Manifestations of Tawheed in Ramadaan – Shaykh Muhammad bin Ghaalib Al ‘Umarî

رمضان میں توحید کے مظاہر

فضیلۃ الشیخ محمد بن غالب العمری حفظہ اللہ

(تلمیذ المشایخ مقبل بن ہادی، ربیع المدخلی، عبدالمسحن العباد، عبداللہ البخاری)

ترجمہ وتبویب: طارق علی بروہی

مصدر: میراث الانبیاء ریڈیو پر 4 رمضان، 1434ھ میں دیا گیا ایک درس۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ محمد بن غالب العمری  حفظہ اللہ اس کتاب میں توحید کی اہمیت، فضائل اور قدر و منزلت  ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ:

مومن کی ہر عبادت میں توحید کارفرما ہوتی ہے

”دراصل توحید کسی بندے سے کبھی جدا نہیں ہوتی وہ کوئی بھی عمل کرے، تو وہ دراصل توحید کو قائم کررہا ہوتا ہے جو کہ عبادت کی اصل ہے، اور اللہ تعالی کو عبادت میں اکیلا قرار دینا اوراللہ تعالی سے شرک کی نفی کرنا ہوتا ہے اپنے قول یا فعل سے، یا پھر وہ توحید کے واجب یا مستحب مکملات کی ادائیگی کررہا ہوتا ہے۔ جب بندے کو واقعی اس بات کا شعور حاصل ہو تو اس سے کوئی بھی عمل صادر نہ ہوگا، نہ وہ کسی عمل کے لیے پیش قدمی کرے گا مگر ضرور وہ اس عمل میں توحید کے بارے میں شعور رکھتا ہوگا۔ کیونکہ وہ اسے ادا کر ہی نہيں رہا مگر اللہ تعالی کی اطاعت میں اس کے کی توحید کی خاطر، پس اللہ تعالی کا قول ہی مقدم ہے، اس کا امر ہی لائق پیروی ہے، اور اللہ تعالی کے امر ہی میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنا بھی ہے“۔

چناچہ آپ نے پھر روزے میں پائے جانے والے کچھ مظاہر کا ذکر فرمایا جیسے روزہ اور اخلاص، دعاء، اتباع رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، گناہوں سے اجتناب، تلاوت قرآن مجید، تقویٰ کا حصول اور تزکیۂ نفس اور توحید کی تینوں اقسام کا شعور اپنے اندر پیدا کرنا وغیرہ۔