menu close menu

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور مسند احمد کا مختصر تعارف – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Brief Introduction of Imaam Ahmed bin Hanbal (rahimaullaah) and his Book "Musnad Ahmed" – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

امام احمد بن حنبل  رحمہ اللہ اور مسند احمد کا مختصر تعارف   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ  المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مصطلح الحديث

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

مسند احمد

 

محدثین نے مسانید کو تیسرے درجے پر رکھا ہے یعنی صحیحین اور سنن کے بعد۔مسانید میں قدر ومنزلت اور نفع کے اعتبار سے سب سے عظیم مسند امام احمد ہے۔قدیم وموجودہ دور کے محدثین اس کے بارے میں گواہی دیتے ہیں کہ  یہ کتب سنت میں سے سب سے  جامع اور اس علم سے بھرپورکتاب ہے جس کی ہر مسلمان کو اپنے دین اور دنیا میں احتیاج ہوتی ہے۔

 

 امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’کوئی بھی مسند کتب میں سے دوسری کتاب مسند احمدکی کثرت (حدیث) اور حسن سیاق کے اعتبار سے برابری نہیں کرسکتی‘‘۔

 

اور حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’ہمارے والد (یعنی امام احمد) نے ہمیں جمع فرمایا یعنی مجھے، (میرے بھائی) صالح اور عبداللہ کو۔  اور المسند ہم پر پڑھی جسے ہمارے سوا (اس وقت) کسی نے نہیں سنا۔اور (والد صاحب نے) فرمایا: یہ وہ کتاب ہے  جسے میں نے ساڑھے سات لاکھ حدیثوں سے منتخب کیا ہے۔مسلمانوں میں اگر کسی حدیث کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو اس کی طرف رجوع کیا جائے۔ اگر وہ اس میں مل جائے تو ٹھیک ورنہ وہ حجت نہیں ہوسکتی‘‘۔

 

لیکن اما م ذہبی رحمہ اللہ فرماتےہیں:

’’آپ رحمہ اللہ کا یہ فرمان غالب امرکے متعلق ہے کیونکہ ہمارے تو پاس صحیحین  اور سنن  اور اجزاء میں ایسی قوی احادیث بھی موجود ہیں جو مسند میں نہیں‘‘۔

 

ان کے بیٹے عبداللہ نے اس کتاب میں بعض زیادات کا اضافہ فرمایا ہے جو کہ ان کے والد کی روایت سے نہيں ہیں ۔اور جو ’’زوائد عبد الله‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ اور اس میں مزید زیادات  أبو بكر القطيعي نے بھی کی ہیں جو  عن عبد الله عن أبيه کے زیادات کے علاوہ ہیں۔

 

مسند احمد میں مکرر کے ساتھ چالیس ہزار 40000احادیث ہیں اور اگر مکرر کو حذف کردیا جائے تو تیس ہزار 30000 احادیث ہیں۔

 

مسند احمد کی احادیث کے متعلق علماء کرام کی آراء

 

علماء کی مسند احمد کے بارے میں تین آراء ہیں:

 

پہلا قول: اس میں موجود تمام احادیث حجت ہیں۔

 

دوسرا قول:  اس میں صحیح ، ضعیف اور موضوع  ہر قسم کی احادیث ہیں۔ اور امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے الموضوعات میں اس میں سے 29 احادیث کو ذکر کیا ہے۔ اور حافظ العراقی رحمہ اللہ نے اس میں 9 احادیث کا اضافہ کیا (یعنی وہ بھی موضوع ہیں) اور انہیں ایک جزء میں جمع فرمایا۔

 

تیسرا قول: اس میں صحیح بھی ہیں ضعیف بھی ہیں لیکن ضعیف ایسی ہیں جو کہ حسن کے قریب قریب ہيں ۔ البتہ موضوع روایت اس میں کوئی بھی نہیں ہے۔ اس قول کے طرف شیخ الاسلام ابن تیمیہ ، ذہبی، حافظ ابن حجر اور سیوطی رحمہم اللہ گئے ہیں۔

 

اورشیخ الاسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’امام احمد رحمہ اللہ کی مسند کی شرط امام ابو داود رحمہ اللہ کی سنن کی شرط سے زیادہ قوی ہے۔ امام ابو داود نے ایسے راویوں تک سے روایت کی ہے جن  سےمسند میں پرہیز کیا گیا ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے مسند میں یہ شرط بھی رکھی ہے کہ جو ان کے نزدیک جھوٹ بولنے میں معروف ہیں  ان سے راویت نہیں لیں گے۔ اگرچہ ان میں بعض ضعیف بھی تھے ۔ پھر اس میں ان کے بیٹے عبداللہ اور أبو بكر القطيعي نے زیادات کا اضافہ فرمایا اور انہیں بھی اس کے ساتھ شامل کردیا۔ پس ان کی روایات میں بہت سی موضوع احادیث بھی تھیں جس کی وجہ سے ان لوگوں کو گمان  ہوگیا کہ جن کے پاس علم نہیں کہ یہ روایات امام احمد رحمہ اللہ کی اپنی مسند کی  ہیں‘‘([1])۔

 

