menu close menu

امام نسائی رحمہ اللہ اور سنن نسائی کا مختصر تعارف – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Brief Introduction of Imaam Nasaee (rahimaullaah) and his Book "Sunan Nasaee" – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

امام نسائی رحمہ اللہ اور سنن نسائی کا مختصر تعارف   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مصطلح الحديث

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سنن نسائی

 

امام نسائی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’السنن الکبری‘‘ کی تالیف فرمائی اور اس میں صحیح اور معلول (علت والی) روایات کو بھی شامل فرمایا۔ پھر  اس کا اختصار اپنی کتاب ’’السنن الصغری‘‘ میں فرمایا، جسے’’المجتبى‘‘  کا نام دیا۔ اس میں ان احادیث کو جمع فرمایا جو ان کے نزدیک صحیح تھیں۔ (یہ بات یاد رہے کہ) جب بھی یوں کہا جاتا ہے کہ فلاں روایت کو النسائی نے روایت کیا تو اس سے مراد یہی الصغری ہوتی ہے۔ (البتہ اگر نسائی نے روایت کیا الکبری میں تو پھر الکبری کی قید لگانا ضروری ہوتا ہے)۔

 

 اور اس ’’المجتبى‘‘ میں تمام سنن (جیسےسنن ابی داود، ترمذی، ابن ماجہ اور نسائی) کی نسبت سب سے کم ضعیف احادیث اور سب سے کم مجروح راوی ہیں۔ لہذا اس کا درجہ صحیحین کے بعد ہے۔ رجال کے اعتبار سے یہ سنن ابی داود اور ترمذی  پر مقدم ہے، کیونکہ اس کے مؤلف نے رجال کی تحقیق میں شدت اختیار کی ہے (بہت سخت محنت کی ہے)۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’كم من رجل أخرج له أبو داود والترمذي تجنب النسائي إخراج حديثه، بل تجنب إخراج حديث جماعة في "الصحيحين‘‘

(کتنے ہی ایسے راوی ہیں کہ جن کی روایت ابو داود اورترمذی نے  لی ہے لیکن امام نسائی نے ان کی حدیث لینے سے اجتناب فرمایا ہے، بلکہ راویوں کی ایک ایسی جماعت تک سے اجتناب فرمایا جو کے صحیحین کے راوی ہیں)۔

 

بالجملہ امام نسائی کی ’’المجتبى‘‘ میں جو شروط ہیں وہ صحیحین کے بعد سب سے قوی ترین ہیں۔

 

امام نسائی رحمہ اللہ

 

آپ  أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب بن علي النسائي ہیں اور النسويبھی کہا جاتا ہے جو کہ خراسان کے ایک مشہور شہر نسأ کی طرف نسبت ہے۔

 

آپ کی ولادت 215ھ میں نسأ شہر میں  ہوئی۔ پھر طلب حدیث کے لیے رحلہ (سفر) فرمایا۔ اور انہوں نے  اہل حجاز، خراسان ، شام والجزيرةوغیرہ ےسنا، اورایک طویل عرصہ مصر میں رہے۔آپ کی تصانیف مصر میں نشر ہوئیں اور پھیل گئیں۔ پھر آپ دمشق کی طرف گئے پھر وہاں  ایک کڑے امتحان سے گزرے۔  اورسن 303ھ  رملہ ، فلسطین میں 88 سال کی عمر میں میں آپ کی وفات ہوئی۔

 

حدیث اور علل پر اپنی تصنیفات کی صورت میں آپ نے بہت سا علمی ذخیرہ چھوڑا ہے۔ اللہ تعالی آپ پر رحم ‌فرمائے اور مسلمانوں کی طرف سے انہیں جزائے خیر عطاء فرمائے۔

February 19, 2015 | الامام نسائی, سوانح عمری, علماء کرام | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com