Sufficient for us is Allah, and [He is] the best Disposer of affairs – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الملخص فى شرح كتاب التوحيد ص 271- 272 مختصراً۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

”حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ“

یہ وہ کلمہ ہے جو ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے اس وقت کہا تھا جب انہيں آگ میں ڈالا جارہا تھا۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت کہا جب ان سے کہا گیا کہ:

﴿اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِيْمَانًا ڰ وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾ (آل عمران: 173)

(بے شک لوگوں نے تمہارے لیے (فوج) جمع کرلی ہے، سو ان سے ڈرو، تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور زیادہ کردیا ،اور انہوں نے کہا ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ کیا ہی خوب کار ساز ہے) ([1])

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی تعالی نے:

ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی اس کلمے کی برکت سے مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا کہ: تو ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا ابراہیم پر  (الانبیاء: 69)۔

محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصرت فرمائی اور اس عظیم کلمے کی برکت سے فرمایا: تو وہ اللہ کی طرف سے بڑی نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹے،انہیں کسی برائی نے چھوا تک نہيں (آل عمران: 174)۔

اس اثر سے ہمیں یہ استفادہ حاصل ہوا:

1- اس کلمے کی فضیلت، اور چاہیے کہ اسے کرب و مشکلات کے وقت پڑھا جائے۔

2- بے شک اللہ پر توکل دنیا و آخرت میں خیر کو پانے اور شر کو دور کرنے کے عظیم ترین اسباب میں سے ہے۔

3- بلاشبہ ایمان میں کمی زیادتی ہوتی ہے۔

4-  بہت سی چیزیں جنہيں انسان بظاہر ناپسند کررہا ہوتا ہے ہوسکتا ہے کہ اس کے لیے بہتر ہوں۔


[1] صحیح بخاری 4563۔

hasbunallaaho_wa_nemal_wakeel