Retracting from your mistake is honor, not disgrace – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

اپنی غلطی سے حق کی جانب رجوع کرنا فضیلت ہے ناکہ عیب!

مختلف علماء کرام

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

یہ بات جان لیں کہ  بلاشبہ حق کی اتباع کرنا  کبھی بھی بندے کے لیے ذلت کا سبب نہيں، اگرچہ شیطان اسے ذلت کا تصور کرکے پیش کرتا ہے مگر درحقیقت وہ ذلت نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو عزت ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا:

” مَنْ تَوَاضَعَ لِلهِ رَفَعَهُ اللهُ “([1])

 (جو کوئی اللہ تعالی کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اسے رفعت و بلندی عطاء فرماتا ہے)۔

شیطان کہيں تمہیں دل برداشتہ کرکے یہ نہ کہنے لگے کہ  اگر تم نے اپنے قول سے رجوع کیا تو یہ  بری شکست اور ہار جانا ہے۔اللہ کی قسم! جب تک آپ حق کی جانب رجوع کرنے والے رہیں گے تو یہی عزت اور حقیقی بہادری وشجاعت ہے۔

انسان کا یہ کتنا پیارا قول ہے کہ جب وہ کہتا ہے: میں یہ کہا کرتا تھا  لیکن اب مجھ پر واضح ہوا ہے کہ حقیقت ایسے ایسے ہے۔ الحمدللہ یہ تو اس کی امانت داری پر دلالت کرتا ہے، او ریہ کہ وہ علم اور شریعت پر امین ہے۔

کیا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ   کے ساتھی ان سے جو روایت کرتے ہيں اس میں یہ نہيں ہوتا کہ ایک روایت کی پھر کہتے اس سے انہوں نے رجوع کیا۔ یہ تو موجود ہے، حقیقت ہے۔ حق اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کی اتباع کی جائے۔

اسی طرح عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ کو کتاب القضاء میں وصیت کی  وہ کتاب جو کہ مشہور ہے اور امام ابن القیم رحمہ اللہ  نے اپنی کتاب اعلام الموقعین کو اسی کتاب کی بنیاد پر لکھا ہے۔ تو انہوں نے  ان سے فرمایا:

” اگر تم کل تک کچھ کہتے تھے تو و ہ کہنا تمہیں اس بات سے نہ روکے کہ تم اس قول کے غلط ثابت ہوجانے پر آج حق کہو“۔

یا اس جیسا کوئی کلمہ([2])۔

کتنے ہی زیادہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر اپنی کسی غلطی سے رجوع کرلیا تو یہ شکست و ہزیمت ہوگی! حالانکہ وہ ہرگز بھی شکست نہیں۔

(شرح عقیدۃ الواسطیۃ – 25)

شیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

چلیں مان لیں کہ میں نے غلطی کی بھی ہے تو سب سے پہلی بات یہ ہے کہ: کیا اللہ تعالی کے دین میں حق کی جانب رجوع کرنا واجب نہیں؟ کیا عمر رضی اللہ عنہ مشہور نہیں اس بارے میں کہ وہ حق کی جانب بہت زیادہ اور بار بار رجوع کرنے والے اور کتاب اللہ کے سامنے بہت زیادہ اور ہمیشہ رکنے والے تھے؟ اور کیا منہج سلف میں سے اور ان کی حالات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ہمیشہ حق کی طرف رجوع کرتے تھے؟ کیا آئمہ اسلام میں سے ہر امام کے بہت سے مسائل میں دو یا اس سے زیادہ اقوال نہیں؟ بلکہ امام الشافعی  رحمہ اللہ    کے تو باقاعدہ دو مذاہب ہیں قدیم اور جدید؟ کیا یہ قابل تعریف اور اکرام بات نہیں کہ ایک مسلمان اپنے غلطی سے صواب کی جانب رجوع کرے؟ اور باطل سے حق کی جانب؟ تو آپ لوگوں کا کیا حال ہے کہ جو قابل تعریف بات ہے اسے قابل مذمت تصور کرتے ہو، اور جو قابل اکرام بات ہے اسے نقائص میں سے سمجھتے ہو؟ اور تمہارا کیا حال ہے کہ بلندی سے پستی کی طرف کبھی گرتے ہو اور کئی بار الٹا حق سے باطل کی طرف رجوع کرتے ہو! بلکہ اس سے بھی بڑھ کر باطل کی نصرت کرتے اور حق واہل حق سے لڑتے ہو! چناچہ دراصل جو حقیقی عیوب اور قابل عار ونار چیز یں ہیں وہ یہ ہیں، اگر ان سے اللہ  تعالی کے حضور توبہ نہ  کی جائے۔

(بيان فساد المعيار حوار مع حزبي متستر: ص 193)

[1] أخرجه الطبراني في ((المعجم الأوسط)) (7711)، والبيهقي في ((شعب الإيمان)) (8144) مطولاً، وأبو نعيم في ((حلية الأولياء)) (8/46) واللفظ له اور شیخ البانی نے صحیح الجامع 6162 میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

[2] اصل روایت کچھ اس طرح ہے: ” وَلَا يَمْنَعُكَ قَضَاءٌ قَضَيْتَهُ أَمْسِ فَرَاجَعْتَ الْيَوْمَ۔۔۔ “۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

ghalati_say_ruju_fadeelat_hai_aib_nahi