The methodology in seeking knowledge – Shaykh Saaleh bin Abdul Azeez Aal-Shaykh

نام کتاب: طلبِ علم کا منہج

مصنف:  فضیلۃ الشیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ

ترجمہ  :  طارق بن علی بروہی

مصدر:   المنهجية في طلب العلم۔


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

جس چیز  نے ہمیں  طلب علم کے منہج کے متعلق بات کرنے پر  ابھارا وہ آجکل کے نوجوانوں کا بھرپور جذبہ ہے کہ وہ طلب علم کی جانب خوب رغبت کررہے ہیں، لیکن ان میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ جنہیں اس کا طریقۂ کار نہیں معلوم، یعنی طلب علم کیسے کیا جائے؟ ان میں سے بعض طویل عرصہ اور کئی سال حصول علم میں بتا دیتے ہیں لیکن انہیں وہ علم حاصل نہیں ہوپاتا جو ان ہی کے جیسے کسی دوسرے کو حاصل ہوجاتا ہے کہ جس نے اسی کی مانند کچھ برس لگائے تھے۔اس کا سبب یہی ہے کہ اس نے طلب علم کے سلسلے میں صحیح منہج اختیار نہیں کیا، وہ منہج کہ جس کے ذریعہ سے وہ اپنا مطمح نظر یعنی جسے طالب علم کہا جاتا ہے وہ بن پاتا۔اگرچہ اسے اس علم کا کچھ نہ کچھ تھوڑا بہت حصہ مل جاتا ہے جو اسے نفع دیتا ہے، اس علم کے کچھ جوانب جس کی بنیاد بالکل ٹھوس طریقے سے اس نے حاصل کرلی ہوتی ہیں تو وہ اسے بلاشبہ واضح طور پر دوسروں تک منتقل کرسکتا ہے(لیکن جسے حقیقی معنوں میں طالب علم کہتے ہیں وہ نہیں بن سکتا)۔۔۔

ان سب باتوں کا سبب یہی طلب علم کے بارے میں صحیح منہج کو نہ اپنانا ہے۔ کیونکہ لازم ہے کہ ایک طالب علم اپنے طلب علم کے سلسلے میں ایک واضح اور مخصوص منہج پر چلے۔ اگر وہ اس پر نہیں چلے گا تو طلب علم کی راہ میں پیچھے رہ جائے گا۔

[چناچہ اسی منہج کو جاننے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ مفید رہے گا]۔