Shaytan portraying Tawheed and Ikhlaas as belittlement and blaspheming the righteous people

شیطان کا توحید و اخلاص اپنانے کو گستاخئ اولیاء باور کروانا

فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبدالرحیم البخاری حفظہ اللہ

(اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ السنۃ ومصادرھا، کلیہ الحدیث الشریف و الدسارات الاسلامیہ، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شرح الأصول الستة – الدرس 02۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ اپنے رسالے الاصول الستہ کے پہلے اصول کےتحت فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالی اکیلے کے لئے دین کو بلاشرکت غیرے خالص کرنا اور اس کی ضد کا بیان جو کہ اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا ہے، اور قرآن کریم کا اکثر حصہ اس اصول کو ایسے مختلف انداز میں بیان کرنے پر مشتمل ہوناجسے نابلد عوام تک بآسانی سمجھ جائیں۔ پھر امت کی حالت (اس تعلق سے)یہ ہوگئی  کہ شیطان نے ان کے لئے  (عبادت میں) اخلاص کو صالحین کے حق میں تنقیص وتقصیر (گستاخی) باور کرادیا، اور شرک کو صالحین سے محبت اور ان کی پیروی باور کرادیا“۔

اس کی شرح کے تحت شیخ عبداللہ البخاری حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

امام بخاری کی الصحیح میں ابن عباس رضی اللہ عنہما  سے اللہ تعالی کے اس فرمان کے تحت روایت آئی ہے:

﴿وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا  ڏ وَّلَا يَغُوْثَ وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا﴾ (نوح: 23)

 ( اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو )چھوڑنا ))

فرمایا: یہ قوم نوح کے نیک صالحین شخصیات کے نام تھے، جب وہ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی قوم  پر وسوسہ ڈالا کہ ان کی ان مجالس  میں جہاں وہ بیٹھا کرتے تھے مورتیاں نصب کردو، کیونکہ یہی اخلاص ہے([1])! شیطان نے کیا مزین کرکے دکھایا کہ ایسا کرنا کس چیز میں سے ہے؟ اخلاص میں سے اور اللہ کی عبادت میں سے ہے کہ ان کی مورتیاں نصب کرو یہ تمہیں اللہ کی یاد دلائيں گی۔ ان کی ان مجالس  میں جہاں وہ بیٹھا کرتے تھے مورتیاں نصب کردو اور انہیں ان کا نام دے دو، بس اتنا ہی کرو، اس سے زیادہ اور کچھ نہيں تاکہ جب بھی تم انہیں دیکھو تو تم اللہ تعالی کو یاد کرنے لگو۔

فرماتے ہیں: تو انہوں نے ایسا ہی کیا مگر ان کی عبادت نہيں کی گئی۔ پھر فرمایا کہ جب وہ لوگ (نسل) ہلاک ہوچکی کہ جنہو ں نے سب سے پہلے یہ کچھ کیا تھا اور علم بھلا دیا گیا تو پھر جاکر ان کی عبادت شروع ہوگئی۔

لہذا یہ دلیل ہے کہ جہالت کا پھیلنا گمراہی اور شرک باللہ کے  پھیلنے کا سبب ہے، اور یقیناً اللہ کے بارے صحیح شرعی علم ہی وہ چیز ہے جو آپ کو باذن اللہ نجات دیتا ہے اس شرک کے جال میں اور شیطان کے دام فریب میں پھنسنے سے۔

اسی لیے فرمایا:

’’ فلمّا نُسي العلم عُبدت“

 (جب علم بھلا دیا گیا تو پھر ان کی عبادت کی گئی)۔

یعنی اللہ کے علاوہ ان کی عبادت کی گئی۔ آخر کون ان کے لیے وضاحت کرتا کہ یہ جائز نہیں اور یہ حرام ہے وغیرہ، وہ لوگ تو چلے گئے جو یہ معرفت و علم رکھتے تھے تو پھر یہ قوم العیاذ باللہ اللہ کے ساتھ شرک میں ملوث ہوگئی۔


[1] جیسا کہ آج بھی اولیاء، پیروں فقیروں کے مزارات پر جانے والے اسے عقیدت کا نام دیتے ہیں اور مختلف قسم کی شرکیات کا وہاں ارتکاب کرتے ہیں، اور ایسا نہ کرنے والوں کو وہابی اور گستاخی اولیاء باور کرواتے ہیں۔ لہذا یہ کوئی انوکھی بات نہيں بلکہ پہلے رسول کے دور سے یہی کچھ چلتا آیا ہے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

shaytan_tawheed_apnana_gushtakh_awliyah_bawar_krwana