الشیخ مقبل بن ہادی الوادعی

  • Aqeedah and Manhaj necessitate each other - Various 'Ulamaa

    عقیدہ اور منہج لازم ملزوم ہیں   

    مختلف علماء کرام

    ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

    مصدر: مختلف مصادر۔

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

     

    شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ سے سوال ہوا:

    یہ قول کہاں تک صحیح ہے کہ فلاں سلفی العقیدہ ہے لیکن اس کا منہج اخوانی ہے؟ کیا منہج عقیدے میں سے نہیں ہے؟ اور کیا یہ تقسیم سلف کے یہاں معروف تھی کہ ایسا شخص پایا جائے کہ وہ عقیدے میں سلفی ہو لیکن منہج میں سلفی نہ ہو؟

    جواب: یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوسکتے میرے بھائی۔ لہذا یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک شخص اخوانی سلفی ہو۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ وہ بعض چیزوں میں سلفی موافقت رکھتا ہو اور بعض میں اخوانی، یا بعض میں اخوانی ہو اور بعض میں سلفی۔ لیکن ایسا تصور کہ وہ ویسا سلفی ہے کہ جو اس چیز پر ہو جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے تو ان دو باتوں کو جمع کرنا ایک مستحیل  وناممکن بات ہے۔

    اخوان المسلمین والے داعیان ہیں، ٹھیک۔ تو وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں؟ کیا وہ سلف صالحین کی دعوت کی طرف بلاتے ہیں؟ یعنی اگر ہم تصور کریں کسی اخوانی سلفی کا! کیا وہ سلفی دعوت کی طرف بلائے گا؟ جواب: نہیں۔ تو پھر ظاہر ہے وہ سلفی نہيں ہے، لیکن بس ایک جانب سے وہ ایسا ہوسکتا ہے، جبکہ دوسری جانب سے وہ ایسا نہیں۔

    (من سلسلة الهدى والنور751)

    سائل: شیخنا حفظکم اللہ، بعض داعیان ایسے ہيں جو نسبت واپنانے کے لحاظ سے عقیدے اور منہج میں فرق کرتے ہیں، پس آپ پائیں گے کہ ا س کا عقیدہ سلفی ہوگا ساتھ ہی پائیں گے کہ  دعوت الی اللہ میں اس کا منہج اخوانی تحریکی حزبی سیاسی یا تبلیغی یا اسی طرح کا کچھ ہوگا، تو کیا واقعی ان کے لیے اس کی گنجائش ہے؟

    جواب: میرا نہيں خیال کہ کوئی عقیدے وسلوک کے اعتبار سے سلفی ہو تو اس کے لیے یہ ممکن رہے کہ وہ اخوان المسلمین اور ان جیسوں کے منہج کو اپناتا ہو۔۔۔

    اس کے علاوہ فتویٰ کمیٹی، سعودی عرب  وشیخ ابن باز، شیخ محمد ناصر الدین الالبانی، شیخ محمد بن صالح العثیمین ، شیخ محمد امان الجامی ، شیخ مقبل بن ہادی الوادعی  ، شیخ زید بن محمد المدخلی   رحمہم اللہ اور شیخ ربیع بن ہادی المدخلی ، شیخ صالح بن فوزان الفوزان ، شیخ عبید بن عبداللہ الجابری ،شیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ  و شیخ محمد علی فرکوس حفظہم اللہ کے کلام سے ماخوذ۔

     

  • The Islamic way of the formation of government & ruling regarding taking part in democratic election and voting - Various 'Ulamaa

    اسلام میں حکومت کی تشکیل کا طریقۂ کار اور جمہوری انتخابات میں حصہ لینے

    اور ووٹ ڈانے کا شرعی حکم   

    مختلف علماء کرام

    ترجمہ وترتیب وفوائد: طارق علی بروہی

    مصدر: مختلف مصادر

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

    اسلام میں حکمران  کی تنصیب مختلف طریقوں سے ہوسکتی ہے۔

    پہلا طریقہ : اہل حل وعقد کی بیعت کرنا ۔

    دوسرا طریقہ: امام خود اپنے بعد کسی کو اپنا ولی عہد نامزد کرجائے ۔

    تیسرا طریقہ: امام اہل شوریٰ کی ایک جماعت کو نامزد کردے کہ وہ اپنے میں سے کسی ایک کو امام المسلمین بنا لیں ۔

    چوتھا طریقہ: کوئی مسلمان تلوار کے زور پر غالب آجائے یہاں تک کہ لوگ اس کے آگے ہتھیار ڈال دیں اور اطاعت قبول کرلیں، تو مسلمانوں کے کلمے کو مجتمع رکھنے اور اختلاف سے نکلنے کی خاطراس کی بھی امامت لازم ہوجائے گی ، اور وہ امام المسلمین ہوگا ۔

    شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ دینی سیاسی جماعتوں کے بارے میں فرماتے ہیں:

    ’’پھر ان کے جو اختلافات ہیں طریقۂ دعوت میں اور طریقۂ اقامت خلافت میں اس کے اندر کیا کیا بدعات پنہاں ہیں جن میں سے بعض تو کفریہ بھی ہیں جیسے جمہوریت (ڈیموکریسی) کہ جس کے اندر ایسے ایسے مفاسد اور شر پنہاں ہیں کہ جو انہیں اہل سنت والجماعت سے بہت دور جاپھینکتے ہیں۔ یا جیسے انتخابات ہیں کہ جس میں ایسی ایسی مخالفات، ظلم اور جھوٹ وافتراءہیں کہ جو انہیں تمام لوگوں میں طریقۂ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور طریقۂ ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا سب سے شدید ترین مخالف بنادیتے ہیں۔ ان تمام باتوں کی موجودگی کے ساتھ ممکن ہی نہيں کہ کوئی اہل سنت والجماعت کے دائرے میں باقی رہتا ہو ان لوگوں کے نزدیک کہ جو واقعی منہج اہل سنت والجماعت کا احترام کرتے ہیں اور اس کے ساتھ اور اس کے اس کے اہل لوگوں کے ساتھ انصاف کرتے ہیں‘‘۔

Articles

Scholars