The misleading slogans of women’s freedom – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

آزادئ نسواں کے پرفریب نعرے

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: الإجابات المهمة فى المشاكل الملمة، شبهة: ج 3 ص 479۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال:پچھلے کچھ برسوں سے عورتوں (کی آزادی) پر بہت بات کی جاتی ہے اور ان کا دفاع کیا جاتا ہےاس زعم کے ساتھ کہ (ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف) ہم ان کی مدد و نصرت کررہے ہیں(ان کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں) ا س کا ظاہر تو اصلاح نظر آتا ہے لیکن باطن جیسا کہ معلوم ہے خباثت و مکرو فریب سے لبریز ہوتا ہے، ان باتوں کا ان کے ایمان پر کیا اثر پڑتا ہے اور آپ کی ان کے لیے کیا نصیحت ہے ؟

جواب: اسلام میں جو عورت کا مقام ہے تو اللہ تعالی نے اس کے ساتھ بھرپور انصاف فرمایا ہے، اور اس کی حمایت و حفاظت فرمائی ہے، اور اسے وہ کچھ پہلے ہی عطاء کردیا ہےجس کی وہ مستحق ہے۔ اب تک ایک مسلمان عورت عزت و احترام کے ساتھ جیتی چلی آرہی ہے خصوصاً ہمارے ملک میں الحمدللہ۔ محفوظ ہے، محترم ہے اور باعزت ہے۔

پس جو کوئی عورت کی نصرت کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ان کافروں کے خلاف اس کی مدد و نصرت کرے جو اس کی توہین کرتے ہیں، اور اس کا حق غصب کرتے، ظلم کرتے اور اسے اپنی شہوات و خواہشات کے لیے ایک سستا سامان بنا کر رکھتے ہیں، اور جو زمین میں فساد پھیلانے والے ہیں۔

لیکن اسے(عورت کو)  اسلام ہی سے آزاد کرنے کی بات کرناتو یہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت مول لینا ہے اور خود عورت پر ہی ظلم کرنا ہے۔

azadi_niswa_purfareb_naray