menu close menu

اسلامی جماعتیں: تعاون یا بائیکاٹ؟ – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Islamic Jamaats: Cooperation or boycott? – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

اسلامی جماعتیں، اختلاط یا بائیکاٹ؟   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الاجوبۃ المفیدۃ عن الاسئلۃ المناھج الجدیدۃ سوال 8۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: کیا (اسلامی) جماعتوں سے اختلاط رکھنا چاہیے یا ان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے ؟

 

جواب: اگر ان سے اختلاط رکھنے اور پاس جانے والا صاحبِ علم وبصیرت ہو اور اس کا مقصد انہیں سنت سے تمسک اور غلطی کو چھوڑ دینے کی دعوت دینا ہو، تو یہ اچھی بات ہے، اور یہ دعوت الی اللہ میں شمار ہوگا۔ البتہ اگر ان سے اختلاط کا مقصد دعوت وبیان کے بغیر محض ان کا قرب حاصل کرنا اور ان سے دوستی ہو  تو یہ ناجائز ہے۔

 

کسی انسان کے لئے جائز نہیں کہ وہ مخالفین سے اختلاط کرے ماسوائے ایسی صورت میں جس میں کوئی شرعی فائدہ ہو جیسے انہیں صحیح اسلام کی جانب دعوت دینا یا ان کے سامنے حق بیان کرنا شاید کے وہ رجوع کریں۔ جیسا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان بدعتیوں کے طرف گئے جو کہ مسجد میں تھے، ان کے سامنے کھڑے ہوکر ان کی بدعت کا رد فرمایا۔

 

اسی طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما خوارج کی طرف گئے، ان سے مناظرہ فرمایا اور ان کے شبہات کا ازالہ فرمایا، پھر ان میں سے رجوع کرلیا جسے رجوع کرنا تھا۔

 

پس اگر ان سے اختلاط اس صورت میں ہو تو یہ مطلوب ہے، لیکن اگر وہ اپنے باطل پر مصر رہتے ہیں تب ان سے علیحدگی، بائیکاٹ اور اللہ تعالی کے لئے جہاد واجب ہے([1]

 


[1]بدعتیوں کے پاس جاکر دعوت دینا اور ان پر اثر انداز ہونا افراد کے اعتبار سے تو صحیح ہے، لیکن بالجملہ پورے منہج کو تبدیل کردینا یا ان کے شعار (سلوگن ومنشور) پر اثر انداز ہونا ناممکن ہے؛ بلکہ جو ان سے اختلاط کرے گا وہ ان سے متاثر ہوجائے گا بجائے اس کے کہ وہ اِس سے متاثر ہوں۔

یہ فرقے عموماً اپنی دعوت اور اپنے قائدین کی تعلیمات سے کبھی باہر نہیں نکلتے جیسے اخوان المسلمین اور تبلیغی جماعت؛ کتنے ہی مخلصین نے انہیں نصیحت فرمائی!اور کتنا ہی ان کے بارے لکھا گیا! لیکن اب تک جیسا کہ کہا جاتا ہے: اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ جو کچھ میں نے کہا اس کی دلیل کے طور پر یہ کلام حاضر ہے:

فرقہ اخوان المسلمین کے بانی حسن البنا نے کتاب’’مجموع الرسائل‘‘  ص 24   میں عنوان ’’موقفنا من الدعوات‘‘ (مختلف دعوتوں سے متعلق ہمارا مؤقف) کے تحت لکھتے ہیں: ’’موقفنا من الدعوات المختلفة .. أن نزنها بميزان دعوتنا؛ فما وافقها فمرحبًا وما خالفها فنحن براء منه‘‘ (مختلف دعوتوں سے متعلق ہمارا یہ مؤقف ہے ۔۔۔کہ انہیں ہم اپنی دعوت کے میزان پر تولتے ہیں؛ جو اس کے موافق ہو تو خوش آمدید کہتے ہیں اور جو اس کے مخالف ہو تو ہم اس سےبری ہیں)!!۔

اور میں (الحارثی) یہ کہتا ہوں: یا اللہ!  تو گواہ رہنا میں دعوت اخوان المسلمین اور اس کے بانی سے بری ہوں جو کتاب وسنت اور جس چیز پر سلف امت گامزن تھے سے مخالف ہے۔

اسی وجہ سے یہ لوگ کسی کی دعوت قبول نہیں کرتے؛ کیونکہ وہ خود دوسروں کی دعوت کو اپنی دعوت کے تابع کرنا اور اس کے آگے جھکانا چاہتے ہیں۔ واللہ اعلم۔

اگر ان (بدعتیوں)سے اختلاط  انہیں دعوت دینے اور سلفی منہج کی وضاحت کے لئے ناگزیر ہوجائے ، تو یہ صرف علماء کرام اور طالبعلم جو صحیح عقیدے، سنت اور منہج سلف صالحین میں راسخ وپختہ ہیں کریں گے ورنہ نہیں۔ (الحارثی)

September 17, 2012 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, عقیدہ ومنہج, گمراہ فرقے, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com