menu close menu

امام ترمذی رحمہ اللہ اور سنن ترمذی کا مختصر تعارف – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Brief Introduction of Imaam Tirmizee (rahimaullaah) and his Book "Sunan Tirmizee" Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

امام ترمذی رحمہ اللہ اور سنن ترمذی کا مختصر تعارف   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ  المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مصطلح الحديث

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سنن ترمذی

 

یہ کتاب ’’جامع ترمذی‘‘ کے نام سے بھی مشہور  ہے۔ امام ترمذی " نے اس کی تالیف ابواب الفقہ کے اعتبار سےکی ہے۔ اور اس میں انہوں نے صحیح ، حسن اور ضعیف سب احادیث درج کی ہیں، ساتھ میں ہر حدیث کا درجہ اس کے مقام پر بیان کردیا اور ضعف کی وجہ بھی۔  اور اس بات کو بیان کرنے کا بھی انہوں نے اہتمام کیا ہے کہ صحابہ کرام وغیرہ میں سے کن اہل علم نے اس حدیث کو لیا ہے۔ اس کے آخر میں انہوں نے ایک کتاب علل کے متعلق لکھی جس میں بہت اہم فوائد جمع فرمائے ہیں۔

 

امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’جَمِيعُ مَا فِي هَذَا الْكِتَابِ مِنَ الْحَدِيثِ فَهُوَ مَعْمُولٌ بِهِ، وَبِهِ أَخَذَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، مَا خَلَا حَدِيثَيْنِ: حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِالْمَدِينَةِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ، وَلا سَفَرٍ، وَلَا مَطَرٍ([1])، وَحَدِيثَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ قَالَ: إِذَا شَرِبَ الْخَمْرَ، فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ، فَاقْتُلُوهُ([2])‘‘

(اس کتاب میں احادیث میں سے جو کچھ بھی ہے اس پر عمل کیا جاتا ہے اور بعض علماء نے انہیں ضرور لیا ہے سوائے دو احادیث کے: حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی نماز اسی طرح سے مغرب اور عشاء کی نماز مدینہ کے اندر ہی جمع فرمائیں حالانکہ نہ کوئی خوف تھا، نہ ہی سفر یا بارش۔  اور یہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے آپ نے فرمایا: جب کوئی شراب پیے تو اسے کوڑے مارو اور اگر چوتھی مرتبہ پیے تو اسے قتل کردو)([3])۔

 

اس کتاب میں ایسے فقہی اور حدیثی فوائد ہیں جوکسی اور کتاب میں نہیں۔  حجاز، عراق او رخراسان کے علماء نے اس کتاب کوسراہا جب مؤلف نے اپنی کتاب ان پر پیش فرمائی۔

 

امام ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اعلم أن الترمذي خرج في كتابه الصحيح والحسن والغريب. والغرائب التي خرجها فيها بعض المنكر، ولا سيما في كتاب الفضائل، ولكنه يبيِّن ذلك غالباً، ولا أعلم أنه خرج عن متهم بالكذب، متفق على اتهامه بإسناد منفرد، نعم قد يخرج عن سيئ الحفظ، ومن غلب على حديثه الوهن، ويبيِّن ذلك غالباً، ولا يسكت عنه‘‘

(یہ بات جان لیں کہ امام ترمذی رحمہ اللہ اپنی کتاب میں صحیح ، حسن اورغریب احادیث لائے ہیں۔ اور جو غریب احادیث ہیں لائے ہیں ان میں سےبعض منکر بھی ہیں، خصوصاً  کتاب الفضائل میں، لیکن غالبا ً وہ (اس کا ضعف یا نکارت) خود ہی بیان کردیتے ہیں۔اور میرے علم میں نہیں کہ وہ ایک بھی ایسے انفرادی سند کے ساتھ متہم بالکذب کی روایت لائے ہوں کہ جس  کے اتہام پر اتفاق ہو۔ ہاں البتہ وہ بعض  سيئ الحفظ اور جن کی روایت میں وہن وکمزوری  کا غلبہ ہوکی روایت لائے ہیں،  لیکن غالبا ًوہ خود اسے بیان فرمادیتے ہیں اور اس پر خاموشی اختیار نہیں فرماتے)۔

 

امام ترمذی رحمہ اللہ

 

آپ أبو عيسى محمد بن عيسى بن سورة السلمي الترمذي ہیں۔ سن209ھ میں جیجون کے کنارے واقع شہر ترمذ میں پیدا ہوئے۔ مختلف شہروں میں گھومے پھرے اور اہل حجاز، عراق وخراسان سے احادیث کو سنا۔

 

آپ کی امامت وجلالت پر (علماء کرام کا) اتفاق ہےیہاں تک کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک ان پر اعتماد کرتے اور روایت لیتے حالانکہ وہ خود یعنی امام بخاری ان کے شیوخ میں سے تھے۔

 

ترمذ میں سن 279ھ میں ستر سال کی عمر میں وفات پائی۔آپ نے علل  وغیرہ پر بہت سی  نفع بخش تصانیف تصنیف فرمائی ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر رحم ‌فرمائے اور مسلمانوں کی طرف سے انہیں جزائے خیر عطاء فرمائے۔

 


[1] رواه مسلم (705) كتاب الصلاة، 5- باب جواز الجمع بين الصلاتين في السفر. وانظر: البخاري (543) كتاب مواقيت الصلاة، 12- باب تأخير الظهر إلى العصر. والترمذي (187) كتاب الصلاة، 24- باب ما جاء في الجمع بين الصلاتين في الحضر.

 

[2] رواه الترمذي (1444) كتاب الحدود، 15- باب ما جاء من شرب الخمر فاجلدوه، ومن عاد في الرابعة فاقتلوه.

 

[3] میں یہ کہتا ہوں: بلکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حدیث کے مقتضی کو لیا ہے اسی بنا پر انہوں نے ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کو مرض وغیرہ کی وجہ سے جمع کرنےکی اجازت دی ہے۔ بلکہ خود سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا  کیوں کیا؟ تو فرمایا: ’’أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ‘‘ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارادہ یہ تھا  کہ امت پر کوئی حرج ومشقت نہ ہو)۔ جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جب کبھی بھی امت کو حرج ومشقت لاحق ہو جمع کو ترک کی صورت میں تو ان کے لیے جمع کرنا جائز ہے۔

جبکہ شرابی کو چوتھی مرتبہ شراب کی حد لگنے پر قتل کرنے والی جو حدیث ہے تو اسے بھی بعض علماء نے  لیا ہے ۔ امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: چوتھی مرتبہ شراب پینے کی حد لگنے پر بہرحال قتل کیا جائے گا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : (چوتھی بار نہیں بلکہ جب بھی) اگر ضرورت پڑے تو اسے قتل کیا جاسکتا ہے، اگر لوگ اس کے قتل کیے بنا باز نہ آرہے ہوں تو۔لہذا ان دو حدیثوں پر عمل ترک کرنے کے بارے میں اجماع نہیں ہے ۔

 

March 4, 2015 | الامام ترمذی, سوانح عمری, علماء کرام | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com