان کے اور ان کے جہاد کے ذریعہ فائدہ پہنچائے۔

سوال: احسن اللہ الیک، نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی امتوں کے تفرقے کے متعلق حدیث مبارکہ ہے ،آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا یہ فرمان:

’’وَإِنَّ أُمَّتِي سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ، إِلَّا وَاحِدَةً‘‘([1])

(عنقریب میری امت بھی تہتر (73) فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی سوائے ایک کے سب جہنم میں جائیں گے)۔

 پس کیا تبلیغی جماعت اپنی شرکیات اور بدعات کی موجودگی میں اسی طرح  جماعت اخوان المسلمین  اپنی حزبیت اور حکام کے خلاف بغاوت اور ان کی سمع واطاعت نہ کرنے کی موجودگی میں ان ہلاک ہونے والے فرقوں میں داخل ہیں؟

 شیخ (اللہ تعالی آپ کی مغفرت فرمائے اور اپنی وسیع رحمت میں ڈھانپ لے) جواب میں فرماتے ہیں:

جی ہاں، جو بھی عقیدۂ اہل سنت  کی مخالفت کرتا ہے وہ ان بہتر (72) ہلاک ہونے والے فرقوں میں داخل ہے، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے اس قول ’’ أُمَّتِي‘‘ (میری امت) سے مراد امت الاجابۃ ہے یعنی جنہوں نے (بظاہر) آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی دعوت کو تسلیم کیا اور ان کی اتباع کو ظاہر کیا ان میں تہتر(73) فرقے بن جائیں گے، سلامت رہنے والا اور نجات پانے والا وہی ہوگا جو ان کی حقیقی اتباع کرے گا اور دین پر استقامت اختیار کرے گا، جبکہ یہ بہتر(72)  فرقے ایسے ہوں گےکہ ان میں سے بعض کافر ہیں، بعض بدعتی اور بعض گنہگار یعنی ان میں مختلف اقسام ہیں۔

سوال: کیا یہ دونوں فرقے ان بہتر (72) ہلاک ہونے فرقوں میں داخل ہیں!؟

جواب: جی ہاں، یہ بہتر (72) ہلاک ہونے والے فرقوں میں سے ہیں([2])، اسی طرح مرجئہ اور خوراج بھی، بلکہ خوارج کو تو بعض علماء کرام دین سے خارج کافر سمجھتے ہیں، لیکن بہتر (72) فرقوں کے عموم میں یہ بھی داخل ہیں۔


[1] صحیح ابن ماجہ 3242وغیرہ۔

[2] بعض لوگ شیخ رحمہ اللہ اور سعودی فتویٰ کمیٹی کے بعض قدیم اور عمومی فتاویٰ  پیش کرتے ہيں جن میں انہيں اہل سنت کے عام حکم میں داخل بتایا گیا ہے، لیکن ان کی حقیقت مزید کھلنے کے بعد آخری فتویٰ اور قول یہی ہے۔ اور اب تو ان پر باقاعدہ حکومتی سطح پر گمراہ فرقہ قرار دے کر پابندی لگنا ہر خاص و عام پر عایاں ہے۔  اس وضاحت کے متعلق پڑھیں مقالہ: شیخ ابن باز رحمہ اللہ اور فتویٰ کمیٹی، سعودی عرب کے کلام سے اپنی حزبیت وجماعت سازی پر استدلال کرنا – مختلف علماء کرام۔

جبکہ دوسری طرف  ان کے ہم منہج ہونےکی وجہ سے 2014 ع میں مرکزی جمعیت اہلحدیث کے امیر پروفیسر ساجد میر صاحب اپنے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر شاہد مسعو د کے سامنے اقرار کرتے ہیں کہ اخوان المسلمین ہمارا ہی سلسلہ ہے ہم ان سے اور وہ  ہم میں سے ہیں۔ جب انہوں نے کہا کہ ہم تقلید نہيں کرتے تو سوال ہوا۔۔۔

ڈاکٹر شاہد مسعود: اچھا اخوان المسلمون کو کیسے دیکھتے ہیں آپ؟وہ بھی قرآن وحدیث کی بات کرتے ہیں؟

ساجد میر: جی جی وہ بھی اس سلسلے کی ایک لحاظ سے کڑی ہے۔ (پروگرام : ان کے  مطابق) (توحید خالص ڈاٹ کام)