When a person can be labelled as a Khārijite? – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

ایک شخص کب خارجی کہلاتا ہے؟

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ و ترتیب: طارق بن علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال:احسن اللہ الیکم، سائل کہتا ہے: کیا ہر وہ شخص جو امام (حکمران) کے خلاف نکلے خارجی کہلاتا ہے، یا پھر لازم ہے کہ اس کے ساتھ عقیدے کے ان مسائل کا بھی اعتقاد رکھتا ہو کہ جن سے کوئی خارجی بنتا ہے جیسے کبیرہ گناہ کے مرتکب کی تکفیر اور ہمیشہ جہنم میں رہنے کا عقیدہ وغیرہ؟

جواب: خوارج کی کچھ صفات ہیں([1])۔  جن میں  سےحکمران پر خروج کرنا اور کبیرہ گناہو ں  پر تکفیر کرناہے۔ کبیرہ گناہ پر تکفیر کرنا یہ اصل ہے، دراصل وہ حکمران پر خروج نہيں کرتے مگر اسی لیے کہ وہ اس کی تکفیر کررہے ہوتے ہیں، کبیرہ گناہ کے ارتکاب پر اس کی تکفیر کررہے ہوتے ہیں۔ تو اصل اس کی یہی ہوتی ہے کہ وہ ان کبیرہ گناہوں کے ارتکاب پر جو کہ شرک سے کم تر ہوتے ہیں تکفیر کرتے ہيں، پھر اسی سے ان کا یہ عمل یعنی حکمران پر خروج کرنا نکلتا ہے اور اسی سے مسلمانوں کے خون بہانے کو حلال سمجھنا نکلتا ہے۔ یہ سب اسی وجہ سے مرتب ہوتے ہیں کیونکہ وہ کبیرہ گناہ کی وجہ سے تکفیر کرتے ہيں، یہ ہے ان کا مذہب۔ تو ان کی گمراہی کا سبب یہی کبیرہ گناہ پر تکفیر کرنا ہے، اللہ تعالی ہی سے عافیت کا سوال ہے۔

ایک بات اور، جو بھی ان کی خصلتوں میں سے کسی بھی خصلت میں مبتلا ہو تو وہ انہی میں سے ہے۔ لہذا جو حکمران کے خلاف خروج کرے وہ خوارج میں سے ہے، جو کبیرہ گناہ پر تکفیر کرے وہ خوارج میں سے ہے، جومسلمانوں کے خون کو حلال جانے وہ خوارج میں سے ہے، اور جو ان تینوں کو جمع کردے تو وہ خوارج کی شدید ترین انواع میں سے ہے۔

سوال: احسن اللہ الیکم فضیلۃ الشیخ، یہ سائل کہتا ہے: میرا سوال سابقہ سوال ہی سے متعلق ہے کہ: کیاخروج کے معنی میں زبان سے خروج اور دل کا عقیدہ بھی آتا ہے اگرچہ وہ اسلحہ نہ اٹھائے یا خوارج جن مسائل کے قائل ہيں ان کا اظہار نہ کرے؟

جواب: یہ جیسا کہ ہم نے بتایا جو کوئی بھی ان کی خصلتوں میں سے کسی بھی خصلت مین مبتلا ہو تو وہ انہی میں سے برابر ہے کہ وہ عقیدے میں ہو اگرچہ زبان سے کچھ بھی نہ کہے، اگر وہ خوارج کو صحیح سمجھتا ہے اور انہیں حق پر سمجھتا ہے (تو انہی میں سے ہے)([2])۔ لیکن یہ بات تو اللہ تعالی کے سوا کوئی نہيں جانتا، ہمارے لیے تو بس ظاہر ہے، ہوسکتا ہے وہ خوارج میں سے ہو لیکن ہمیں پتہ نہ ہو، کیونکہ وہ ایسا عقیدہ و نظریہ رکھتا ہے۔ البتہ یہ خوارج میں سے اس وقت ہوجائے گا جب ان جیسا کلام کرے اور مسلمانوں کی تکفیر کرے اور اس بات کو اپنی زبان سے ظاہر کردے۔ اور اس سے بھی شدید تر تب ہوجائے گا جب وہ اسلحہ اٹھا لے تو وہ خوارج میں سے ہے۔۔۔

