menu close menu

امام ابو داود رحمہ اللہ اور سنن ابی داود کا مختصر تعارف – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Brief Introduction of Imaam Abu Daud (rahimaullaah) and his Book "Sunan Abee Daud" – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

امام ابو داود رحمہ اللہ اور سنن ابی داود کا مختصر تعارف   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مصطلح الحديث

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سنن ابی داود

 

اس کتاب میں 4800 احادیث ہیں ۔ آپ رحمہ اللہ نے 5 لاکھ احادیث میں سے ان  کا انتخاب کیا ہے۔اوراس میں آپ نے صرف احکام سے متعلق احادیث پر اقتصار فرمایا ہے۔ فرماتے ہیں:

’’ذكرت فيه الصحيح، وما يشبهه وما يقاربه. وما كان في كتابي هذا فيه وهن شديد بينته، وليس فيه عن رجل متروك الحديث شيء، وما لم أذكر فيه شيئاً فهو صالح، وبعضها أصح من بعض، والأحاديث التي وضعتها في كتاب "السنن" أكثرها مشاهير‘‘

(میں نے اس میں صحیح اور جو اس  کے مشابہ اورقریب احادیث ہيں انہیں ذکر کیا ہے۔ اورمیری اس کتاب کی  جس روایت میں شدید ضعف ہے تو میں نے اسے واضح بھی کیا ہے۔ میری کتاب میں متروک الحدیث کی کوئی روایت نہیں۔ جس کے متعلق میں کچھ بیان نہ کروں تو وہ  بھی صالح ہے۔ اور بعض روایات بعض سے صحیح تر ہیں۔ جتنی روایات میں نے سنن میں لکھی ہیں ان میں سے اکثر مشہور ومعروف ہیں)۔

 

امام سیوطی رحمہ اللہ (اوپر بیان کردہ لفظ ’’صالح‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے)فرماتے ہیں:

’’اس بات کا احتمال ہے کہ صالح سے ان کی مراد اعتبار کے لحاظ سے صالح ہے ناکہ قابل حجت ہونے کے اعتبار سے لہذا اس میں ضعیف بھی شامل ہیں۔  لیکن امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام ابو داود کے بارے میں روایت کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فرمایا:  جس راویت پر وہ سکوت اختیار کریں تو وہ حسن ہے۔ اگر یہ قول ان سے صحیح طور پر ثابت ہے تو پھر کوئی اشکال نہيں رہتا۔ (یعنی اس بات میں اشکال نہیں رہتا کہ صالح سے مراد بطور حجت صالح ہے)‘‘۔  

 

اور امام ابن الصلاح  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اس اعتبار سے جس حدیث کو ہم ان کی کتاب میں مطلقا ًمذکور پائیں گے اور وہ صحیحین میں بھی نہ ہو، اور نہ کسی نے نصاً اس کی صحت بیان کی ہو، تو  ہم یہ جان لیں گے کہ یہ روایت ابوداود کے نزدیک حسن ہے‘‘۔

 

امام ابن مندہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’امام ابو داود رحمہ اللہ ضعیف سند بھی لاتے ہیں اگر کسی باب میں انہيں اس کے علاوہ کوئی حدیث نہ ملی ہو۔ کیونکہ ان کے نزدیک یہ لوگوں کی رائے لینے سے بہتر ہے‘‘۔

 

اور سنن ابی داود فقہاء کرام کےمابین بہت مشہور رہی ہے کیونکہ یہ احادیث الاحکام  میں جامع ہے۔  اور اس کے مؤلف فرماتے ہیں کہ انہوں نے اسے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ پر پیش کیا تو انہوں نے اس کی تعریف فرمائی اور بہت خوب قرار دیا۔  اور امام ابن القیم " نے اسی کتاب کی تہذیب  کرتے ہوئے اس کے مقدمے میں اس کی بہت زیادہ تعریف فرمائی ہے۔

 

امام ابو داود رحمہ اللہ

 

آپ سليمان بن الأشعث بن إسحاق الأزدي السجستاني ہیں۔  سن 202ھ سجستان میں آپ کی ولادت ہوئی۔ طلب حدیث کے لیے رحلہ (سفر ) کیا اور اہل عراق، شام، مصر وخراسان سے (روایات کو) لکھا۔ اما م احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اور امام بخاری ومسلم رحمہما اللہ کے شیوخ وغیرہ سے(علم وروایات کو) لیا۔

 

علماء کرام نے آپ کی تعریف فرمائی اور انہیں حفظِ تام  (چوٹی کا حافظہ)، زیرک فہم  اور تقوی وورع کے اوصاف سے موصوف فرمایا۔

 

سن 275ھ بصرہ میں 73 سال کی عمر پاکر وفات پائی ۔

 

اپنی مؤلفات کی صورت میں آپ نے بہت سا علمی ذخیرہ چھوڑا ہے۔ اللہ تعالی آپ پر رحم ‌فرمائے اور مسلمانوں کی طرف سے انہیں جزائے خیر عطاء فرمائے۔

February 23, 2015 | الامام ابو داود, سوانح عمری, علماء کرام | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com