حکومت کی جانب سے پابندی لگانے پر فتویٰ، تقریر وتحریر ترک کردینا – شیخ علی بن یحیی الحدادی

حکومت کی جانب سے پابندی لگانے پر فتویٰ، تقریر وتحریر ترک کردینا – شیخ علی بن یحیی الحدادی

Following Muslim government implemented bans on Fatwa, speech and writing – Shaykh Ali bin Yahya Al-Haddadi

حکومت کی جانب سے پابندی لگانے پر فتویٰ، تقریر وتحریر ترک کردینا   

فضیلۃ الشیخ علی بن یحیی الحدادیحفظہ اللہ

(صدر کلیۃ اصول الدین فیکلٹی سنت اور اس کے علوم، جامعہ محمد بن سعود الاسلامیہ، ریاض)

مترجم: طارق علی بروہی

مصدر: الأربعين في مذهب السلف۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

باب 23-  فتوی، تعلیم و وعظ دینے کو ترک کردینا اگر حکمران اس سے منع کردے اور امت میں اس کے قائم مقام موجود ہوں

حدیث 24- عوف بن مالک رضی اللہ عنہ  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے روایت کرتے ہيں کہ فرمایا:

’’لَا يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ إِلَّا أَمِيرٌ، أَوْ مَأْمُورٌ، أَوْ مُخْتَالٌ‘‘([1])

(قصے (وعظ و تبصرے وغیرہ) صرف امیر (حاکم) بیان کر سکتا ہے، یا پھر مامور (وہ شخص جسے امیر کی طرف سے حکم یا اجازت نامہ ملاہو)، یا پھر وہ شخص جو کہ متکبر ہو)۔

اسے احمد([2]) و ابوداود([3]) نے روایت کیا ہے۔ اور الالبانی ابی داود کی سند کے بارے میں فرماتے ہیں( حسن قرار دیے جانے کے قابل ہے، لیکن یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ المسند میں اس کے اور بھی طرق ہیں جن میں سے بعض صحیح ہیں)([4]) میں یہ کہتا ہوں کہ اس کے حسن شواہد ہیں([5])۔

حدیث 25- عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ فرمایا:

 ‏’’‏‏‏ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَهُ رَجُلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّا نَكُونُ بِالْمَكَانِ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ؟ ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَكُنْ أُصَلِّي حَتَّى أَجِدَ الْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ عَمَّارٌ:‏‏‏‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي الْإِبِلِ فَأَصَابَتْنَا جَنَابَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَهُمَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى نِصْفِ الذِّرَاعِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ يَا عَمَّارُ، ‏‏‏‏‏‏اتَّقِ اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏إِنْ شِئْتَ وَاللَّهِ لَمْ أَذْكُرْهُ أَبَدًا. فَقَالَ، ‏‏‏‏‏‏عُمَرُ:‏‏‏‏ كَلَّا وَاللَّهِ لَنُوَلِّيَنَّكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ‘‘ اسے مسلم اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ ابو داود کے ہیں۔

(میں عمر رضی اللہ عنہ  کے پاس تھا کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: بسا اوقات ہم کسی جگہ ماہ دو ماہ ٹھہرے رہتے ہیں (جہاں پانی موجود نہیں ہوتا اور ہم جنبی ہو جاتے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟) عمر رضی اللہ عنہ  نے کہا: جہاں تک میرا معاملہ ہے تو جب تک مجھے پانی نہ ملے میں تو نماز نہیں پڑھنے کا، وہ کہتے ہیں: اس پر عمار رضی اللہ عنہ  نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب میں اور آپ اونٹوں میں تھے (اونٹ چراتے تھے) اور ہمیں جنابت لاحق ہو گئی، جہاں تک میری بات ہے تو میں تو مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا۔ پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا: تمہیں بس اس طرح کر لینا کافی تھا اور(یہ کہتے ہوئے)  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے ،پھر ان پر پھونک ماری،  اور اپنے چہرے اور اپنے دونوں ہاتھوں پر نصف ذراع (کلائی) تک پھیر لیا([6])، اس پر عمررضی اللہ عنہ  نے کہا: عمار! اللہ سے ڈرو(یہ کیا کہہ رہے ہو!)، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو اللہ کی قسم میں اسے کبھی ذکر نہ کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ  نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم ہم ضرور تمہاری بات کا تمہیں اختیار دیتے ہیں (یعنی اپنی ذمہ داری پر بیان کرنا چاہتے ہو تو کرسکتے ہو))۔

اور صحیح مسلم کے الفاظ ہیں کہ عمار رضی اللہ عنہ  نے عرض کی:

’’ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏إِنْ شِئْتَ لِمَا جَعَلَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ حَقِّكَ، ‏‏‏‏‏‏لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا‘‘([7])

(اے امیرالمؤمنین! جو اللہ تعالی  نے آپ کا حق مجھ پر لاگو کیا ہے اس کی وجہ سے اگر آپ چاہیں  تو میں یہ حدیث کسی سے بیان نہ کروں گا)۔


[1] ابو داود 3665، سنن دارمی 2779، مسند احمد 6676۔

[2] المسند 6/22 ح 24018۔

[3] سنن ابی داود 3/323 ح 3665۔

[4] مشکاۃ المصابیح 1/80 حاشیہ رقم 5۔

[5] دیکھیں مسند احمد 11/241 ح 6661 حاشیہ رقم 2۔

[6] نصف ذراع کے الفاظ کو علماء نے شاذ کہا ہے، تفصیل کے لیے پڑھیں ہماری ویب سائٹ پر مقالہ ’’تیمم کرنے کا طریقہ‘‘۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[7] ابو داود 1/88 ح 322، صحیح مسلم 1/281 ح 113۔

hukumat_takreer_tehreer_fatwa_pabandi_tark_krna

2019-01-10T04:50:54+00:00January 9th, 2019|