menu close menu

موجودہ دور کے خوارج کی نمایاں صفات علماء کرام کے کلام سے – مختلف علماء کرام

Characteristics of Neo-Khawarij from the speech of 'Ulamaa – Various 'Ulamaa

موجودہ دور کے خوارج کی نمایاں صفات علماء کرام کے کلام سے   

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ لا للإرهاب وغیرہ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله صلى الله عليه وسلم وبعد:

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ:

’’سَيَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‘‘([1])

(آخری زمانے میں ایسی قوم ظاہر ہوگی جو کم سن وکم عقل ہوں گے۔  سب سے بہترین کلام  سےبات کریں گے (یعنی قرآن وحدیث کی)۔ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر ہدف (شکار) سے نکل جاتا ہے۔ اگر تم انہیں پاؤ تو قتل کردو کیونکہ بلاشبہ ان کے قتل کرنے پر اللہ تعالی کے یہاں بروزقیامت اجر ہے اس شخص کے لیے جو انہیں قتل کرے)۔

خوارج کو بہت سے لوگ نہیں جانتے کیونکہ عام طور پر عوام اہل بدعت کی تمیز نہیں کرسکتے سوائے اس کے کہ انہیں غلبہ وشوکت حاصل ہوجائے یا وہ اپنے مخالفین سے الگ ہوکر رہتے ہوں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ " کتاب النبوات 1/139 میں فرماتے ہیں: اسی طرح سے خوارج ہیں کہ جب وہ تلوار ہاتھ میں لے کر قتال شروع کرتے ہیں تب ان کی مسلمانوں کی جماعت کے خلاف مخالفت ظاہر ہوتی ہے جب وہ لوگوں کو قتل کررہے ہوتے ہیں جبکہ آج کے دور میں تو انہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے۔

خوارج کی  اپنی صفات ہیں جن سے وہ پہچانے جاتے ہیں لیکن یہ بات جاننی چاہیے کہ ان میں سے بعض صفات ان کے بارے میں علماء کرام نے تتبع واستقراء (غوروفکر) کرکے بیان کی ہیں، لہذا یہ شرط نہیں کہ ہر وہ صفت جو ان کی بیان کی جائے تو وہ اس کا باقاعدہ کسی کتاب وغیرہ میں اقرار بھی کرتے ہوں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ " مجموع الفتاوی 13/49 میں فرماتے ہیں: خوارج کے اقوال کو ہم لوگوں کے ان کی طرف سے نقل کرنے کی بنا پر جانتے ہیں ناکہ ان کی کسی تصنیف شدہ کتاب سے۔

بلکہ ان کے بارے میں ریسرچ کرنے والا یہ پائے گا کہ اولین خوارج جو ہوا کرتے تھے ان کا اپنی گمراہی میں متفق ہونے کے باوجود ان کے ہم عصر لوگوں پر ان کی پہچان میں اشکال پیدا ہوگیاتو پھر آج کے اس دور میں کتنا مشکل ہوگا جبکہ یہ لوگ سنت کی طرف انتساب تک کرنے لگے ہیں حالانکہ وہ خوارج ہیں خواہ جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں۔ معاصر علماء کرام کے فتاوی کی روشنی میں ان کی بعض صفات مندرجہ ذیل ہیں:

1- حکمرانوں پر خروج اور معروف میں ان کی سمع وطاعت نہ کرنے کو بطور دین اپنانا

2- کبیرہ گناہ کے مرتکب کی تکفیر کرنا

3- لوگوں کے سامنے حکمرانوں کے عیب بیان کرنا، ان پر طعن کرکے ان کے ضد میں اپنی مخالفت ظاہر کرنا جس کے ذریعے سے  لوگوں کو ان کے خلاف ابھارنا اور ان کے سینوں کو نفرت آمیز جذبات سے بھرنا

4- جو کوئی اللہ تعالی کی نازل کردہ شریعت کے مطابق حکم نہیں کرتا کی مطلقاً  تکفیر کرنا

5- حکمران کی تکفیر کرنا اس دلیل کے ساتھ کہ انہوں نے جہاد کو معطل کردیا ہے

6- دھماکے کرنا

7- پولیس، رینجرز وفوج کے قتل کو جائز قرار دینا

8- ان کے اقوال میں سے ہے کہ امام (شرعی حاکم) جس کا احادیث میں ذکر ہے وہ وہی ہے جس پر تمام مسلمان مشرق تا مغرب مجتمع ہوں یعنی پوری مسلم دنیا کا ایک خلیفہ ہو

کیا اس زمانے میں خوارج پائے جاتے ہیں؟!

خوارج سے متعلق چند صحیح احادیث

تفصیل کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں ۔ ۔ ۔ 

 


[1] صحیح مسلم 1066۔

 

December 8, 2013 | الامام بخاری, الامام مسلم, الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, الشيخ عبد العزيز بن باز, الشيخ محمد بن صالح العثيمين, الشيخ محمد ناصر الدين ألباني, امام الامیر الصنعانی, امام الشوکانی, شيخ الاسلام ابن تيمية, شيخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com