Explanation of Nawaqid-ul-Islaam (Nullifiers of Islaam) – Shaykh Saaleh bin Sa'ad As-Suhaimee

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

جان لیں کہ اسلام کے دس نواقض (یعنی جن چیزوں سے کسی کا اسلام ٹوٹ جاتا ہے) ہیں:

 

1- اللہ تعالی کی عبادت میں شرک کرنا، فرمان الہی ہے:

 

﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ﴾ (النساء: 116)

(بے شک اللہ تعالی اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اور جو اس کے علاوہ (گناہ) ہیں وہ جس کے لیے چاہے گابخش دے گا)

 

اور فرمایا:

﴿اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ  ۭوَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ﴾ (المائدۃ: 72)

(بے شک جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے سو یقیناً اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں )

 

اور اسی میں سے غیراللہ کے لیے ذبح کرنا بھی ہےجیسےکوئی  کسی جن یا قبر کے لیےذبح کرے۔

 

2- جس نے اپنے اور اللہ تعالی کے درمیان ایسے واسطے بنارکھے ہیں جنہیں وہ پکارتا ہے، ان سے شفاعت طلب کرتا ہے اور انہی پر توکل کرتا ہے ایسا شخص اجماعی طور پر کافر ہے۔

 

3- جو کوئی مشرکین کی تکفیر نہیں کرتا یا پھر ان کے کفر میں شک([1]) کرتا ہے یا ان کے بھی مذہب کو صحیح سمجھتا ہے ایسا شخص کافر ہوجاتا ہے۔

 

4- جو کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے سے اکمل کسی اور کا طریقہ ہے، یا ان کے علاوہ کسی اور کا حکم ان کے حکم سے بہتر ہے، جیساکہ وہ شخص جو طواغیت  کے حکم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےحکم پر فوقیت دیتا ہے تو وہ کافر ہے۔

 

5- جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لائی ہوئی کسی بھی چیز سے بغض رکھے اگرچہ وہ اس پر عمل ہی کیوں نہ کرتا ہو کافر ہے([2])۔

 

6- جو دین ِرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا اللہ کے ثواب([3]) یا اس کے عقاب کااستہزاء کرے(مذاق اڑائے)، اس کی دلیل یہ فرمان الہی ہے:

﴿قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُ وْنَ، لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ﴾ (التوبۃ: 65-66)

(کہہ دیں کیا تم اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق کر رہے تھے؟ بہانے مت بناؤ، یقیناً تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا)

 

7- جادو کرنا: اور اسی میں سے (جادو کی دیگر اقسام) صرف اور عطف بھی ہیں۔ جس نے ان پر عمل کیا یا اس سے راضی ہوا تو اس نے کفر کیا۔ اس کی دلیل فرمان الہی ہے:

﴿وَمَا يُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى يَقُوْلَآ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ﴾ (البقرۃ: 102)

(حالانکہ وہ دونوں (فرشتے) کسی کو بھی (جادو)نہیں سکھاتے تھے، یہاں تک کہ کہتے ہم تو محض ایک آزمائش ہیں،  سو تو کفر نہ کر)

 

8- مشرکوں کی پشت پناہی کرنا اور مسلمانوں کے خلاف ان کی معاونت کرنا۔ اس کی دلیل فرمان الہی ہے:

﴿وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ﴾ (المائدۃ: 51)

(اور تم میں سے جو انہیں دوست بنائے گا تو یقیناً وہ ان ہی میں سے ہے)

 

9- جس نے یہ عقیدہ رکھا کہ بعض لوگوں کا شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے باہر نکلنا روا ہے  جیساکہ سیدنا خضر علیہ الصلاۃ والسلام کا شریعت موسی علیہ الصلاۃ والسلام سے باہر نکلنا روا تھا تو وہ کافر ہے۔

 

10- اللہ کے دین سے اعراض کرنا کہ نہ اس کی تعلیم حاصل کرے اور نہ ہی اس پر عمل کرے، اس کی دلیل یہ فرمان الہی ہے:

﴿وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا ۭ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِيْنَ مُنْتَقِمُوْنَ﴾ (السجدۃ: 22)

(اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی گئی، پھر اس نے ان سے اعراض کیا (منہ پھیر لیا)۔ یقینا ًہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں)

 

ان تمام نواقض میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی نے انہيں مذاق میں کیا ہو یا سنجیدگی سے یا پھر خوف سے سوائے اکراہ میں مبتلا شخص کے(یعنی جسے بزور مجبور کیاجائے)۔ ان تمام کا ہر چیز سے بڑھ کر خطرہ ہےاور انہی میں اکثر لوگ واقع بھی ہوجاتے ہیں۔ لہذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ ان سے خبردار رہے اور اپنے نفس پر ان کے تعلق سے ڈرے۔ ہم اللہ تعالی سے اس کے موجبِ غضب باتوں اور دردناک عقاب سے پناہ طلب کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالی کے درود وسلام ہوں اپنی بہترین مخلوق محمد  پر، اور آپ کی آل اور اصحاب پر ۔

 


[1] ’’شک‘‘  کا لفظ الدرر السنیۃ سے ہے اور یہی صواب ہے۔

[2] الدرر السنیۃ میں اس نص کی زیادتی ہے کہ: ۔ ۔ ۔ اجماعی طور پر اور اس کی دلیل یہ فرمان الہی ہے: ﴿ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ﴾ (محمد: 9) (یہ اس لیے کہ بے شک انہوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جو اللہ نے نازل کی تو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے)۔

[3] لفظ ’’أو ثواب الله‘‘ (یا اللہ کے ثواب)  اس طبع میں سے ہے جو کہ ام القری نے شائع کی جس میں اس لفظ کی وضاحت ہے جو کہ دیگر طبعات میں وارد ہے یعنی ’’أو ثوابه‘‘ (یا اس کے ثواب)۔