Do you want blessing in your ilm? – Sukhainah bint Shaykh Albaanee

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کےعلم میں برکت ہو؟   

سکینہ بنت محمد ناصر الدین البانی حفظہا اللہ

(دخترِ محدث محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: تمام المنۃ بلاگ سےمنقول۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

آپ نے  علم کی برکت اور اس کا شکر ادا کرنے کے بارے میں کئی ایک علماء سلف کا کلام نقل کیا جیسے حافظ ابن رجب(جامع بیان العلم وفضلہ2/89)امام نووی (بستان العارفین) الخلال (آداب الشرعیۃ) الوزیر المغربی (ادب الخواص) وغیرہ اور ان سب کا خلاصہ یہی ہے کہ جو اپنے علم میں برکت چاہتا ہے اور اس کا صحیح معنوں میں شکر ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ ہر قول اور علمی فائدہ کو اس کے حقیقی قائل کی طرف منسوب کرے۔ یہ سوچ کر بتانے سے گریز نہ کرے کہ میری تعریف ہو کہ میں نے یہ علمی نکتہ تلاش کیا ہے حالانکہ وہ کسی اور امام یا سلف کے قول سے ماخوذ ہو۔

پھر آپ نے اس بارے میں احادیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کیں، صحیح بخاری ومسلم میں ہے کہ:

’’الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ‘‘([1])

(جو چیز کسی کو حاصل نہیں اس پر فخر کرنے والا اس شخص جیساہے کہ جو فریب کے دو لبادے([2]) اوڑھے)۔

 یعنی دوسروں سے مانگ کر پہنے اور کہے کہ یہ میرا ہے۔

اسی طرح صحیح مسلم میں ہے:

’’مَنِ ادَّعَى دَعْوَى كَاذِبَةً لِيَتَكَثَّرَ بِهَا لَمْ يَزِدْهُ اللَّهُ إِلاَّ قِلَّةً‘‘([3])

(جو شخص جھوٹا دعویٰ کرے اپنا مال بڑھانے کے لئے تو اللہ تعالی اس کا مال اور کم کردے)۔

اور اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ﴾ (آل عمران: 188)

(وہ لو گ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں آپ انہیں عذاب سے چھٹکارے میں نہ سمجھیں، ان کے لئے تو دردناک عذاب ہے)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے گویا کہ مندرجہ بالا احادیث کواس آیت کی تفسیر مانا ہے۔(تفسیر ابن کثیر2/181)۔

پہلی حدیث کی مناسبت تو یہ ہے کہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا:

’’یا رسول اللہ ! میری سوکن ہے اگر میں اپنے شوہر کی طرف سے ان چیزوں کے حاصل ہونے کی بھی داستانیں اسے سناؤں جو حقیقت میں میرا شوہر مجھے نہیں دیتا (محض اس کا دل جلانے اور اپنی بڑائی ظاہر کرنے کو) تو کیا اس میں کوئی حرج ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: جو چیز حاصل نہ ہو اس پر فخر کرنے والا اس شخص جیسا ہے جو فریب کے دو جوڑے یعنی (دوسروں کے کپڑے) مانگ کر پہنے)([4]) (یا اپنے تئیں زاہد ،متقی یا عالم ظاہر کرے حالانکہ اصل میں وہ دنیا دار ،فریبی اور جاہل ہو)۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری 9/317-318 میں فرماتے ہیں : ’’الْمُتَشَبِّع‘‘  کا معنی ہے  ایسی چیز سے اپنے آپ کو متزین ظاہر کرنا جو اس کے پاس نہیں تاکہ اس جھوٹی بناوٹ کے ذریعہ  لوگوں پر بڑائی ثابت کرے۔ جیسا کہ یہ عورت جس کی سوکن بھی ہے  تو اس نے محض اس کا دل جلانے کو جھوٹا دعویٰ کیا کہ اسے اپنے شوہر کی طرف سے بہت سہولیات وآسائش حاصل ہیں حالانکہ درحقیقت ایسا نہیں۔ اور یہی معاملہ مردوں کا بھی ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’الْمُتَشَبِّع‘‘وہ ہے جو ظاہر کرے کہ میں پیٹ بھرا عیش میں ہوں حالانکہ دراصل ایسا نہیں، اور یہاں اس کا معنی یہ ظاہر کرنا ہے کہ اسے خاص فضلیت حاصل ہے حالانکہ وہ اسے حاصل نہیں اور’’وَلابِسُ ثَوْبَي زُورٍ‘‘ (جھوٹ کےدولبادے اوڑھنے ) کا مطلب ہے جھوٹ وفریب والا جو لوگوں کو اہل زہد، اہل علم یا اہل ثروت ہونے کا فریب پر مبنی تاثر دیتا ہے ، تاکہ لوگوں کو مغالطے میں رکھ سکے، حالانکہ درحقیقت وہ ان صفات سے متصف نہیں۔اور اس کے علاوہ بھی اس بارے میں اقوال ہیں، واللہ اعلم۔ (ریاض الصالحین والد محترم " کی تحقیق کے ساتھ ص 551 -552)۔

