Ruling pertaining to residing in the land of disbelief while fleeing from the oppressive rule of some Muslim countries and the ruling of taking their nationality? – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

بعض مسلم ممالک کے حکومتی مظالم کو بنیاد بنا کر بلاد کفر میں اقامت  اور وہاں کی شہریت حاصل کرنے کا شرعی حکم؟   

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ وفوائد: طارق بن علی بروہی

مصدر: کیسٹ أسباب النهوض بالأمة لفضيلة الشيخ ربيع بن هادي المدخلي، سلسلة جلسات رمضان: 20/ 9 / 1426هـ ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: احسن اللہ الیکم، یہ سوال ایک سلفی نوجوان کی طرف سے ہے جو کہ برطانیہ میں ہیں  وہ پوچھتے ہیں بعض مسلم ممالک کے حکومتی مظالم کو بنیاد بنا کر بلاد کفر میں اقامت  اور برطانوی شہریت حاصل کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب: واللہ اعلم نوے فیصد 90٪ لوگ جو یورپ یا امریکہ جاتے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ انہیں اپنی حکومتوں سے کسی تنگی کا سامنا ہو یا کوئی اور پریشانی ہو بلکہ اگر واقعی حکومت کی طرف سے کچھ تنگی کا سامنا ہوبھی تو اسے صبر کرنا چاہیے([1])۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو جب تکلیف دی گئی تو کیا وہ بھاگ کر بلاد کفر چلے گئے؟! میں آپ سے پوچھتا ہوں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ وغیرہ پھر امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو جب اذیتوں پر اذیتیں دی گئیں اور انہيں جیل میں ڈال دیا گیا تو کیا وہ بھاگ کر بلاد کفر چلے گئے؟! بارک اللہ فیکم۔ بلکہ انہیں چاہیے کہ صبر کریں اور اپنی ملک میں ہی رہیں خواہ جیل میں ہی کیوں نہ ہوں یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ وہاں جائيں خصوصاًیورپ وامریکہ ان کی تو باقاعدہ سرگرمیاں اور منصوبے ہيں کہ مسلمانوں کو اپنے معاشروں میں (مختلف طریقوں سے) بھرتی کریں ، پھر انہیں نصرانی ، ملحد وزندیق بنائیں۔  اور یہ تو ان کے قدیم منصوبے ہیں اور اب تو ان کی تطبیق کی جارہی ہے اور بہت سے داعیان سوء اور علماء سوء کوشش کررہے ہیں کہ کس طرح مسلمانوں کو یورپی معاشروں میں بھر دیا جائے۔

پس آپ کیوں ان ملکوں میں جاتےہیں اور کیوں صبر نہیں کرتے اگرچہ حکومت  کی طرف سے آپ کو تنگی کا سامنا ہی کیوں نہ ہو، صبر کریں یہی آپ کے لیے بہتر ہے۔ حالانکہ  حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے یونہی چلے جاتے ہيں حکومت کی طرف سے انہیں کوئی پریشانی نہيں ہوتی محض ان کے ملکوں میں کھانے پینےاور یہودونصاریٰ کی خدمت کرنے جاتے ہیں، اپنے آپ کو بھی ذلیل کرواتے ہیں اور اسلام کو بھی۔ بارک اللہ فیکم۔ اللہ تعالی نے تو رزق کا وعدہ فرمایا ہے:

﴿وَمَنْ يَّتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا،وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾  (الطلاق: 2-3)

(اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی نہ کوئی راستہ بنا دے گا، اور اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سےاس کا وہم وگمان بھی نہ ہوگا)

آپ کے ذمے صرف یہی ہے کہ اللہ تعالی کا تقویٰ اختیار کریں پھر دیکھیں آپ کو کس طرح رزق ایسی جگہ سے ملتا ہے جو آپ کے وہم وگمان میں بھی نہ ہو۔ کوئی بھی نفس اس وقت تک ہرگز بھی مرنہیں سکتا جب تک اللہ تعالی نے جو رزق اس کے لیے لکھ دیا ہے پانا لے([2])۔  دراصل شیطان نے ان کے لیے مغربی ممالک میں جانا مزین کرکے دکھا دیا ہے، تاکہ وہاں ایسے جییں جیسے جانور جیتے ہیں، ذلت وخواری کے ساتھ پھر آزمائشیں اور خطرات انہیں اور ان کے خاندان کو جکڑ لیتے ہیں۔ جب آپ کا بیٹا 6 سال کا ہوجاتا ہے تو کہاں پڑھتا ہے؟ یہود، ملحدوں، سیکولر اور نصاریٰ کے اسکولوں میں پڑھتا ہے اور وہ بلاتفریق اسے اپنا ہی دین پڑھاتے ہیں، بارک اللہ فیکم۔

