The Islamic way of the formation of government & ruling regarding taking part in democratic election and voting – Various ‘Ulamaa

اسلام میں حکومت کی تشکیل کا طریقۂ کار اور جمہوری انتخابات میں حصہ لینے

اور ووٹ ڈانے کا شرعی حکم  

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب وفوائد: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

اسلام میں حکمران  کی تنصیب مختلف طریقوں سے ہوسکتی ہے۔

پہلا طریقہ : اہل حل وعقد کی بیعت کرنا ۔

دوسرا طریقہ: امام خود اپنے بعد کسی کو اپنا ولی عہد نامزد کرجائے ۔

تیسرا طریقہ: امام اہل شوریٰ کی ایک جماعت کو نامزد کردے کہ وہ اپنے میں سے کسی ایک کو امام المسلمین بنا لیں ۔

چوتھا طریقہ: کوئی مسلمان تلوار کے زور پر غالب آجائے یہاں تک کہ لوگ اس کے آگے ہتھیار ڈال دیں اور اطاعت قبول کرلیں، تو مسلمانوں کے کلمے کو مجتمع رکھنے اور اختلاف سے نکلنے کی خاطراس کی بھی امامت لازم ہوجائے گی ، اور وہ امام المسلمین ہوگا ۔

شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ دینی سیاسی جماعتوں کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’پھر ان کے جو اختلافات ہیں طریقۂ دعوت میں اور طریقۂ اقامت خلافت میں اس کے اندر کیا کیا بدعات پنہاں ہیں جن میں سے بعض تو کفریہ بھی ہیں جیسے جمہوریت (ڈیموکریسی) کہ جس کے اندر ایسے ایسے مفاسد اور شر پنہاں ہیں کہ جو انہیں اہل سنت والجماعت سے بہت دور جاپھینکتے ہیں۔ یا جیسے انتخابات ہیں کہ جس میں ایسی ایسی مخالفات، ظلم اور جھوٹ وافتراءہیں کہ جو انہیں تمام لوگوں میں طریقۂ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور طریقۂ ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا سب سے شدید ترین مخالف بنادیتے ہیں۔ ان تمام باتوں کی موجودگی کے ساتھ ممکن ہی نہيں کہ کوئی اہل سنت والجماعت کے دائرے میں باقی رہتا ہو ان لوگوں کے نزدیک کہ جو واقعی منہج اہل سنت والجماعت کا احترام کرتے ہیں اور اس کے ساتھ اور اس کے اس کے اہل لوگوں کے ساتھ انصاف کرتے ہیں‘‘۔