menu close menu

جن لوگوں کا رد مقصود ہو کیا ان کی اچھائیاں بھی بیان کرنا ضروری ہے – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Is it necessary to mention the goodness of those we intend to refute? – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

جن اشخاص کا رد مقصود ہو کیا ان کی اچھائیاں بیان کرنی چاہیے   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الاجوبۃ المفیدۃ عن الاسئلۃ المناھج الجدیدۃ س 10۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: کیا ہمارے لئے لازم ہے کہ ہم ان لوگوں کے محاسن واچھائیاں بھی بیان کریں جن سے ہم لوگوں کو خبردار کرتے ہیں؟

 

جواب: اگر آپ ان کے محاسن بیان کریں گے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ان کی پیروی کرنے کی دعوت دے رے ہیں، ہرگز نہیں، ان کے محاسن بالکل بیان نہیں کئے جائیں گے۔

 

بس اس غلطی کا ذکر کریں جس کے وہ مرتکب ہیں؛ کیونکہ آپ اس بات کے ذمہ دار نہیں کہ ان کے حالات کا تزکیہ دیں، بلکہ آپ اس غلطی کو بیان کرنے کے ذمہ دار ہیں جو ان میں پائی جاتی ہے تاکہ وہ اس سے توبہ کریں، اور اس لئے بھی کہ دوسروں کو اس سے خبردار کریں۔ اور جو غلطی ان میں پائی جاتی ہے ہوسکتا ہے کہ وہ ان کے تمام حسنات کو ہی مٹا دے اگر وہ کفر وشرک ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ان کے حسنات پر بھاری ہوں، یا پھر وہ آپ کی نظر میں تو حسنات ہوں مگر عنداللہ حسنات شمار نہ ہوں([1]

 


[1] اہل بدعت کے محاسن و اچھائیاں بیان کرنا لوگوں کو دھوکہ دینا ہے اگرچہ آپ ان کی برائیاں بھی کیوں نہ بیان کریں، کیونکہ جب تک آپ ان کی تعریف خیر کے ساتھ بیان کرتے رہیں گےلوگ ان کی برائیوں کی طرف نظر نہیں کرتے، اور اہل بدعت پر نقد کرتے ہوئے ان کی تعریف بھی کرنا منہج سلف صالحین نہ تھا۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو دیکھیں حسین کرابیسی کا حال بیان کرتے ہوئے اس کی تعریف نہیں کرتےاور اس کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’مبتدع‘‘ (وہ بدعتی ہے)، بلکہ اس سے اور اس کے ساتھ بیٹھنے تک سے خبردار فرمایا۔ اسی طرح محاسبی کے ساتھ بیٹھنے سے بھی انتہائی سختی کے ساتھ خبردار فرمایا۔ ان کا کلام کتاب ’’الاجوبۃ المفیدۃ‘‘ کے دیگر فتاوی میں نقل کیا گیا ہے۔

اور یہ امام ابو زرعہ رحمہ اللہ کو دیکھیں، ان سے حارث محاسبی اور اس کی کتابوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے سائل سے فرمایا: ’’إياك وهذه الكتب، هذه كتب بدع وضلالات، عليك بالأثر‘‘ (تم ان کتابو ں سے بچو کیونکہ یہ بدعت وگمراہی کی کتابیں ہیں، اور اثر (احادیث وآثار) کو لازم پکڑو)۔

محترم قاری آپ پر یہ بات مخفی نہ ہوگی کہ بیشک کرابیسی اور محاسبی علم کے سمندر تھے، اور خود ان کے بھی اہل بدعت پر رد موجود ہیں، مگر ان میں اول الذکر جوہے (کرابیسی) وہ  (ایک مسئلے) قرآن کریم کے تلفظ (کو مخلوق) کہنے کے بارے میں پھسل گیا، اور ثانی الذکر علم الکلام کے بارے میں پھسل گیا جب اس نے اہل کلام پرسنت کے ذریعہ رد کرنے کے بجائے  خود علم الکلام سے رد کرنے کی کوشش کی۔ یہی وہ اہم نکات تھے جن کا امام احمد "نے رد فرمایا تھا۔ دیکھئے التهذيب: (٢/١١٧)، تاريخ بغداد: (٨/٢١٥-٢١٦)، السِّير للذهبي: (١٣/١١٠) (١٢/٧٩)۔

اسی طرح شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتابیں بھی سب سے بڑی دلیل ہے کہ جب اہل بدعت کی بدعت کا ذکر ہو تو ان کی اچھائیوں کا ذکر نہیں ہوگا؛ جبکہ ان کی کتابیں تو ردود اور نقد سے بھری ہوئی ہیں: پس آپ نے اہل منطق اور کلام پر ردفرمایا، اور اسی طرح جہمیہ، معتزلہ اور اشاعرہ پر رد فرمایا مگر ہم اس میں ان لوگوں کی اچھائیوں میں سے کسی بھی چیز کا تذکرہ نہیں پاتے۔ آپ نے بعض معین اشخاص کا نام لے کر بھی رد فرمایا: جیسا کہ اخنائی اور بِکری وغیرہ پر آپ کا ردہے، مگر اس میں ان کی ذرا بھی تعریف نہیں فرمائی۔ بلاشبہ ان میں سے کوئی بھی اچھائیوں سے خالی نہ تھا، لیکن نقد کرتے وقت اچھائیاں کا ذکر لازم نہیں، پس اس بات پر ذرا غور فرمائیں۔

رافع بن اشرس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’من عقوبة الفاسق المبتدع ألا تذكر محاسنه‘‘ شرح علل الترمذي : ( ١/٣٥٣ ) (فاسق وبدعتی کی عقوبت وسزا میں سے ہے کہ اس کی اچھائیاں بھی بیان نہیں کی جاتیں)۔ (الحارثی)

 

September 18, 2012 | الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com