The meaning of Taghoot – Shaykh Muhammad bin Abdul Wahhab

طاغوت کا معنی

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ المتوفی سن 1206ھ

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: معنى الطاغوت۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ امام محمد بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

جان لیں (اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے) بے شک سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالی نے بنی آدم پر فرض قرار  دی ہے وہ طاغوت سے کفر(انکار) کرنا اور اللہ تعالی پر ایمان لانا ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿ وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ﴾ (النحل: 36)

(اور تحقیق ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا  (جس نے یہ دعوت دی ) کہ اللہ تعالی کی عبادت کرو اور طاغوت (کی عبادت) سے بچو)

جہاں تک طاغوت سے کفر کرنے کی کیفیت کا تعلق ہے تو وہ اس طرح ہوتا ہے کہ:

آپ غیراللہ کی عبادت کے باطل ہونے کا عقیدہ رکھیں، اسے ترک کردیں اور اس سے بغض رکھیں، اس کے اہل کو کافر جانیں اور ان سے دشمنی و عداوت رکھیں۔

جبکہ اللہ پر ایمان لانے کا معنی ہے کہ:

آپ یہ عقیدہ رکھیں کہ بلاشبہ اللہ تعالی ہی اکیلا الہ و معبود برحق  ہے اس کے سوا کوئی (معبود برحق) نہیں۔

اور تمام تر عبادت کی انواع کو اس کے لیے خالص کریں کہ وہ سب کی سب اللہ تعالی ہی کے لیے ہیں، اور ان (انواع عبادت)  کی اس کے سوا ہر ایک سے نفی کریں۔

اور اہل اخلاص سے محبت اور دوستی کریں، جبکہ اہل شرک سے بغض رکھیں اور دشمنی کریں۔

یہی وہ ملت ابراہیمی ہے کہ جس سے روگردانی کرنے والا خود اپنے آپ کو بیوقوف بنانے والا ہے([1])۔

اور یہی وہ اسوۃ (قابل پیروی نمونہ) ہے جس کی خبر اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں دی ہے:

﴿قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ  كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗٓ﴾  (الممتحنہ: 4)

(یقینا ًتمہارے لیے ابراہیم اور ان لوگوں میں جو ان کے ساتھ تھے ایک اچھا نمونہ تھا، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بے شک ہم تم سے اور ان تمام چیزوں سے بری ہیں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو،  ہم تمہیں نہیں مانتے اور ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہوگیا، یہاں تک کہ تم اس اکیلے اللہ پر ایمان لاؤ)

اور طاغوت عام ہے ہر اس کو جس کی اللہ کے سوا  عبادت کی جائے اور وہ اپنی عبادت سے راضی ہو چاہے معبود ہو، یا متبوع(اس کی اتباع کی جائے) ہو یا مطاع (جس کی اطاعت کی جائے) ہو جس کی اللہ تعالی اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی اطاعت کے برخلاف اطاعت کی جاتی ہو، تو وہ طاغوت ہے۔

اور طواغیت (طاغوت کی جمع) بہت زیادہ ہیں جن کے سرغناں پانچ ہیں:

1- شیطان: جو غیراللہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہے۔

اس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ﴾ (یس: 60)

(کیا میں نے تمہیں تاکیدنہ کی تھی اے اولاد آدم ! کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے)

2- سرکش  حکمران جو احکام الہی کو بدل دیتا ہے۔

اس کی دلیل فرمان الہی:

﴿اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاكَمُوْٓا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ يَّكْفُرُوْا بِهٖ ۭ وَيُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّضِلَّھُمْ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا﴾  (النساء: 60)

(کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو گمان کرتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں جو تمہاری طرف نازل کیا گیا اور جو تم سے پہلے نازل کیا گیا۔ چاہتے یہ ہیں کہ آپس کے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جائیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ اس سے کفر کریں۔ اور شیطان چاہتا ہے کہ انہیں بہت دور کی گمراہی میں گمراہ کر دے)

3- جو اللہ تعالی کے نازل کردہ کے علاوہ حکم کرے۔

اس کی دلیل فرمان الہی:

﴿وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ﴾  (المائدۃ: 44)

(اور جو اس کے مطابق حکم نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں)

4- جو اللہ کے علاوہ علم غیب کا دعویٰ کرے۔

اس کی دلیل فرمان الہی:

﴿عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰي غَيْبِهٖٓ اَحَدًا، اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا﴾  (الجن: 26-27)

((وہ) عالم الغیب (غیب کو جاننے والا)  ہے، پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا، مگر کوئی رسول، جسے وہ پسند کرلے توبے شک وہ اس کے آگے اور اس کے پیچھے پہرا لگا دیتا ہے)

اور فرمایا:

﴿وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ  ۭ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۭ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ﴾  (الانعام: 59)

(اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں، انہیں کوئی نہیں جانتا اس کے سوا ، اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے، اور کوئی پتا  اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ بھی نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے، اور نہ کوئی تر ہے نہ خشک مگر وہ ایک واضح کتاب (لوح محفوظ) میں (لکھا ہوا) ہے)

5- جس کی اللہ تعالی کے سوا عبادت کی جائے اور وہ اس عبادت سے راضی ہو۔

اس کی دلیل فرمان الہی:

﴿وَمَنْ يَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّىْٓ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِيْهِ جَهَنَّمَ  ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ﴾  (الانبیاء: 29)

(اور ان (فرشتوں) میں سے جو یہ کہے کہ بے شک میں اس (اللہ) کے سوا معبود ہوں تو یہی ہے جسے ہم بدلے میں جہنم دیں گے۔ ایسے ہی ہم ظالموں کو سزا دیتے ہیں)

یہ جان لیں کہ ایک انسان اس وقت تک اللہ پر ایمان لانے والا مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ طاغوت سے کفر نہ کرے۔ اس کی دلیل فرمان الہی:

﴿لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ ڐ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ  ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ۤ لَا انْفِصَامَ لَهَا  ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ﴾ (البقرۃ: 256)

(دین میں کوئی زبردستی نہیں، بلاشبہ ہدایت گمراہی سے جدا ہوکر واضح ہوچکی، سو جو کوئی باطل طاغوت سے کفر کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو یقیناً اس نے ایسے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جسے کسی صورت ٹوٹنا نہیں، اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے)

یہاں ﴿الرُّشْدُ﴾ سے مراد دین محمد  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ہے۔

اور ﴿الْغَيِّ﴾ سے مراد دین ابو جہل ہے۔

اور ﴿الْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى﴾ سے مراد لا الہ الا اللہ کی گواہی ہے، جو کہ نفی و اثبات پر مشتمل ہے۔

یعنی یہ (گواہی) تمام انواع عبادت کی غیراللہ سے نفی کرتی ہے، اور تمام انواع عبادت سب کی سب کو اکیلے اللہ تعالی کے لیے بلاشرکت ثابت کرتی ہے۔


[1] اس آیت کی طرف اشارہ ہے:  ﴿وَمَنْ يَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰھٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ﴾ (البقرۃ: 130) (اور ابراہیم کی ملت سے اس کے سوا کون روگردانی کرے گا جس نے اپنے آپ کوہی  بیوقوف بنا لیا ہو) (توحید خالص ڈاٹ کام)

taghoot_ka_mana