Rulings regarding ‘Eid prayer – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

شیخ صالح الفوزان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

عیدین (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) کی نمازکتاب وسنت اور اجماع مسلمین سے ثابت ومشروع ہے۔ مشرکین زمانی اور مکانی عیدیں منایا کرتے تھے جنہیں اسلام نے باطل قرار دیا اور اس کے عوض عید الفطر اور عید الاضحیٰ عطاء فرمائی۔ دو عظیم عبادتوں کے اختتام پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کے لیے یعنی رمضان کے روزے اور بیت اللہ الحرام کا حج۔یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ پہنچے تو وہاں کے لوگوں کے دو تہوار کے دن ہوا کرتے تھے جس میں وہ خوشی مناتے کھیلتے کودتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

(اللہ تعالی نے تمہارے ان دو دنوں کے بدلے دو بہتر دن عطاء کردیے ہیں، یوم الفطراور یوم النحر)۔

ان دو عیدوں پر مزید عیدوں کا اضافہ کرنا اور انہیں ایجاد کرنا جائز نہیں جیسے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وغیرہ۔ کیونکہ یہ اللہ تعالی کی مقرر کردہ شریعت میں زیادتی ہے، دین میں بدعت ایجاد کرنا ہے، سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی مخالفت ہے، کافروں سے مشابہت ہے، برابر ہے چاہے انہیں عید کہا جائے یا یادگار یایو م فلاں یا ہفتۂ فلاں یا سال فلاں وغیرہ یہ سب اسلام کی سنت میں سے نہیں۔بلکہ یہ تو جاہلیت کا فعل ہے اور مغربی ممالک وغیرہ میں سے کافر قوموں کی تقلید ہے۔