The crime of Qazf (False accusation of fornication) and its punishment – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

قذف (زنا کی تہمت) کا گناہ اور سزا

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ  المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: القول المفيد شرح كتاب التوحيد۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ  کتاب التوحید میں جادو سے متعلق باب کے تحت یہ حدیث لائے ہيں  جن میں سات ہلاکت میں ڈالنے والے کبیرہ گناہوں کا ذکر ہے، انہی میں سے پاک دامن  بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا بھی ہے۔ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے:

’’ اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ۔۔۔ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ“([1])

 (ساتھ مہلک باتوں سے بچو۔۔۔(ان میں سے ساتویں بات یہ فرمائی) اور پاک دامن  بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا بھی ہے)۔

’’القذف“ کا معنی  ’’الرمى “ (پھینکنا)   ہے، اور یہاں اس سے مراد زنا کی تہمت چسپاں کردینا ہے۔

اور  ’’الْمُحْصَنَاتِ“ سے یہاں مراد ’’الحرائر“  (آزاد عورتیں) ہيں، البتہ زنا سے پاک عورتيں بھی مراد لی گئی ہے۔

’’الْغَافِلَاتِ “ یعنی اور وہ زنا سے پاک اور اس سے اس قدر دور رہنے والی خواتین ہیں کہ ان  کے وہم و گمان میں بھی ایسی حرکت کا تصور نہ ہو۔

اور فرمایا ’’الْمُؤْمِنَاتِ“  کافرہ عورتوں سے  احتراز کرتے ہوئے۔

پس جس کسی نے ان صفات کی حامل عورت پر زنا کی تہمت لگائی تو یہ ہلاکت میں ڈالنے والے گناہوں میں سے ہے۔

اور اس کے ساتھ  اس پر اسّی(80)  کوڑوں کی حد بھی لگے گی، آئند ہ اس کی گواہی قبول نہيں کی جائے گی اور وہ فاسق ہوگا۔ چناچہ اللہ تعالی نے اس کے تعلق سے ان تین امور کو ذکر فرمایا کہ:

﴿وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاۗءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ﴾ (النور: 4)

(اور وہ لوگ جو پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ نہ لائیں تو انہیں اسّی (80) کوڑے مارو اور ان کی کوئی گواہی کبھی قبول نہ کرو، اور وہی لوگ فاسق ہیں)

پھر فرمایا:

﴿اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْا  ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ﴾  (النور: 5)

(مگر جو لوگ اس کے بعد تو بہ کریں اور اصلاح کرلیں تو یقیناً اللہ  تعالی بےحد بخشنے والا نہایت رحم  کرنے والا ہے)

اور یہ جو استثناء ہے یہ جملے کے پہلے حصے پر لاگو نہیں ہوگااس  بارے میں اتفاق ہے، اور اس بارے میں بھی اتفاق ہے کہ  یہ جملے کے آخری حصے پر لاگو ہوگا۔

البتہ دوسرے جملے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، اور وہ یہ فرمان الہی ہے کہ:

﴿وَلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا﴾ (النور: 4)

(اور ان کی کوئی گواہی کبھی قبول نہ کرو)

کہا گیا کہ: ان کی گواہی کے قبو ل کیے جانے   کی صفت انہيں واپس سے مل جائے گی۔ او یہ بھی کہا گیا کہ: نہیں ملے گی۔

اس بنیاد پر سوال ہوتا ہے کہ: اگر زنا کی تہمت لگانے والا  توبہ کرلے تو کیا  پھر اس کی گواہی قبول کی جائے گی یا نہیں؟

جواب: اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے:

ان میں سے کچھ کہتے ہیں: اس کی گواہی  کبھی بھی قبول نہيں کی جائے گی اگرچہ وہ توبہ ہی کیوں نہ کرلے۔ اور اپنے اس قول کی تائید وہ  اس بات سے کرتے ہيں کہ اللہ تعالی نے اس کے لیے ہمیشہ کا لفظ استعمال کیا ہے(یعنی کبھی بھی نہیں)، فرمایا:

﴿وَلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا﴾ (النور: 4)

(اور ان کی کوئی گواہی کبھی قبول نہ کرو)

اور اس ہمیشگی  کا فائدہ یہ ہوتا ہے  کہ یہ حکم اس پر سے مطلقا ًنہیں ٹلے گا۔

جبکہ دوسرے کہتے ہیں: بلکہ اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔کیونکہ گواہی کی قبولیت یا اس کا مسترد کیا جانا فسق کی وجہ سے تھا، تو جب وہ چیز ہی زائل ہوجائے جو کہ گواہی کی قبولیت میں مانع تھی  تو پھر اس کے نتیجے میں مرتب ہونے والا حکم بھی زائل ہوجائے گا۔

بہرحال اس قسم کے مسائل میں ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ: یہ معاملہ حاکم کی نظر ورائے کی طرف لوٹتا ہے، اگر وہ اس میں مصلحت دیکھتا ہے کہ اس کی گواہی قبول نہ کی جائے تاکہ لوگوں کو مسلمانوں کی عزت سے کھیلنے  سے باز رکھا جاسکے تو وہ ضرور ایسا کرے۔ ورنہ تو  اصل بات یہی ہے کہ جب فسق کی صفت ہی زائل ہوگئی تو اس کی گواہی قبول کرنا واجب ہوجائے۔

سوال: کیا پاک دامن ، بھولے بھالے  مومن مردوں پر زنا کی تہمت لگانا  بھی پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی طرح کبیرہ گناہوں میں سے ہے؟

جواب: جس چیز پر جمہور اہل علم ہیں وہ یہی ہے کہ بلاشبہ کسی مرد پر زنا کی تہمت لگانا کسی عورت پر زنا کی تہمت لگانے ہی کی طرح ہے۔ عورت کو تو صرف اسی لیے خاص ذکر کیا گیا کیونکہ غالباً عورتوں پر اکثر تہمت لگتی ہے۔ کیونکہ اسلام سے قبل پیشہ ور بدکردار عورتیں بہت زیادہ ہوا کرتی تھیں۔ اور اس لیے بھی کہ عورت پر زنا کی تہمت لگنا زیادہ سنگین ہوتا ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے اس کے شوہر سے ہونے والی اولاد کے نسب پر شک  ہوتا ہے۔ لہذا ان پر زنا کی تہمت کا لگنا انہيں بہت زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ پس ان کی تخصیص کرنا غالباً  کی تخصیص کے باب میں سے ہے، اور غالباً کی قید کا کوئی مفہوم نہيں ہوتا، کیونکہ وہ حقیقت حال کا محض بیان ہوتا ہے۔

[1] أخرجه البخاري فى الوصايا، 5/393 – فتح، ومسلم فى الإيمان، 1/92.

qazf_gunha_saza