Claim: We do not worship them…

دعویٰ : ہم تو ان کی عبادت نہيں کرتے۔۔۔

جمع و ترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف علماء کرام کے کلام سے ماخوذ کتاب و سنت کے دلائل۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بہت سے کلمہ پڑھ کر مسلمان کہلانے والے جنہيں مختلف بدعقیدگیوں، شرکیات و قبرپرستی وغیرہ سے روکا جاتا ہے تو وہ جواباً یہی کہتے ہيں کہ ہم ان اولیاء و صالحین و انبیاء کرام کی عبادت نہيں کرتےنہ رب تصور کرتے ہيں بلکہ رب تو اللہ تعالی ہی ہے اور عبادت اس کی ہوتی ہے، البتہ یہ اللہ تعالی کے یہاں ہمارا واسطہ وسیلہ اور سفارشی ہیں، اور جو اعمال ہم ان کے لیے بجالاتے ہيں وہ عبادت نہیں ہيں، جب تک ہم انہيں خود عبادت سمجھ کر نہ کریں!

حالانکہ یہ بالکل وہی بات ہے جو مشرکین عرب وغیرہ کہا کرتے تھے مگر اس کے باوجود انہیں ان کے اس عقیدے کے سبب مشرک ہی قرار دیا گیا، اور ان کی اس حجت کے باوجود انہیں غیراللہ کی عبادت کرنے والا ہی قرار دیا گیا:

﴿وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ﴾  (یونس: 18)

 (اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسوں  کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں، اور کہتے ہیں کہ یہ  اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں)

اور فرمایا:

﴿اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ ۭ وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِيْ مَا هُمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ ڛ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ﴾  (الزمر: 3)

(خبردار ! خالص دین صرف اللہ تعالی ہی کا حق ہے، اور وہ جنہوں نے اس کے سوا اور اولیاء بنارکھے ہیں (وہ کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر صرف اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کرکے اس کا مقرب بنادیں۔ یقیناً اللہ ان کے درمیان اس کے بارے میں فیصلہ کردے گا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ بے شک اللہ  تعالی اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا ہو، بہت ناشکرا ہو)

چناچہ ہم چند دلائل ذکر کرتے ہيں جن سے یہ ثابت ہوگا کہ اگرآپ وہ اعمال جو عبادت کے زمرے میں آتے ہیں غیر اللہ کے لیے ادا کریں تو وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے نزدیک غیراللہ کی عبادت کیا جانا ہی شمار ہوں گے خواہ آپ کہتے رہيں کہ ہم یہ کام عبادت جان کر نہیں کرتے۔

1- اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ  ۚ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا  ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ  ۭسُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ﴾ (التوبۃ: 31)

(ا ن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح  کو حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے معبود برحق کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا،  جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں،  وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے)

جب عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ  نے یہ آیت سنی (جو پہلے نصرانی ہوا کرتے تھے) تو عرض کی:

’’ يَا رَسُوْلَ اللهِ ، إِنَّا لَسْنَا نَعْبُدُهُمْ، فَقَال لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- : أَلَيْسُوايُحِلُّون مَا حَرَّمَ اللَّهُ، فَتُحِلُّونَه،  وَ يُحَرِّمُونَ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فَتُحَرِّمُونَه؟ قَالَ : بَلَى، قَالَ: فَتِلْكَ عِبَادَتُهُمْ ‘‘ ([1])

(یارسول اللہ! ہم تو ان کی عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: کیا ایسا نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالی کی حرام کردہ چیز کو حلال قرار دیتے تھے تو تم بھی اسے حلال سمجھتے تھے، اور اسی طرح سے اللہ تعالی کی حلال کردہ چیز کو حرام قرار دیتے تھے تو تم بھی اسے حرام سمجھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں (ایسا تو کرتے تھے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا: یہی تو ان کی عبادت کرنا ہے)۔

اس سے ثابت ہو کہ صحابی جو پہلے اہل کتاب میں سے تھے بھی اس بات سے اس وقت آگاہ نہيں تھے کہ یہی حلال وحرام و شریعت سازی کا اختیار اپنے علماء و درویشوں کو دے دینا اللہ تعالی کے نزدیک انہيں رب بنانا اور ان کی عبادت کرنا شمار ہوتا ہے۔

لہذا یہ دلیل ہے کہ چاہے غیراللہ کی عبادت کرنے والے اسے عبادت نہ بھی کہتے یا سمجھتے ہوں اگر شریعت کے مطابق وہ عبادت بنتی ہے تو وہ غیراللہ کی عبادت اور شرک ہی کہلائے گی۔

2- ابو واقد اللیثی رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے فرمایا :

’’خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِلَى حُنَيْنٍ وَنَحْنُ حُدَثَاءُ عَهْدٍ بِكُفْرٍ، ولِلْمُشْرِكِينَ سِدْرَةٌ يَعْكُفُونَ عِنْدَهَا، ويَنُوطُونَ بِهَا أَسْلِحَتَهُمْ يُقَالُ لَهَا: ذَاتُ أَنْوَاطٍ، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِالسِّدْرَةِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ‘‘

(ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے ساتھ حنین کی طرف جارہے تھے اور ہمیں ابھی کفر سے نکلے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا ، اور مشرکین کا ایک بیری کا درخت تھا جس  کے پاس وہ مجاور بنے بیٹھے رہتے تھے اور اس پر اپنا اسلحہ (بطور تبرک) لٹکایا کرتے تھے جسے ذات انواط کہا جاتا تھا، فرماتے ہیں کہ: ہم اس بیری کے درخت کے پاس سے گزرے تو ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ!  ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرمادیں جیسے ان   کا ذات انواط ہے )

اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا :

’’اللَّهُ أَكْبَرُ، إِنَّهَا السُّنَنُ، قُلْتُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ:فاجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌق(الأعراف : 138) ، قَالَ: إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ، لَتَرْكَبُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُم‘‘([2])

(اﷲ اکبر ! یہ تو ہوبہوگزشتہ امتوں کے طریقے ہیں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم لوگو ں نے وہی بات کی ہے جو بنی اسرائیل (نے موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام)سے کی تھی کہ:  ہمارے لئے بھی ایک معبود ایسا ہی مقرر کردیجئے جیسے ان کے معبودات  ہیں۔ تو  آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ:  واقعی تم بڑی جاہل قوم ہو۔ پھر فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے: تم لوگ ضرور بالضرور اپنے سے پہلوں کے طریقوں پر چلو گے)۔

اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ اگرچہ مطالبہ تبرک کے لیے ایک درخت مقرر کردینے کا تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے نزدیک شریعت میں یہ معبود بنانا ہی ہوا جیسا کہ بنی اسرائیل نے بچھڑے کی پوجا ہوتے دیکھ کر ایک معبود مقرر کردینے کا مطالبہ کیا تھا۔

3- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے اپنے مرض الموت میں یہ دعاء فرمائی کہ:

’’اللهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا، لَعَنَ اللهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ‘‘ ([3])

 (اے اللہ ! میری قبر کو وثن نہ بنانا، اللہ تعالی نے لعنت فرمائی اس قوم پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنالیا) ۔

ایک اور روایت میں ہے:

’’اللهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا يُعْبَدُ، اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عَلَى قَوْمٍ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ‘‘([4])

 (اے اللہ میری قبر کو وثن (بت مزار وغیرہ) نہ بنانا کہ جس کی عبادت کی جائے، اللہ تعالی کا شدید غضب نازل ہوا اس قوم پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنالیا تھا)۔

اس حدیث سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ ’’وثن‘‘کا لفظ ’’صنم‘‘(تراشے ہوئے بت) سے زیادہ عام ہے، جو ہر اس چیز کو شامل ہے جس کی اللہ تعالی کے سوا عبادت کی جاتی ہو خواہ وہ بت ہو یا کوئی قبر، مزار، درخت  یا جھنڈا وغیرہ۔ لہذا یہ مغالطہ بھی زائل ہوا کہ صرف صنم بمعنی تراشے ہوئے بت کی عبادت شرک ہے۔

دوسرا ہمارا استدلال بھی ثابت ہوا کہ اگر قبر کے ساتھ وہی اعمال بجالائیں جائيں جو اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہیں اور اس کی عبادت شمار ہوتے ہیں تو یہ اسے وثن  و معبود بناہی دیتا ہے اور اللہ رسول کے یہاں اسے عبادت یعنی غیراللہ کی عبادت و شرک ہی شمار کیا جاتا ہے، خواہ اسے کرنے والے اسے عبادت نہ کہتے ہوں یا نہ سمجھتے ہوں۔

عبادت کی مشہور اقسام جیسے دعاء کرنا،  اسباب سے بالاتر مدد کے لیے پکارنا، فریاد کرنا، پناہ طلب کرنا، قربانی ونذر ونیاز کرنا، اسباب سے بالاتر خوف، امید وتوکل وغیرہ، یہی کچھ بہت سے کلمہ  گو اسلام کی طرف منسوب ہوکر اللہ تعالی کے ساتھ انبیاء، اولیاء و صالحین کے ساتھ کرتے ہیں جو مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں غیراللہ کی عبادت کرنا ہی ہے اور واضح شرک ہے جس سے ایک انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔

اللہ تعالی سے دعاء  ہے کہ امت کو توحید کو صحیح طور پر سمجھ کر اپنانے اور شرک کو جان کر اس سے بچنے کی توفیق دے۔


[1] سنن الترمذی 3095، السنن الکبری للبیہقی 10/114، 116، بعض روایات میں ایسے بھی الفاظ ہیں کہ: یہی تو ان کو رب بنانا ہے۔ شیخ البانی نے صحیح الترمذی  میں اسے حسن قرار دیا ہے۔

[2] مختلف الفاظ کے ساتھ یہ حدیث سنن الترمذی 2180 وغیرہ میں موجود ہے، شیخ البانی نے صحیح الترمذی میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

[3] مسند احمد 7358 شیخ البانی نے تحذیر الساجد اور احکام الجنائز میں صحیح کہا ہے۔

[4] مسند احمد 13/87۔

hum_to_inki_ibadat_nahi_krte