O callers to Islaam! Tawheed First – Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ:

سوال: فضیلۃ الشیخ بلاشبہ آپ جانتے ہیں کہ امتِ مسلمہ کی دینی حالت نہایت ابتر ہے عقیدہ اور اعتقادی مسائل سے جہالت کے اعتبار سے اور اپنے مناہج میں افتراق کے اعتبار سے بھی،  کہ پوری دنیا میں اکثر دعوت اسلام پہنچانے میں اس عقیدۂ  اول اور منہج ِاول سے غفلت برتی جاتی ہے جس کے ذریعہ امت کے پہلےلوگوں  کی اصلاح ہوئی تھی۔ یہ المناک حالت یقیناً مخلص مسلمانوں کے اندر غیرت کو ابھارتی ہے اور اس کو بدل دینے اور اس خلل کی اصلاح کرنے کی جانب رغبت دلاتی ہے، مگر جیسا کہ فضیلۃ الشیخ آپ جانتے ہیں کہ اس اصلاح کی خاطر وہ اپنے میلاناتِ عقیدۂ ومنہج میں اختلاف کی وجہ سے اپنے طریقۂ کار میں اختلاف کا شکار ہیں۔ ان مختلف تحریکوں اور اسلامی حزبی جماعتوں کوآپ جانتے ہیں  جو  برسوں دہائیوں سے امت کی اصلاح کا ڈنڈھورا پیٹ تو رہی ہیں، مگر اس کے باوجود ان کے لئے آج تک کوئی نجات یا فلاح رقم نہیں ہوئی، بلکہ اس کے برعکس ان تحریکوں کی وجہ سے فتنے ابھرے، آفتوں کا نزول ہوا اور عظیم مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کی وجہ ان کی اپنے  عقیدہ ومنہج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے کی مخالف کرنا ہے۔ اس بات نے مسلمانوں خصوصاً شبابِ امت میں اس صورتحال کے علاج کی کیفیت کے بارے میں ایسا گہرا  اثر چھوڑا ہے کہ سب حیران وپریشان ہیں۔ ایک مسلمان داعی جو منہج ِنبوت سے تمسک کرتا ہے اور سبیل المومنین کی اتباع کرتا ہے، فہم صحابہ اور جنہوں نے بطریقۂ احسن ان کی پیروی کی کی بجاآوری کرتا ہے، وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اس صورتحال کی اصلاح یا اس کے علاج میں مشارکت کے سلسلے میں اس نے ایک عظیم امانت کا بیڑا اٹھایا ہے۔

آپ کی کیا نصیحت ہے ایسی تحریکوں یا جماعتوں کی اتباع کرنے والوں کے لئے؟

اور اس صورتحال کے علاج کا کون سا نفع بخش اور مفید طریقے ہیں؟

اور ایک مسلمان کس طرح بروز قیامت اللہ تعالی کے سامنے برئ الذمہ ہوگا؟