جو کچھ شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا اس کے ذریعے ان تینوں آراء  میں جمع توفیق کی جاسکتی ہے۔پس جس نے کہا اس میں صحیح بھی ہیں اور ضعیف بھی وہ اس کے خلاف نہیں کہ جو کچھ بھی اس میں ہے وہ حجت ہے کیونکہ ضعیف بھی  جب حسن لغیرہ بن جاتی ہے تو حجت بن جاتی ہے۔ او رجس نے کہا کہ: اس میں موضوع احادیث بھی ہیں تو اسے عبداللہ اور  أبو بكر القطيعي کی زیادات پر محمول کیا جائے گا۔

 

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایک کتاب بھی تصنیف کی جس کا نام’’القول المسدد في الذب عن المسند‘‘ (مسند احمد کے دفاع میں قول سدید) رکھا۔ اس میں وہ احادیث ذکر فرمائیں کہ جن پر حافظ العراقی رحمہ اللہ نے موضوع کا حکم لگایا تھا۔بلکہ خود انہوں نے بھی اس میں 15 احادیث کا اضافہ فرمایا ان پر جن کا ذکر ابن الجوزی رحمہ اللہ نے فرمایا تھا پھر ایک ایک حدیث کا جواب دیا۔ اور پھر امام سیوطی رحمہ اللہ نے بھی تعقب کرتے ہوئے ان احادیث کا ذکر فرمایا جو امام ابن الجوزی رحمہ اللہ سے رہ گئی تھیں، جو کہ 14 احادیث ہیں، انہیں ایک جزء  میں بیان فرمایا جسے ’’الذيل الممهد‘‘  کہتے ہیں۔

 

علماء امت نے اس مسند کی مختلف تصانیف کے ذریعے خدمت فرمائی ہے کسی نے اختصار کیا، تو کسی نے شرح،  کسی نے تفسیر کی، کسی نے ترتیب، انہی بہت عمدہ کتب میں سے ایک ’’الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشيباني‘‘ ہے جسے  أحمد بن عبدالرحمن البنانے تالیف فرمایا کہ جو ساعاتی کے نام سے مشہور ہیں۔ انہوں نے اس کی سات اقسام کردیں۔ سب سے پہلی قسم توحید اور اصول دین  کی بنائی اور آخری قسم قیامت اور احوال ِآخرت سے متعلق ہے۔ انہیں ابواب کی ترتیب کے ساتھ بڑی حسن وخوبی سےمرتب فرمایا اور اس کا اتمام اس پر شرح لکھ کر فرمایا جسےانہوں نے’’بلوغ الأماني من أسرار الفتح الرباني‘‘   کا نام دیا اور یہ واقعی اپنے نام کی بھرپور عکاسی کرتی ہےکیونکہ یہ حدیث اور فقہ دونوں زاویو ں سےبہت مفید شرح ہے۔والحمدللہ رب العالمین۔

 

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ

 

آپ أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل الشيباني المروزي ثم البغدادي ہیں۔ 164 ھ میں مرو کے علاقے میں پیدا ہوئے پھر آپ کو شیرخوارگی کے زمانے میں ہی بغداد لے جایا گیا۔  اور یہ بھی کہا گیا کہ: آپ  بغداد ہی میں پیدا ہوئے۔ یتیمی میں ہی پرورش پائی اور طلب حدیث کی خاطر مختلف ملکوں کے سفر فرمائے۔ آپ نے حجاز، عراق شام اور یمن کے مشایخ العصر سے استماع فرمایا۔ انہوں نے سنت وفقہ  کا عظیم اہتمام فرمایایہاں تک کہ اہل حدیثوں نے  انہیں اپنا امام وفقیہ شمار فرمایا ہے۔

 

ان کے زمانے کے علماء اور بعد میں آنے والوں نے بھی ان کی تعریف کی ۔

 

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’میں جب عراق سے نکلا تو میں نے کسی شخص کو احمد بن حنبل سے بڑھ کر افضل، عالم، صاحب ورع ومتقی نہیں دیکھا‘‘۔

 

امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’امام احمد اس زمین پر اللہ تعالی اور اس کے بندوں کے درمیان حجت ہیں ‘‘۔

 

امام علی بن المدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’ بے شک اللہ تعالی نے اس دین کی تائید کی ہے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ذریعے یوم ردہ  میں(مرتدین کے خلاف قتال میں)۔ اور احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے ذریعے یوم المحنۃ  (جب فتنۂ خلق قرآن کے تعلق سے آپ کو امتحان وآزمائش میں مبتلا کیا گیا) میں تائید فرمائی‘‘۔

 

امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’فقہ ، حدیث، اخلاص وورع کی امامت  آپ پر ختم ہے۔ اور سب کا اجماع ہے کہ آپ ثقہ ، حجۃ اور امام  ہيں‘‘۔

 

آپ کی وفات بغداد میں سن 241ھ میں 77 سال کی عمر میں ہوئی۔اس امت کے لیے  بہت سارا علم  اور منہج قویم چھوڑ گئے۔ اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے اور مسلمانوں کی طرف سے آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

 


[1] انظر: "منهاج السنة النبوية" (7/97).

March 23, 2015 | الإمام أحمد بن حنبل, سوانح عمری, علماء کرام | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com