Principles of Salafee Da'awah – Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

شیح محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ فرماتے ہیں:

وہ سب سے اچھی بات جس سے ہم اپنا کلام شروع کرسکتے ہیں وہ ارشاد باری تعالی ہے کہ:

 

﴿وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا  ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ﴾ (التوبۃ: 100)

(اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے سب سے پہلے لوگ اور وہ لوگ جنہوں نے بطور احسن ان کی اتباع کی، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے اور ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ابدالآباد۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے)

 

اس آیت میں سے ہر مسلمان وہ صحیح منہج اخذ کرسکتا ہے جس پر وہ دعوت گامزن ہے جسے بعض قدیم وجدید علماء نے سلفی دعوت کا نام دیا ہے، اور بعض نے اسے  انصار السنة المحمدیة نام دیا ، جبکہ بعض نے دعوت اہلحدیث کا نام دیا۔ اور یہ تمام اسماء ایک معنی کی طرف دلالت کرتے ہیں اور یہ وہ معنی ہے جس سے قدیم وجدید مسلمانوں کی جماعتوں کی جماعتیں غافل ہیں اس پر متنبہ نہیں ہوئی یا ہوئی تو ہیں مگر اس کی کماحقہ رعایت نہیں کی۔۔۔