اور قاضی عیاض رحمہ اللہ دوسری حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

’’مَنْ اِدَّعَى دَعْوَى كَاذِبَة لِيَتَكَثَّرَ بِهَا؛ لَمْ يَزِدْهُ اللَّهُ إِلَّا قِلَّةً‘‘

(جو شخص جھوٹا دعویٰ کرے اپنا مال بڑھانے کے لئے تو اللہ تعالی اس کا مال اور کم کردے)۔

یہ عام ہے ہر اس دعویٰ کے بارے میں جو کوئی شخص ایسی چیز کا حامل ہونے کا دعویٰ کرے جو اسے عطاء نہیں کی گئی خواہ وہ مال ہوجیسےوہ بناوٹی زینت بناکر تکبر کرتا پھرے، یا وہ کوئی نسب ہو جس کی طرف وہ منسوب ہو حالانکہ اس نسل سے اس کا تعلق ہی نہیں، یا علم کے ذریعہ جس سے وہ اپنے آپ کو آراستہ ظاہر کرے حالانکہ وہ اس کا حامل نہیں، یا دین داری ظاہر کرے حالانکہ وہ اس کا اہل ہی نہیں، ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے اس دعویٰ میں برکت نہیں دی جائے گی اور یہ اس کی کمائی کو پاک نہیں کرے گی۔ اور اسی جیسی ایک اور حدیث ہے کہ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے:

’’الْيَمِينُ الْفَاجِرَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ‘‘([5])

(جھوٹی قسم مال تو بکوا دیتی ہے لیکن کمائی کو ختم کردیتی ہے)۔

(إكمال المعلم 1/ 391)

(والد محترم) علامہ محمد ناصر الدین البانی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: علماء کرام فرماتے ہیں:

’’من بركة العلم عزو كل قول إلى قائله‘‘

(علم میں برکت کے اسباب میں سے ہے کہ ہر قول کو اس کے حقیقی قائل کی جانب ہی منسوب کیا جائے)۔

کیونکہ اسے اپنا کر اس جھوٹ سے بچا جاسکتا ہے جس کی جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اس حدیث میں اشارہ فرمایا ہے:

’’الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ‘‘

(جو چیز کسی کو حاصل نہیں اس پر فخر کرنے والا اس شخص جیساکہ جو فریب کے دو لبادے اوڑھے)۔

اسی طرح شیخ البانی رحمہ اللہ نے علماء کرام کا کلام بنا ان علماء کا ذکر کئے نقل کرنے سے (تاکہ عوام میرا قول سمجھ کر واہ واہ کریں) منع کیا ہے اور فرمایا: بالکل، یہ بھی چوری ہی ہے جو شرعا ًجائز نہیں۔ کیونکہ وہ ایسی بات بیان کرکے فخر کررہا ہے کہ جو حقیقتاً اس کی نہیں۔ اس میں تدلیس اور لوگوں کو مغالطہ دینا بھی ہے کہ یہ کلام یا یہ تحقیق اس کی اپنی علم ودانش کے بل بوتے پر ہے حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں۔

 (مقدمہ ’’الکلم الطیب‘‘  ص 11-12)

 


[1] صحیح بخاری 5219، صحیح مسلم  2132۔

 

 

 

[2] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں فرماتے ہیں یہاں تثنیہ (دو) کا صیغہ استعمال کرنے کے بارے میں کئی اقوال ہیں جیسے وہ دو جھوٹ جمع کرلیتا ہے ایک جھوٹ کے فلاں چیز اسے حاصل ہے حالانکہ ایسا  نہیں تو اپنے نفس سے دھوکہ کیا اور دوسرا لوگوں پر ظاہر کرنا کہ اسے یہ حاصل ہے حالانکہ ایسا نہیں تو لوگوں کو دھوکہ دیا۔ اور اس کے علاوہ بھی کچھ اقوال بیان کئے گئے ہیں، دیکھیں صحیح بخاری میں اسی حدیث کی شرح۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

 

 

[3] صحیح مسلم 112۔

 

 

 

[4] صحیح بخاری 5219، صحیح مسلم 5584۔

 

 

 

[5] مسند احمد 7166 میں  ’’الْيَمِينُ الْفَاجِرَةُ ‘‘ کی جگہ ’’الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ‘‘کے الفاظ ہیں۔شیخ البانی السلسلہ الصحیحہ میں فرماتے ہیں اس کی اسناد امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے3363۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)