menu close menu

امام ابن ماجہ رحمہ اللہ اور سنن ابن ماجہ کا مختصر تعارف – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Brief Introduction of Imaam Ibn Majah (rahimaullaah) and his Book "Sunan Ibn Majah" – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

امام ابن ماجہ رحمہ اللہ اور سنن ابن ماجہ کا مختصر تعارف   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ  المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مصطلح الحديث

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سنن ابن ماجہ

 

اس کتاب میں مؤلف نے 4341 احادیث کو ابواب کی ترتیب سے مرتب فرمایا ہے۔ اورمتأخرین  کے یہاں یہ اصول حدیث ’’امہات الست‘‘ (حدیث کی چھ بنیادی کتب) میں سے چھٹی کتاب ہے الا یہ کہ دیگر سنن یعنی سنن النسائی، ابی داود اور ترمذی کے اعتبار سے درجے میں کم ہے۔ حتی کہ یہ مشہور باتوں میں سے ہے کہ جس روایت میں یہ منفرد ہوتے ہیں وہ غالبا ًضعیف ہی ہوتی ہے،  لیکن حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہيں:

’’ليس الأمر في ذلك على إطلاقه باستقرائي، وفي الجملة ففيه أحاديث كثيرة منكرة، والله المستعان‘‘

( جہاں تک میں نے استقراء کیا (تمام احادیث کو غور سے دیکھا) ہےتو میں نے پایا کہ یہ بات علی الاطلاق نہیں ہے۔ (یعنی ابن ماجہ کی ہر انفرادی حدیث ضروری نہیں کہ ضعیف ہی ہو) ہاں البتہ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس میں بہت سی منکر روایات پائی جاتی ہیں۔ واللہ المستعان)۔

 

اور امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’فيه مناكير وقليل من الموضوعات‘‘

(اس میں مناکیر روایات موجود ہيں اور بہت کم موضوع روایات بھی )۔

 

اما م سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’إنه تفرد بإخراج الحديث عن رجال متهمين بالكذب، وسرقة الأحاديث، وبعض تلك الأحاديث، لا تعرف إلا من جهتهم‘‘

(انہوں نے ایسے رجال سے بھی حدیث لینے میں تفرد اختیار کیاہے جن پر جھوٹ اور حدیث چوری کی تہمت لگی ہو۔ اور ان میں سے بعض احادیث ایسی بھی ہیں جو صرف انہی کی جہت سے جانی جاتی ہیں)۔

 

ان کی اورتمام یا بعض اصحاب کتب ستہ  کی اکثر روایات مشترک ہیں۔ البتہ 1339 احادیث منفرد ہیں جیسا کہ استاد محمد فؤاد عبدالباقی " نے اس کی تحقیق کی ہے ۔

 

امام ابن ماجہ رحمہ اللہ

 

آپ أبو عبد الله محمد بن يزيد بن عبد الله بن ماجه (ماجہ میں ہاء ساکنہ ہے یوں بھی کہا گیا ہے کہ تاء سے پڑھا جائے) الربعي مولاهم القزويني ہیں۔

 

سن 209 ھ میں قزوین (جو کہ عجم کے عراق میں سے ہے) پیدائش ہوئی ۔ طلب علم کے لیے الري والبصرة والكوفة وبغداد والشام ومصر والحجازکی طرف رحلہ( سفر) کیے۔اوروہاں کے بہت سے اہل علم سے علم حاصل فرمایا۔

 

273ھ میں 64 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔

 

ان کی نفع بخش تصانیف کی ایک تعداد موجود ہے۔اللہ تعالی آپ پر رحم ‌فرمائے اور مسلمانوں کی طرف سے انہیں جزائے خیر عطاء فرمائے۔

March 7, 2015 | الامام ابن ماجہ, سوانح عمری, علماء کرام | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com