[فتویٰ: متى يحكم على الشخص بأنه خارجي؟]

سوال: احسن اللہ الیکم فضیلۃ الشیخ، یہ سائل کہتا ہے: کوئی شخص کب خوارج کہلاتا ہے، کیا اگر وہ ان کی خصلتوں میں سے محض ایک خصلت پر عمل کرلے توانہی میں شمار ہوتا ہے، یا پھر ضروری ہے کہ وہ ان کے تمام باتوں کے مطابق  عقیدہ رکھے اور عمل کرے؟

جواب: جو کوئی خوارج والا عمل کرے اور جس چیز کے وہ قائل ہيں وہ بھی اس کا قائل ہو تو وہ خوارج میں ہی شمار ہوگا۔ خوارج مسلمان حکمران کے خلاف نکلتے ہيں اور بغاوت کرتے ہيں جو کوئی اس عقیدے جیسا عقیدہ رکھے یا مسلمانوں کے حکمران کے ساتھ ایسا سلوک کرے تو وہ خوارج میں سے ہے۔

اس کے علاوہ وہ بھی جو مسلمانوں کی ان کبیرہ گناہوں  پر تکفیر کرتا ہے جو شرک سے کم تر ہیں تو یہ خوارج کا مذہب ہے۔جو کوئی مسلمانوں کی ایسی معصیت ونافرمانی کی بنا پر جو شرک سے کم تر ہوں تکفیر کرتا ہے تو وہ خوارج میں شمار ہوگا۔ یہ ہے خوارج کا مذہب،  اللہ تعالی سے عافیت  کا سوال ہے۔

لہذا ضروری ہے کہ ایک انسان صحیح عقیدہ سیکھے اور اللہ کے دین کا فقہ و سمجھ حاصل کرے اور ان فاسد اور بدعتی جماعتوں سے اجتناب کرے، اور وہ ان کی کتابیں نہ پڑھے جبکہ وہ علم میں پختہ نہیں اور حق کو مکمل طرح سے جانتا نہیں۔ اسے چاہیے کہ صحیح عقیدہ اہل علم کے پاس پڑھے  اور اس میں تفقہ حاصل کرے تاکہ یہ مذاہب اسے ہلاکت میں نہ ڈال سکیں۔

[فتویٰ: من علامات الخوارج]


[1] دیگر تفصیل کے لیے پڑھیں ہماری شائع کردہ کتابیں ”موجودہ دور کے خوارج کی بعض نمایاں صفات اور فرقہ داعش کی حقیقت “ اور ” گمراہ فرقوں کا مختصر تعارف “ از شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[2] جس طرح سے اپنے دیگر فتاویٰ  میں شیخ نے واضح فرمایا ہے کہ زبان سے حکومت مخالف باتيں کرکے ابھارنے والے، اور دل سے موجودہ حکمرانوں کی امار ت و بیعت و سمع و طاعت کا عقیدہ و نظریہ نہ رکھنے والے، اسی طرح ان کا دفاع کرنے، صحیح کہنے، سراہنے، جواز پیش کرنے اور خوارج نہ سمجھ کر خاموشی اختیار کرنے والوں کو بھی انہی میں شمار فرمایا ہے، تفصیل کے لیے پڑھیں ہماری ویب سائٹ پر  ”کیا حکمرانوں پر خروج صرف تلوار کے ذریعے ہوتا ہے؟“  اور شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کے فتاویٰ  ” الأجوبة المفيدة عن أسئلة المناهج الجديدة“و ” الإجابات المهمة في المشاكل الملمة“ میں۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

kharijee_kab_kehlata_hai