menu close menu

کیا ہماری یہود سے دشمنی دینی بنیادوں پر نہیں؟! – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Is not our opposition to Jews due to religious basis?! – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

کیا ہمارا یہود سے کسی دینی بنیاد پر جھگڑا نہیں؟!   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الاجوبۃ المفیدۃ عن الاسئلۃ المناھج الجدیدۃ س 20۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: آپ ایسے شخص کےبارے میں کیا کہیں گے جو کہتاہے کہ: ’’ہمارا یہود سے کوئی دینی بنیاد پر جھگڑا نہیں، کیونکہ قرآن کریم نے تو ان سے میل ملاپ اور دوستی کی ترغیب دی ہے‘‘؟([1])

جواب: اس کلام میں خلط ملط اور گمراہی پنہاں ہے۔ یہود کفار ہیں۔ اللہ تعالی نے انہیں کافر قرار دیا اور ان پر لعنت فرمائی۔ اسی طرح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کافر قرار دیا  اور ان پر لعنت فرمائی۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاءِيْلَ عَلٰي لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ﴾ (المائدۃ: 78)

(بنی اسرائیل کے کافروں پر  داود اور  عیسیٰ بن مریم  کی زبانی لعنت کی گئی)

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ‘‘([2])

(اللہ تعالی کی لعنت ہو یہود ونصاریٰ پر انہوں نے اپنے انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی قبروں کو مساجد بنالیا تھا)۔

اور اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا   ۭ اُولٰىِٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ﴾ (البینۃ: 6)

(بے شک جو لوگ اہل کتاب میں سے کافر ہوئے اور مشرکین سب جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، یہ لوگ بدترین خلائق ہیں)

اور فرمایا:

﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓى اَوْلِيَاءَ ۘبَعْضُهُمْ اَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ﴾ (المائدۃ: 51)

(اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ، یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک انہی میں سے ہے، بے شک ظالموں کو اللہ  تعالیٰ ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا)

پس ہماری ان سے عداوت دینی ہے۔ ہمارے لیے ان سے دلی دوستی ومحبت جائز نہیں۔ کیونکہ قرآن کریم ہمیں اس سے منع کرتا ہے، جیسا کہ گزشتہ آیت میں بیان ہوا۔

 


[1] یہ حسن البنا بانی فرقۂاخوان المسلمین کا قول ہے، کتاب: ’’الاخوان المسلمین احداث صنعت التاریخ‘‘ (اخوان المسلمین: تاریخ ساز واقعات) تالیف: محمود عبدالحلیم، جزء اول، صحیفہ: (409) میں آپ اصل کلام کو دیکھ سکتےہیں۔ اور اسی قسم کا کلام محمد المسعری خارجی کا ہے ان دونوں شخصوں کے مناہج مختلف ہونےکےباوجود اقوال کتنے ملتے جلتے ہیں اس کی وجہ ان کی یہی انقلابی تحریکوں والا منہج ہے۔ یہ وہ شخص ہے کہ جس نے اعلیٰ چیز کےبدلے ادنیٰ چیز لے لی یعنی ارض حرمین سرزمینِ توحید کو چھوڑ کر ارض کفر میں سکونت کو اختیار کیا اور کافروں کے قوانین کےذریعہ تحاکم وفیصلوں پر راضی ہوا (جس کا طعنہ یہ دوسروں کو دیتےہیں!)۔

چناچہ اخبار ’’الشرق الاوسط‘‘ عدد (6270) بتاریخ اتوار، 8/ رمضان/1416ھ؛ میں اس کا مندرجہ ذیل مقالہ شائع ہوا؛ کہتا ہے:

(سعودیہ کی جو موجودہ حالت ہے کہ وہ مسیحی اور یہودی لوگوں کو اپنی عبادات علی الاعلان کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ عنقریب ہماری کمیٹی (مزعوم شرعی حقوق کے دفاع کی کمیٹی) کے برسراقتدار آنے پر ایسا نہیں ہوگا۔ بلکہ لازم ہے کہ اقلیت کو ان کے حقوق دیے جائیں۔ جن میں سے یہ بھی ہے کہ اپنے گرجاگھروں میں اپنے دینی شعائر کا اظہار کریں، اور اپنی خاص شریعت کے مطابق شادی بیاہ کے معاملات کریں، مزید یہ کہ انہیں اپنی دینی زندگی گزارنے کی مکمل آزادی واجازت حاصل ہو چاہے وہ یہودی ہوں یا مسیحی یا پھر ہندو۔۔۔‘‘!!۔

