Actualising Monotheism (Tawheed) in the worship of Major Pilgrimage (Hajj) – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

حج کی عبادت میں حقِ توحید کی ادائیگی

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: تحقيق التوحيد في عبادة الحج

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ تعالی نے مخلوق کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اور اس عبادت کو صرف اس کے لیے خالص رکھنا توحید کہلاتا ہے، جبکہ اس میں کسی بھی قسم کی شرک کی آمیزش سے ہر قسم کے اعمال وعبادات ضائع ہوجاتے ہیں اور انسان ابدی جہنم کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

یہی دعوت تمام انبیاء ومرسلین علیہم الصلاۃ والسلام لے کر آئے، اور یہی کلمۂ توحید لا الہ الا اللہ کا معنی و تقاضہ ہے۔

چناچہ تمام شرعی عبادات اسی توحید و اخلاص کا اور شرک سے بیزاری کا مظہر ہیں۔ نماز، ذکر، روزہ وغیرہ اور حج تو بہت سے عبادات کا جامع ہے کہ جس میں قولی، فعلی، مالی اور دلی عبادات  یکجا ہوتی ہیں۔ ساتھ ہی اس توحید کو اپنانے کے نتیجے میں پرامن موت و بہترین جزاء جنت کی تڑپ کی یاددہانی بھی ہوتی ہے۔

الغرض اس فرمان باری تعالی کا مظہر کہ:

﴿قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ (الانعام: 162)

(کہو کہ بے شک میری نماز اورمیری قربانی اور میرا جینا اورمیرا مرنا ، اللہ رب العالمین کےلیے ہے)