اور رہا مسئلہ کافر ممالک کی شہریت حاصل کرنا اسلامی ملک کی شہریت کے بدلے تو بعض علماء نے اس پر تکفیر کی ہے(یعنی یہ کفر ہے)([3])۔  کیونکہ وہ ان کے ملک کی شہریت حاصل کرہی نہیں پاتے جب تک وہ اس ملک کے قوانین کے آگے سرنگو ہونا قبول نہ کریں، اور اپنی ولاء وبراء (وفاداری ودشمنی) کی بنیاد اس وطن کے لیے نہ کردیں، اور وہ ان کے لیے جنگ تک کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے یعنی اگر مسلمان فوج کسی کافر ملک پر حملہ آور ہو تو وہ اسلامی فوج کے خلاف لڑے گا کیونکہ اب وہ ان دشمنان الہی کا سپاہی بن چکا ہے اور پورا مستعد ہے اس کے لیے۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ وہ اسے مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی تربیت دیں کہ ان کے ملکوں میں جاکر ان کے خلاف لڑو جیسا کہ افغانستان میں ہوا کہ انہوں نے مسلمانوں کو ہی افغانیوں سے قتال کرنے کے لیے روانہ کردیا اور بعض علماء سوء کی طرف سے فتویٰ تک صادر کردیا گیا کہ ان کے لیے جائز ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف لڑیں تاکہ اپنی شہریت کا تحفظ کرسکیں اور امریکا کے لیے اپنی ولاء (محبت ووفاداری) کو ثابت کرسکیں۔ اور یہ فتویٰ (مصری مفتی اخوان المسلمین کے لیڈر) قرضاوی نے صادر کیا کہ جس کی وجہ سے ان مسلمانوں میں بڑے منصب پر فائز ہوگیا۔بارک اللہ فیکم۔ اور کتنے ہی ایسے فاسد فتاویٰ ہیں۔ اللہ تعالی سے ہی عافیت کا سوال ہے۔

اب مغربی ممالک میں ان اہداف کی تکمیل کے لیے زوروشور سے یہ سرگرمیاں جاری ہیں کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو مغربی ممالک میں بھرتی کیا جائے۔ ان حالات کے ہوتے ہوئے آپ کیسے وہاں جاسکتے ہیں؟! بلکہ مسلمانوں پر تو واجب ہے کہ وہ انہیں چھوڑ کر واپس اپنے وطن ہجرت کرآئیں۔ جبکہ وہ سن چکے ہیں انہیں مغربی معاشرے میں ضم کرنے اور وہاں سرمایہ کاریاں کرنے کی سرگرمیاں اور کوششیں جاری ہیں ۔


[1] جیسا کہ احادیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:  ’’الْمُسْلِمُ إِذَا كَانَ مُخَالِطًا النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ خَيْرٌ مِنَ الْمُسْلِمِ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ‘‘ (صحیح ترمذی 2507) (وہ مسلمان جو (مسلمان) لوگوں کے ساتھ مل کر رہتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچے والی اذیتوں پر صبر کرتا ہے وہ اس مسلمان سے بہتر ہے جو نہ ان کے ساتھ مل کررہتا ہے اور نہ ہی ان کی طرف سے ملنے والی اذیتوں پر صبر کرتا ہے) اور فرمایا: ’’الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ‘‘ (صحیح ابن ماجہ 3273) (وہ مومن جو لوگوں کے ساتھ مل کر رہتا ہے اور ان کی طرف سے ملنے والی اذیتوں پر صبر کرتا ہے زیادہ عظیم اجر کا مستحق ہے اس مومن کی نسبت جو نہ ان کے ساتھ مل کر رہتا ہے اور نہ ان کی طرف سے ملنے والی اذیتوں پر صبر کرتاہے)۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[2] امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اپنی سنن 2144 میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ذکر کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، فَإِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ رِزْقَهَا، وَإِنْ أَبْطَأَ عَنْهَا، فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، خُذُوا مَا حَلَّ وَدَعُوا مَا حَرُمَ‘‘ (اے لوگو! اللہ تعالی سے ڈرو اور اچھے طریقے (حلال واعتدال) سے روزی طلب کرو، کیونکہ بلاشبہ کوئی جان اس وقت تک ہرگز بھی نہیں مرسکتی جب تک وہ اپنا رزق پورا نہ کرلے، اگرچہ اس کے حصول میں دیر ہی کیوں نہ ہوجائے۔ لہذا اللہ تعالی سے ڈرو اور اچھے طریقے سے روزی طلب کرو۔ جو حلال ہے وہ لے لو اور جو حرام ہے وہ چھوڑ دو) شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح ابن ماجہ 1756 میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

