Are “Taha” and “Yaseen” from among the names of the prophet (SalAllaho alayhi wasallam)? – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

کیا’’طہ‘‘ اور ’’یس‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ناموں میں سے ہیں؟   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ وتبویب: طارق علی بروہی

مصدر: شرح نظم الورقات

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

کیا ’’طہ‘‘ اسماءِرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ہے؟

نظم الورقات جو اصول فقہ پر ایک نظم ہے کی شرح (ص 141-142) میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ ایک شعر :

أفعال طه صاحب الشريعة  جميعها مرضية بديعة

کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ہمیں یہاں مؤلف (امام جوینی) رحمہ اللہ سے مناقشہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ انہوں نے ’’طہ‘‘  کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسماء میں سے شمار کیا ہے۔ حالانکہ یہ نظر واثر دونوں کے اعتبار سے صحیح نہیں۔

’’طہ ‘‘  کا اسمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونا احادیث سے ثابت نہیں

جہاں تک اثر (حدیث) کے اعتبار سے عدم صحت کا تعلق ہے تو اس بارے میں کبھی بھی کوئی حدیث نقل نہیں ہوئی نہ صحیح اور نہ ہی ضعیف کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ناموں میں سے طہ بھی ہے۔

’’طہ ‘‘  کا اسمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونا نظری طور پر بھی صحیح نہیں

اس کا اسمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ہونا نظر کے اعتبار سے بھی صحیح نہیں کیونکہ:

1- ’’طہ‘‘ مرکب ہے محض دو مہمل حروفِ تہجی کا’’ط‘‘ اور ’’ہ‘‘، اور یہ بات معلوم ہے کہ حروف ِتہجی کا بذات خود کوئی معنی نہیں ہے۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام (ثابت شدہ) ناموں کا کوئی نہ کوئی اچھا معنی ضرور ہوتا ہے۔

2- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام محض عَلَم نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تو تمام نام اعلام ہونے کے ساتھ ساتھ القاب بھی ہیں([1])۔ جبکہ ہم لوگوں کے نام تو مجرد عَلَم ہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کے نام عبداللہ رکھ تو لیتے ہیں خواہ وہ اللہ تعالی کا نافرمان ترین بندہ ہی کیوں نہ ہو! اسی وجہ سے یہ نام مجرد عَلَم بن کر رہ گیا گویا کہ پہاڑ کی چوٹی پر کوئی پتھر پڑا ہے جس کا کام محض راستے کی نشاندہی کرنا ہے اور کچھ نہیں۔

3- لیکن جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام ہیں وہ تمام کے تمام اعلام و(حقیقی) اوصاف ہیں اسی طرح سے اللہ تعالی اور قرآن کریم کے جتنے بھی اسماء ہیں وہ سب اعلام واوصاف ہیں۔

پس اس کلمہ ’’طہ‘‘  میں آپ کو کوئی وصف نظر نہیں آئے گا۔ چناچہ نظری اعتبار سے بھی ’’طہ‘‘  کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسماء میں سے نہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔

قرآن مجید سے ’’طہ‘‘ و ’’یس‘‘  وغیرہ ناموں کے استدلال کی حقیقت

اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ : آپ یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں؟ حالانکہ خود اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿ طٰهٰ، مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓي﴾ (طہ: 1-2)

(طہ، ہم نے آپ پر قرآن اس لئے نازل نہیں فرمایا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں)

تو اس میں طہ کو پکار کر کہا گیا ہے کہ آپ پر قرآن اس لئے نازل نہیں فرمایا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں جو کہ ظاہر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی خطاب ہے۔

ہم اس کا یہ جواب دیں گے کہ اگر یہی دلیل ہے تو پھر آپ کو چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ’’المص‘‘ بھی رکھ لیں! کیونکہ اللہ تعالی نے یہ بھی تو فرمایا ہے:

﴿ المّص، كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ…﴾ (الاعراف: 1-2)

(المص، یہ ایک کتاب ہے جو آپ  کی طرف نازل کی گئی ہے سو آپ کے سینے میں اس سے کوئی تنگی نہ ہو)

کیا کبھی کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’المص‘‘  کا نام سے موسوم کیا ہے؟

اسی طرح کبھی کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’الر‘‘  کہا ہے اسے دلیل بناتے ہوئے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿ الرٰ،  كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ…﴾ (ابراہیم: 1)

(الر،  یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لائیں)

پس کیاہم اس نام سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موسوم کریں گے؟ جواب ہے ہرگز نہیں، چناچہ ان کا یہ قاعدہ یا دلیل تو ٹوٹ گئی۔

حاصل ِمناقشہ

الغرض یہ ثابت ہوا کہ ’’طہ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ناموں میں سے نہیں ہے، اور اثر ونظر دونوں اعتبار سے اس کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہونا صحیح نہیں([2]

 


[1] عَلَم کا معنی نشانی کے ہیں، عربی میں کسی کا نام بطور علم استعمال ہونے کا مطلب ہے کہ محض وہ اس کا نام ہے اس کے مطلب میں جو معنی پایا جاتا ہے اس سے اس کا کوئی تعلق ہویا نہ ہوجبکہ القاب واوصاف واقعی کسی شخص میں پائے جاتے ہیں تو وہ نام برمبنی حقیقت ہوتا ہے۔ جیسے کسی کا نام صالح ہو حالانکہ وہ غیرصالح وبرا انسان ہو تو اس صورت میں صالح بس اس کی پہچان کے لئے ایک نام  عَلَم ہے نا یہ کہ واقعی وہ شخص نیک وصالح ہے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یا اللہ تعالی وقرآن کریم کے جتنے اسماء ہیں وہ واقعی ایسے عظیم اوصاف ہیں کہ جو ان میں پائے جاتے ہیں ناکہ محض عَلَم ہیں۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[2] اور یہی حکم ’’یس‘‘  کا بھی ہے۔ واللہ اعلم (توحید خالص ڈاٹ کام)