Crying due to an illness and talking to people about it – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah bin Baaz

بیماری کے سبب رونا اور دوسروں کو اس بارے میں بتانا

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ  المتوفی سن 1420ھ

(سابق مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: حكم البكاء بسبب المرض والتحدث عنه مع الآخرين.

پیشکش: توحید خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال: ایک بہن ا-ع ریاض سے اپنے سوال میں کہتی ہیں کہ میں مریضہ ہوں اور کبھی کبھار رونا بھی شروع کردیتی ہوں اپنی اس حالت کی وجہ سے جو اس مرض کے بعد ہوئی، پس کیا اس رونے کا معنی اللہ عزوجل پر اعتراض اور اس کی تقدیر سے ناراضگی ہوگا، حالانکہ یہ فعل میرے اختیار وارادے سے باہر ہے، اور کیا قریبی لوگوں سے اپنی بیماری کا ذکر کرنا بھی اس میں داخل ہے؟

جواب: آپ پر کوئی حرج نہيں رونے میں اگر وہ آنکھوں سے آنسو بہنے تک محدود ہو ناکہ آواز کے ساتھ واویلا کرنا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا فرمان ہے جب آپ کے بیٹے ابراہیم کی وفات ہوئی کہ:

’’العين تدمع والقلب يحزن ولا نقول إلا ما يرضي الرب وإنا لفراقك يا إبراهيم لمحزونون‘‘([1])

(آنکھیں آنسو بہاتی ہیں، اور دل غم زدہ ہے،  لیکن ہم نہيں کہیں گے کوئی بات مگر وہی جس سے رب راضی ہو، اور ہم بے شک تمہاری جدائی سے اے ابراہیم بہت رنجیدہ ہیں)۔

اور اس معنی کی باکثرت احادیث آئی ہیں۔

لہذا آپ پر اس میں بھی کوئی حرج نہيں کہ آپ اپنے قریبیوں اور دوستوں کو اللہ تعالی کی حمد وشکر اور اس کی تعریف اور اس سے عافیت کے سوال کے ساتھ اپنے مرض کے بارے میں بتائیں، اور ساتھ ہی مباح اسباب بھی اختیار کریں۔

ہم آپ کو صبر  اور اللہ تعالی سے اجر وثواب کی امید کی وصیت کرتے ہیں، اور آپ کو خیر وبھلائی کی بشارت دیتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ (الزمر: 10)

(صرف صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا)

اور اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ،  الَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ  ۙ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ، اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ   ۣوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُهْتَدُوْنَ﴾ (البقرۃ: 155-157)

(اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے، وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں بےشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور بےشک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے نوازشیں ومہربانیاں اور بڑی رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں)

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے اس فرمان کی وجہ سے بھی:

’’لا يصيب المسلم هم ولا غم ولا نصب ولا وصب ولا أذى حتى الشوكة إلا كفر الله بها من خطاياه‘‘([2])

(کسی مسلمان کو کوئی بھی پریشانی یا غم یا تھکان یا مرض یا تکلیف نہیں پہنچتی حتی کہ کوئی کانٹا بھی نہيں لگتا مگر یہ کہ اللہ تعالی اس کے ذریعے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے)۔

اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا یہ بھی فرمان ہےکہ:

’’مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ‘‘([3])

(اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے  تکالیف (بیماری) اور دیگر مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے(تاکہ اسے ثواب دے))۔

اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ آپ پر شفاء وعافیت اور دل کی اصلاح اور عمل کی توفیق کے ساتھ احسان فرمائے، بے شک وہ دعائو ں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔


[1] صحیح بخاری 1303 کے الفاظ ہیں: ’’إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ‘‘۔

[2] صحیح بخاری 5642 کے الفاظ ہیں: ’’مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ، وَلَا وَصَبٍ، وَلَا هَمٍّ، وَلَا حُزْنٍ، وَلَا أَذًى، وَلَا غَمٍّ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ‘‘۔

[3] صحیح بخاری 5645۔

beemari_rona_shikwa_krna