[3] علماء کرام نےاس سے منع فرمایا ہے اور ناجائز کہا ہے کہ یہ کفر وشرک تک لے جاتا ہے اور اس کے علاوہ بھی دین واخلاق کے کئی مفاسد اس میں پنہاں ہیں۔ انہوں نے اس آیت سے استدلال فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ  ۭقَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۭقَالُوْٓا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُھَاجِرُوْا فِيْھَا  ۭفَاُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ   ۭوَسَاءَتْ مَصِيْرًا، اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ حِيْلَةً وَّلَا يَهْتَدُوْنَ سَبِيْلًا،  فَاُولٰۗىِٕكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّعْفُوَ عَنْھُمْ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًاو وَمَنْ يُّھَاجِرْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ يَجِدْ فِي الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِيْرًا وَّسَعَةً  ۭ وَمَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ مُھَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ  ۭ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا﴾ (النساء: 97-100) (بے شک وہ لوگ جنہیں فرشتے اس حال میں وفات دیتے(روح قبض کرتے ) ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں، کہتے ہیں تم کس کام میں تھے؟ وہ کہتے ہیں ہم اس سرزمین میں نہایت کمزور تھے۔ وہ کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟ تو یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ لوٹنے کی بری جگہ ہے، ہاں البتہ وہ نہایت کمزور مرد اور عورتیں اور بچے جو نہ کسی تدبیر کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ کوئی راستہ پاتے ہیں، تو قریب ہے کہ ان لوگوں سے اللہ تعالی درگزر فرمائے گا اور اللہ تعالی تو ہمیشہ سے بے حد معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والاہے، اور وہ شخص جو اللہ کے راستے میں ہجرت کرے، وہ زمین میں پناہ کی بہت سی جگہ اور بڑی وسعت پائے گا اور جو اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلے، پھر اسے موت پالے تو بے شک اس کا اجر اللہ تعالی پر ثابت ہوگیا، اور اللہ تعالی تو ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے) اور ان احادیث سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِمَ؟ قَالَ: لَا تَرَايَا نَارَاهُمَا‘‘ (صحیح ترمذی 1604، صحیح ابی داود 2645) (میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے،صحابہ نے فرمایا ایسا کیوں یا رسول اللہ؟ فرمایا: ان دونوں کی آگیں ایک دوسرے کو دکھائی نہيں دینی چاہیے (یعنی ایک دوسرے سے دور رہنا چاہیے)) اور فرمایا: ’’لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْ مُشْرِكٍ أَشْرَكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلًا حَتَّى يُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ‘‘ (صحیح ابن ماجہ 2071) (اللہ تعالی کسی بھی مشرک سے جو کہ پہلے شرک کرتا تھا پھر اسلام لے کر آیا اس وقت تک کوئی عمل قبول نہيں کرتا جب تک وہ مشرکوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کی طرف نہ آجائے) اور فرمایا: ’’مَنْ جَامَعَ المُشْرِكَ، وَسَكَنَ مَعَهُ فَإِنَّهُ مِثْلُهُ‘‘ (صحیح ابی داود 2787) (جو مشرک کے ساتھ جمع ہو یا اس کے ساتھ سکونت اختیار کرے تو وہ بے شک اسی جیسا ہے) وغیرہ۔ دیکھیں فتاویٰ از شیخ ابن باز، عبدالرزاق عفیفی، عبداللہ بن قعود، عبدالعزیز آل الشیخ، عبداللہ الغدیان، صالح الفوزان، بکرابوزید فتوى اللجنة الدائمة للافتاء رقم 2393، رقم 6582، شیخ البانی سلسلة الهدى والنور 513، شیخ ابن باز شرح بلوغ المرام كتاب الجهاد کیسٹ 1، شرح الاصول الثلاثہ از شیخ ابن عثیمین، شیخ صالح الفوزان فتویٰ 867، سن 2005ع، رقم 7293 سن2003ع ، رقم 8221 سن 2006ع جس میں انہوں نے بتایا کہ المجمع الفقهي اور بحوث العلمیہ نے بھی اس کے ناجائز ہونے کا فتویٰ دیا ہے، شیخ احمد النجمی ’’فتح الربّ الودود في الفتاوى والرّسائل والرّدود‘‘، شیخ مقبل ’’أسئلة بعض المغتربين في أمريكا‘‘ اور ’’أسئلة السلفيين البريطانيين‘‘  میں اسی فتویٰ کے ساتھ شیخ عبداللہ السبیل  کا رسالہ ’’حكم التجنس بجنسية دولة غير إسلامية‘‘  (غیر اسلامی ملک کی شہریت لینے کا شرعی حکم) پڑھنے کا مشورہ دیتےہیں۔ اس رسالے میں شیخ السبیل نے ان آیات سے استدلال فرمایا ہے: البقرۃ: 120، 217، آل عمران: 28، 149، 162، النساء: 97، 140، المائدۃ: 51، 80، 81، الانعام: 121، الاعراف: 175، ھود: 113، النحل: 106-107، الکہف: 20، الحج: 11، محمد 26-28، الحشر: 11، المجادلۃ: 22، الممتحنۃ: 1۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

muslim_mumalik_zulm_iqama_diyar_kufr_nationality