اور کہا: ’’شریعت اسلامیہ میں گرجاگھروں کی تعمیر مباح ہے‘‘!!۔

بی بی سی نے خود اس کی اپنی آواز میں اتوار کی شب 29/06/1417ھ کو نشر کیا کہ: نیوز کاسٹر نے بتایا کہ تارک وطن سعودی محمد المسعری جو کہ لندن میں اقامت پذیر ہیں اور اپنے آپ کو ’’الجھادی‘‘ کے لقب سے ملقب کرتے ہیں کہتے ہیں کہ عنقریب ہماری طرح تارک وطن شیعہ لوگوں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ محاذ تشکیل دینے کا اعلان کرنے کے بارے میں اس ماہ کے آخر میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ پھر المسعری کی اپنی آواز ریڈیو پر نشر ہوئی کہتا ہے: ’’عنقریب ایک اشتراک تشکیل پائے گا، اور ہوسکتاہے کہ وہ ایک وسیع بلاک بن جائے کہ جس کے لیے ہم سرگرم عمل ہوں تگ ودو کریں اور آگے پیچھے رابطے قائم کرنے کی کوشش کریں۔ یہ ایک اسلامی تحریک ہوگی نا سنی نا شیعہ بلکہ صرف اسلامی تحریک ہوگی جو اسلام کے اجماعی اور قطعی احکامات پر قائم ہوگی کہ جس کے ذریعہ ہم تمام لوگوں کو جمع کرسکتے ہیں۔ تمام مسلمان چاہے سنی ہوں یا شیعہ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ مسلمانوں اور تارکین وطن کے حقوق کی حفاظت کرے گی اور اسلامی ممالک میں بھی تمام تارک وطن شہریوں کے حقوق خواہ وہ یہود ہوں یا نصاریٰ ومجوس وغیرہ کو مدنظر رکھے گی۔ لہذا اس معنی کے اعتبار سے ہماری یہ تحریک سیاسی ہے کہ جو اسلام کی اساس پر قائم ہے محض کسی خاص گروہ یا مذہب کی تحریک نہیں‘‘۔

میں یہ کہتا ہوں کہ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی خبط الحواسی اور اسلام کے خلاف جسارت ہوسکتی ہے؟!!۔ معسری کا آپ ﷺ کے اس فرمان کے تعلق سے پھر کیا خیال ہے:

’’أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ‘‘ (البخاری 2888، 2997، 4168 بروایت ابی مصعب، الکبری للبیھقی: (9/207)۔

(مشرکین کو جزیرۂ عرب سے نکال دو)۔

پھر کیا ایسا شخص جو اتنی واضح وواشگاف احادیث نبوی سے جاہل ہو قائد تحریک یا لیڈر بن سکتا ہے، الا یہ کہ وہ گمراہی واہوا پرستی کا امام وسربراہ بنے تو اور بات ہے۔ ہم اللہ تعالی ہی سے عافیت و سلامتی کے خواستگار ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ شاعر کے اس قول کی زندہ تعبیر ہے:

ودارھم مادمت فی دارھم                                                                              وارضھم ما دمت فی ارضھم

(جیسا دیس ویسا بھیس ۔۔۔کیونکہ یہ شخص خود نصاری کے پاس بریطانیہ میں پناہ گزین ہے)۔

ویسے اخبار ’’الریاض‘‘ عدد (12182) بروز بدھ بتاریخ 15 شعبان، 1422ھ میں سابق مفتئ اعظم سعودی عرب امام شیخ عبدالعزیز بن باز " کا مقالہ شائع ہوا تھا جس میں ہے کہ: ’’۔۔۔آجكل جو گمراه كن اور فساد سے بھرپور دعوت محمد المسعرى ، سعد الفقيہ اور ان جيسے ديگر افراد پھيلا رہے ہيں بلاشبہ يہ ايک بہت بڑا شر ہے،اور يہ افراد اس شرِ عظيم اور بڑے فساد كے داعى ہيں۔ پس ہم پر واجب ہے كہ ان كے لٹريچر سے لوگوں كو خبردار كريں اور ان كا قلع قمع كركے انہيں تلف كرديا جائے۔ اور ان كى شروفساد پر مبنى باطل وپرفتن دعوت كے سلسلے ميں ان سے عدم تعاون (بائيكاٹ) كيا جائے۔۔۔ ساتھ ہی ساتھ انہيں نصیحت كرنا اور حق كى جانب رہنمائى کرکے ان باطل نظريات سے بھی خبردار كرنا چاہيے۔ كسى كے لئے يہ قطعاً جائز نہيں كہ وه اس شر كى ترويج ميں ان كے ساتھ تعاون كرے۔۔۔ميرى يہ نصیحت ہے مسعرى، فقيہ اور (اسامہ) بن لادن اور جو بھى ان كے طريقے پر گامزن ہوکو كہ وه اس گندے طريقے كو چھوڑ ديں اور يہ كہ وه الله تعالی سے ڈريں اور اس كے انتقام اور غضب سے بچیں، اور رشدو ہدايت كے راستے كى طرف پلٹ آئيں اور جو كچھ ہو گزرا اس كے ليے الله تعالى سے توبہ واستغفار كريں۔اللہ تعالی نے اپنے تائب ہونے والے بندوں سے ان کی توبہ قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے‘‘۔ دیکھیں مجموع فتاوی ابن باز (9/100)۔ (الحارثی)

[2] البخاری 425، مسلم 531۔

September 17, 2012 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, عقیدہ ومنہج, گمراہ فرقے, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com