menu close menu

شدید ترین عذاب کا مستحق کون: ایک گنہگار یا بدعتی؟ – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Who deserves the more severe punishment: a sinner or an innovator? – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

شدید ترعذاب کا مستحق کون، گنہگار یا بدعتی؟   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الاجوبۃ المفیدۃ عن الاسئلۃ المناھج الجدیدۃ سوال 5۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: ان دو میں سے شدید تر عذاب کا مستحق کون ہے، ایک گنہگار انسان یا  ایک بدعتی؟

جواب: بدعتی کو شدید تر عذاب ہوگا؛ کیونکہ بدعت معصیت (گناہ) سے شدید ہے، اور بدعت شیطان کو معصیت سے زیادہ محبوب ہے؛ کیونکہ گنہگار تو توبہ بھی کرلیتا ہے، لیکن بدعتی بہت کم ہی توبہ کرپاتا ہے؛ کیونکہ وہ یہ گمان کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے برخلاف ایک گنہگار کے؛ کیونکہ ایک گنہگار انسان جانتا ہے کہ وہ گنہگار ہے اور معصیت کا ارتکاب کرتا ہے، جبکہ بدعتی یہ سمجھتا ہے کہ وہ مطیع وفرمانبردار ہے اور اطاعت کررہا ہے؛ اسی لئے بدعت معصیت سے بری ہے (اللہ تعالی ہمیں اس سے اپنی پناہ میں رکھے)([1])۔ یہی وجہ ہے کہ سلف اہل بدعت کے ساتھ بیٹھنے سے خبردار کرتے تھے([2])؛ کیونکہ وہ اس پر اثر انداز ہوتے ہیں جو ان کی مجلس میں بیٹھتا ہے، اور ان کا خطرہ بھی شدید ہے۔

بے شک بدعت معصیت سے زیادہ بری چیز ہے، اور ایک بدعتی کا خطرہ لوگوں پر ایک گنہگار کے خطرے سے زیادہ ہے([3])، اسی لئے سلف کافرمان ہے:

’’اقتصـاد في سنـة خير من اجتهاد في بدعة‘‘([4])

(سنت کے مطابق کیے گئے کم عمل پر قناعت کرنا بدعت میں محنت ومشقت کرنے سے بہتر ہے

 


[1] امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’البدعة أحب إلى إبليس من المعصية؛ فإن المعصية يُتاب منها، والبدعة لا يُتاب منها‘‘. ((مسند ابن الجعد)) : ( ١٨٨٥ )، (( مجموع الفتـاوى ))  : ( ١١/٤٧٢ ) .

(بدعت شیطان کو گناہ سے زیادہ محبوب ہے، کیونکہ گناہ سے توبہ کرلی جاتی ہے، جبکہ بدعت سے توبہ نہیں کی جاتی)۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى احْتَجَزَ التَّوْبَةَ عَن صَاحِبِ كُلِّ بِدْعَةٍ‘‘  (الصحيحة) (١٦٢٠).

(بے شک اللہ تعالی نے توبہ کو ہر بدعتی سے چھپا رکھا ہے)۔

[2]  امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’لا تجالس صاحب بدعة؛ فإنه يمرض قلبك‘‘ (الاعتصام :  ١/١٧٢،  البدع والنهي عنها :  ص ٥٤)

(اہل بدعت کے ساتھ نہ بیٹھو کیونکہ یہ آپ کے دل کو مریض کردیں گے)۔

امام شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’فإن فرقة النجاة – وهم أهل السنة – مأمورون بعداوة أهل البدع، والتشريد بهم، والتنكيل ممن انحاش إلى جهتهم بالقتل فما دونه، وقد حذر العلماء من مصاحبتهم ومجالستهم‘‘. (١/١٥٨)

(فرقۂ ناجیہ جو کہ اہل سنت ہیں اس بات کے پابند ہیں کہ اہل بدعت سے عداوت کریں، (اور حکومت) انہیں ملک بدر کریں،  اور جو ان کی جانب مائل ہوں انہیں قتل یا اس کے علاوہ عبرتناک سزا دیں، اور علماء کرام نے ان کی صحبت اور مجالس (ان کے ساتھ بیٹھنے) سے منع فرمایا ہے)۔

میں یہ کہتا ہوں: اللہ تعالی سلف پر رحم فرمائے،  انہوں نے کسی بدعتی کو نہیں چھوڑا مگر  اس کا قلع قمع فرمایا اور لوگوں کو اس سے خبردار فرمایا۔ (الحارثی)

[3]  شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ  اہل بدعت سے خطرے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ولولا من يقيمه الله لدفع ضرر هؤلاء –يعني : أهل البدع  – لفسد الدين، وكان فساده أعظم من فساد استيلاء العدو من أهل الحرب؛ فإن هؤلاء إذا استولوا لم يفسدوا القلوب وما فيها من الدين إلا تبعاً، أما أولئك – ( المبتدعة ) – فهم يفسدون القلوب ابتداء‘‘. مجموع الفتاوى : ( 28/232 ).

(اگر اللہ تعالی کسی کو ان کی (یعنی اہل بدعت کی) ضرررسانی کو دور کرنے کے لئے کھڑا نہ کرے تو دین میں فساد برپا ہوجائے گا، اور یہ فساد اہل حرب دشمنوں کے (مسلمان ملک پر)  قابض ہوجانے سے بھی بڑا ہے؛ کیونکہ یہ لوگ قابض ہوجائیں تو دلوں میں اور دین میں سے جو کچھ  بھی ان دلوں میں ہے اس میں بگاڑ پیدا نہیں کرسکتے سوائےآگے چل کر (شاید کچھ اثر انداز ہوں)،  جبکہ یہ (اہل بدعت) تو دلوں کو ابتداء ہی سے بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں)۔ (الحارثی)

[4] یہ ابن مسعود t کا قول ہے، دیکھئے اللالكـائي : ( 114 )، " الإبانة ":   (161)، " السنة " لابن نصر:  (30), "الصحيحة"( :5/14).

September 18, 2012 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com